منتخب تحریریں

حلالہ

Share

چاچا حاکم کچھ پریشان تھا۔ اس کے سخت ہاتھوں میں لرزش تھی۔ اسے رعشہ یا اس طرح کا کوئی مرض نہیں ہے۔ اس کے ہاتھوں کی تھرتھراہٹ عارضے کی نہیں، کسی غیر معمولی صورتِ حال کا پتا دے رہی تھی۔
میں نے جلدی سے بیٹھک کا دروازہ کھولا۔ اسے بٹھایا۔ یہ اس کے گشت کا وقت تھا۔ اسے اپنے دروازے پر دیکھ کر مجھے حیرت ہو رہی تھی۔ ”چاچا کیا بات ہے؟ آج ڈیوٹی کا موڈ نہیں ہے‘‘؟ میں نے چاہا کہ ماحول کو خوش گوار بنایا جائے اور اس پریشانی کا راستہ روکا جائے جو چاچا حاکم کے چہرے سے اٹھ کر، پورے کمرے پر قبضہ کرنے کے درپے تھی۔
”پتر! مجھے تم سے ایک ضروری مسئلہ پوچھنا ہے۔ تمہارے آنے کا پتا چلتا ہے نہ جانے کا۔ میں نے سوچا کیا معلوم کب چلے جاؤ، آج ہی مل لوں‘‘۔ چاچا حاکم نے میرے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے، شتابی سے آنے کا مدعا بیان کر دیا۔ گاؤں کے لوگ مجھے پڑھا لکھا سمجھتے ہیں۔ بس یوں جانیں کہ اندھوں میں کانا راجہ۔ والد صاحب بہت سی دینی کتابیں چھوڑ گئے تھے۔ انہیں کیڑوں سے بچانے کے لیے چھٹی کے دن دھوپ دکھاتا تو ساتھ ورق گردانی شروع کر دیتا۔ صفحات پلٹتے پلٹتے چند الفاظ پڑھ بھی لیتا۔ کوئی گلی سے گزرتا تو چاروں طرف پھیلی کتابوں کو دیکھ کر اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتا کہ یہ میرے علم کے مظاہر بکھرے ہوئے ہیں۔ اس غلط فہمی نے مجھے عالم مشہور کر دیا۔ شہرت جیسی بھی ہو، اس کا بھرم رکھنا پڑتا ہے۔ یوں کسی مشکل وقت سے بچنے کیلئے چاروناچار، چند کتابیں پڑھ ڈالیں۔
آج بھی مجھے ایسے ہی ایک مشکل وقت کا سامنا تھا۔ چاچا حاکم نے ابھی سوال کے لیے تمہید ہی باندھی تھی کہ کم علمی کے خوف نے مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ”ہاں چاچا، پوچھو‘‘؟ میں نے خوف کی چادرکو اپنے تئیں اتار پھینکا۔ بڑھاپے سے چاچے کی نظر کمزور ہو چکی تھی۔ اسے یہ چادر دکھائی نہیں دی۔ لوگوں کی کم نظری سے ہم جیسوں کا بھرم رہ جاتا ہے۔
”پتر یہ حلالہ کیا ہوتا ہے‘‘؟ چاچا حاکم گویا ہوا تو مجھے یوں لگا جیسے کسی نے میرے اوپر ایک اور چادر ڈال دی ہو؛ حیرت کی چادر۔ انسان کا معاملہ عجیب ہے۔ کوئی نہ کوئی چادر اس کے گرد لپٹی رہتی ہے۔ خوف نہ ہو تو حیرت۔ کبھی چادر پہ چادر۔ ”اللہ خیر چاچا! آپ کو یہ مسئلہ پوچھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی‘‘؟ مجھے کچھ دیکھے اور کچھ ان دیکھے اندیشوں نے گھیر لیا۔ خوف اور حیرت مل جائیں تو اندیشہ وجود میں آتا ہے۔
چاچا حاکم ہمارے گاؤں کا چوکیدار ہے۔ کب سے ہے، یہ میں نہیں جانتا۔ بس بچپن سے اسے چوکیداری کرتا دیکھ رہا ہوں۔ وہ کہنے کو چوکیدار ہے لیکن اس نے پورے گاؤں کو آگے لگا رکھا ہے۔ کسی کی مجال نہیں کہ اسکے سامنے دم مارے۔ اس نے کچھ اپنے زور اور کچھ لوگوں کی بزدلی کی وجہ سے، چوکیداری کو سرداری میں بدل دیا تھا۔ وہ ہر گھر کے معاملات میں دخل دیتا ہے اور کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔ اس کے چھ بیٹے ہیں اور سب لٹھ بردار۔ کس میں جرأت ہے کہ اس سے ماتھا لگائے۔
کمیوں جمیوں کے رشتے ناتے کرانے سے اسے خاص دلچسپی ہے۔ گاؤں میں مشہور ہے کہ ہر بے جوڑ نکاح کے پیچھے چاچا حاکم کا ہاتھ ہوتا ہے۔ پھر جب اس کا دل چاہتا ہے، طلاق کروا دیتا ہے۔ لوگ ڈر کے مارے بولتے نہیں۔ جو بولنے کی کوشش کرتا ہے، اس کے لٹھ بردار بیٹے، اس کی اوقات یاد دلا دیتے ہیں۔ میں گاؤں میں کم رہتا ہوں لیکن چاچے کی اس شہرت سے واقف ہوں؛ تاہم ایسا کوئی واقعہ میرے علم میں نہیں تھا کہ اس نے پہلے کسی کو طلاق دلوائی ہو اور پھر اسی سے دوبارہ نکاح بھی کروایا ہو۔ اس لیے جب اس نے حلالہ کا مسئلہ پوچھا تو میں سوچ میں پڑ گیا۔
”کیا سوچ رہا ہے پتر؟ تجھے حلالہ کا پتا نہیں؟‘‘ چاچا حاکم کی آواز میرے کانوں میں پڑی تو میں چونک اٹھا۔ ”نہیں نہیں، یہ بات نہیں‘‘۔ میں نے جلدی سے بات بنانا چاہی۔ مجھے یوں لگا جیسے ذہن کے پردے پر کسی نے کنکر دے مارا ہو اور سوچ کے تالاب میں بے معنی لہریں پیدا ہو گئی ہوں۔ ”چاچا یہ حلالہ ولالہ کچھ نہیں ہوتا۔‘‘ میں نے اپنا علم جھاڑنے کی کوشش کی۔ ”اصل مسئلہ کچھ اور ہے؟‘‘
چاچا حاکم کچھ پریشان ہو گیا جیسے اسے کوئی لاینحل مسئلہ درپیش ہو گیا ہو۔ میں نے اس کی پریشانی کو بھانپتے ہوئے کہا: ”میرا مطلب ہے، لوگوں نے اسے غلط سمجھا ہے۔‘‘ اس کے چہرے پر قدرے اطمینان آیا لیکن ساتھ ہی استفہام کی لہریں بھی ابھریں۔ میں نے جلدی جلدی بولنا شروع کیا: ”حکم واضح ہے۔ ایک خاتون کو طلاق ہو گئی اور اس نے دوسرا نکاح کر لیا۔ اب اگر دوسرے خاوند کے ساتھ اس کی ناچاکی ہو جائے جو طلاق پر ختم ہو تو وہ پہلے خاوند سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہے۔‘‘
”مطلب یہ ہے کہ طلاق لے کر دوبارہ پہلے خاوند سے نکاح کر سکتی ہے‘‘؟ چاچا نے بات کو مزید سادہ بنایا۔ ”جی‘‘ میں نے مختصر جواب دیا۔ چاچا کے چہرے پر اطمینان کی آثار پیدا ہوئے۔ یا یوں سمجھیے کہ پریشانی کی جگہ اطمینان نے لے لی۔ ماحول قدرے پرسکون ہوا تو میں نے سوال کیا: ”چاچا! آپ کو کس کے حلالے کی فکر ہے؟ نکاح طلاق کا تو سمجھ میں آتا ہے کہ آپ اب اس میں طاق ہو چکے۔ اب کس کا حلالہ کرنا چاہتے ہیں؟‘‘
چاچا مسکرایا۔ مسکراہٹ میں چھپے معنی اسے پراسرار بنا رہے تھے۔ ”پتر! عامی کو جانتا ہے نا، وہی جو پہلے شرافت کے ساتھ بیاہی گئی تھی۔ شرافت نے اپنے نام کی لاج نہ رکھی۔ مجھے بھی آنکھیں دکھانے لگا تھا۔ میں نے بھی ایسا ترازو گھمایا کہ نانی یاد آ گئی۔ عامی کے بچوں کی نظر میں اس کی عزت دو ٹکے کی نہ رہی۔‘‘
چاچا حاکم کچھ دیر کو رکا۔ میں اس کی باتوں میں ایسا کھویا کہ چائے پانی کا نہ پوچھ سکا۔ چاچے کی باتوں میں سکتہ پڑا تو میں نے اندرکے دروازے کی طرف منہ کرتے ہوئے آواز لگائی: ”اماں! چاچا حاکم بیٹھا ہے، چائے تو بھجوانا!‘‘ چاچا کا چہرہ کھل اٹھا‘ جیسے اسے بھی چائے کی طلب ہو رہی تھی۔ مزید اطمینان کے ساتھ اس نے اپنی بات جاری رکھی ”میں نے پھر عرفان سے اس کا نکاح کرا دیا۔ وہی، کیا نام تھا کرموں والے اس کے باپ کا… ہاں یاد آیا، کرم داد کے بیٹے کے ساتھ‘‘۔
اتنے میں چائے آ گئی۔ ”پھر کیا ہوا‘‘ میں نے پوچھا۔ ”ہونا کیا تھا۔ عامی چار دن ہی میں تنگ آ گئی۔ وہ سارا دن نئی کھیڑی اور کلف لگا سوٹ پہنے گلیوں میں پھرتا اور دوسروں پر آوازیں کستا ہے۔ گھر میں نہ اناج نہ کپڑا۔ عامی روز میرا دروازہ پیٹتی ہے کہ تم ہی نے یہ نکاح کروایا تھا‘ اب نان و نفقہ بھی تم ہی لے کر دو۔ اب اس کے گناہ بھی میرے سر ہیں‘‘۔ ”تو پھر کیا سوچا؟‘‘ میری دلچسپی بڑھتی جا رہی تھی کہ چاچا کے دماغ میں کیا معلوم کون سا اچھوتا خیال سر اٹھا رہا ہے۔ ”سوچنا کیا ہے۔ عامی شرافت کو اب بہت یاد کرتی ہے کہ جیسا بھی تھا، روٹی کپڑا تو ملتا تھا۔ شرافت بھی اب میرے سامنے اکڑتا نہیں ہے۔ گزرتا ہے تو سر جھکا کر۔ جیسے کیے پہ نادم ہو۔ سوچ رہا ہوں، اگر عامی کی عرفان سے جان چھوٹ جائے تو پھر شرافت کے ساتھ اس کا نکاح کرا دوں۔ وہ بے چارہ بھی رنڈوا ہو گیا ہے۔‘‘
”او اچھا تو اسی لیے حلالے کا مسئلہ پوچھ رہے ہو چاچا؟‘‘ ساری کہانی اب میری سمجھ میں آنے لگی تھی۔ اتنے میں چاچا نے چائے کا آخری گھونٹ لیا اور اٹھنے کے لیے لاٹھی پر اپنی گرفت مضبوط کر لی۔ ”اچھا پتر! تم نے میرا مسئلہ حل کر دیا۔ میں چلتا ہوں۔‘‘ چاچا حاکم روانہ ہو گیا اور میں سوچ میں گم ہو گیا ”کیا، یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ صرف چوکیداری کرے اور گاؤں کی عامیوں کو اپنے فیصلے خود کرنے دے۔ وہ جس سے چاہیں طلاق لیں اور جس سے چاہیں نکاح کریں؟‘‘
”کیا میں چاچا حاکم سے یہ بات کروں؟‘‘ میں نے اپنے آپ سے سوال کیا تو میرا دھیان فوراً اس کے ہاتھ میں پکڑی لاٹھی کی طرف چلا گیا۔ خوف کی ایک لہر میری ریڑھ کی ہڈی سے اٹھی اور میرے پورے وجود پر چھا گئی۔ ”تجھے کیا پڑی ہے؟ اپنے کام سے کام رکھ۔ عامی جانے اور اس کا کام۔ تُو چاچا حاکم کو وہ مشورے دے جس سے اس کی سرداری قائم رہے۔ اس طرح گاؤں میں تیرا بھرم بھی قائم رہے گا۔‘‘ میرے اندر سے کسی نے آواز لگائی۔ مجھے اطمینان سا محسوس ہوا۔ میں نے ‘کتاب الحیل‘ کھولی اور حلالہ کا باب پڑھنے لگا۔