کالم

دشت تو دشت ہیں، دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے!

Share

بات نہ ہندو کی ہے نا مسلمان کی۔ بات تو ہے انسان کی۔ بچپن سے لے کر آج تک ہمیں یہی سکھایا گیا اور یہی پڑھایا گیا۔ ہم نے اسی بات پر بھروسہ کر کے دنیا والوں تک ہمیشہ امن اور شانتی کا پیغام پہنچایا۔ کسی بھی ذات یا دھرم کے لوگ ہوں سبھوں کو انسان کے روپ میں دیکھا اور اس کے ذات اور دھرم کو بالائے طاق رکھ کر اس کے ساتھ کھایا پیا، گلے لگایا، اس کے دکھ سکھ میں ہاتھ بٹایا۔ جب بھی کسی نے انسان اور انسانیت کے خلاف آواز اٹھائی تو ہم نے اس کا منھ توڑ جواب دیا۔ کیونکہ ہم ایک ایسے ملک میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے جہاں انسان انسان کی قدر کرنا جانتا ہے۔ اس کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے، اس کے دکھ سکھ میں کام آتا ہے، اسے گلے لگاتا ہے۔ جب بات قربانی کی آتی ہے تو جان تک کی قربانی دینے میں عار محسوس نہیں کرتا۔
جی ہاں میں ہندوستان کی ہی بات کر رہا ہوں۔اس ہندوستان کی جسے کسی نے امن اور شانتی کی دھرتی مانا تو کسی نے اسے سونے کی چڑیا، کسی نے اسے انسان کو انسان سے جوڑنے والے صوفی اور سنتوں کا دیس کہا تو کسی نیاس کی دھرتی پر رہنے والوں کو بھگوان کا روپ دیا۔ کسی نے اس کو پاک زمین مانا تو کسی نے اسے رشی سادھو کا بسیرا مانا ہے تو کسی نے اسے نانک کا دیش مانا ہے۔ گویا تمام مذاہب اور فرقے کے لوگوں نے ہندوستان سے نہ صرف بے پناہ محبت کی ہے بلکہ اس کی خوشبو سے اپنے گھروں کو مہکایا ہے۔ اس کی ہریالی سے دنیا بھر کے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔
ہندوستان میں پچھلے کئی مہینے سے ایک بحث چھڑی ہوئی ہے جس کا رد عمل اب عام لوگوں اور خاص کر مسلمانوں میں کافی دیکھا جا رہا ہے۔ ہندوستان کے مسلمان این آر سی اور سی اے بی کے خلاف سخت احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ قوانین غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت کے لیے نہیں بلکہ مسلمانوں کے اندر خوف و ہراس پیدا کرنے کے لیے تیارکیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے پچھلے چند دنوں سے پورے ہندوستان میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ زیادہ تر شہروں میں احتجاج ہورہے ہیں تو وہیں اتوار15 دسمبرکو دلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ اور طالبات پر پولیس نے زبردست بربریت کا ثبوت دیتے ہوئے پوری دنیا کو سکتے میں ڈال دیا۔اس کے علاوہ علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کے طالب علموں پر بھی پولیس بے رحمی سے ٹوٹ پڑی جس سے کئی طلبازخمی ہو گئے۔ اسی طرح حیدرآباد میں بھی مولانا آزاد نیشنل اردویونور سٹی کے طلبا نے بھی زبردست مظاہرہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ پولیس کی بربریت کے خلاف کلکتہ، بنارس، ممبئی ہی نہیں بلکہ ملک کے بیشتر شہروں کی یونورسٹیوں کے طلبہ و طالبات کے ساتھ ہندوستان کے عام شہری بھی مظاہرہ کر رہے ہیں۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وائس چانسلر اور پراکٹر نے پولیس کی زیادتی کی پر زور مذمت کی ہے اور معاملے کی اعلیٰ سطح پر انکوائیری کی مانگ کی ہے۔ ایسا مانا جا رہا ہے کہ کچھ باہر کے لوگوں نے جامعہ کے طالب علموں کو بدنام کرنے کے لیے بسوں میں آگ لگائی اور ہنگامہ برپا کیا۔ تاہم ایسے کئی ویڈیو سامنے آئے ہیں جس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ پولیس یونیورسٹی کیمپس میں بغیراجازت داخل ہو کر طلبہ و طالبات پر نہ صرف ظلم ڈھایا بلکہ یونیورسیٹی کی لائبریری میں مطالعہ کر رہے طالب علموں پر لاٹھی اور ڈنڈوں کے ساتھ ساتھ گالیوں کی بوچھار کی۔ بے قصور طالب علم اپنی جان بچاکر بھاگنے کی کوشش کی تو آنسو گیس کے گولے داغے گئے تاکہ وہ بھاگ بھی نہ پائیں۔
لندن سمیت پوری دنیا میں ہندوستانی طلباء اور شہریوں کے مظاہرے کی حمایت اور پولیس بربریت کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی ہے۔ کئی ممالک میں مظاہرے ہو رہے ہیں تو کئی سیاستدانوں نے ہندوستانی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کئی ممالک نے اپنا سرکاری دورہ رد کردیا ہے۔ سوشل میڈیا کے علاوہ خبروں میں بھی ہندوستان میں ہو رہے مظاہروں کا مسلسل ذکر ہورہا ہے اور اس بات پر تشویش بھی جتائی جا رہی ہے کہ ہندوستانی حکومت کیوں ایک خاص مذہب کے لوگوں کو اپنا نشانہ بنا رہی ہے۔

وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ میں اعلان کیاہے کہ سی اے بی کسی شہری کے ساتھ مذہب یا نسل کی بنیاد پر کوئی بھید بھاؤ نہیں کرتا اور نہ ہی اس کا استعمال ان کے خلاف کیا جائے گالیکن پارلیمنٹ میں پاس ہونے والے اس قانون کے تحت بنگلہ دیش، پاکستان، اور افغانستان سے مذہبی بنیادوں پر پریشان اور استحصال کی وجہ سے ہندوستان آنے والے ہندو، سکھ، جین، بودھ، پارسی اور عیسائیوں کو ہندوستان کی شہریت فراہم کی جائے گی۔ اس میں تمام دوسرے مذاہب کا ذکر ہے سوائے مسلمانوں کے جس کی وجہ سے مسلمان کافی ناخوش ہیں اور انہیں ڈر ہے کہ اس ایکٹ کے تحت لاکھوں مسلمانوں کو دانستہ طور پر شہریت سے سے بے دخل کر دیا جائے گا۔ ان کا یہ خدشہ بالکل جائز ہے کیوں کہ یہاں سرکار کی نیت ٹھیک نہیں لگ رہی ہے۔
مجھے ہندوستانی حکومت کے اس رویے سے حیرانی کم اور تشویش زیادہ ہے۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ تمام مذہب کے لوگوں کو ہندوستان میں شہریت فراہم کرنے کا اعلان کیا جارہا ہے لیکن وہیں مسلمانوں کو اس قانون میں شامل نہ کر کے ہندوستان کے سیکولر ڈھانچے کو کمزور کیوں کیاجا رہا ہے؟ ہندوستان کی ہندو اکثریت والے ملک میں کس طرح ہندوستانی حکومت مسلمانوں کو اقلیتی طبقہ نہیں مانتا یہ ایک عجیب و غریب بات ہے۔
نریندر مودی جیسا متنازعہ وزیر اعظم ہندوستان نے اب تک نہیں دیکھا ہے۔نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد ہندوستان کی سیاست میں ایک عجیب سی نفرت کی فضا قائم ہو گئی ہے۔ آئے دن اقلیتی طبقہ اور مسلمانوں میں خوف و ہراس بڑھنے لگا ہے۔ کبھی گائے کے خرید و فروخت میں مسلمانوں کو مارا گیا تو کبھی محض مسلمان ہونے کی وجہ سے لوگوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔حیرانی اس بات کی ہے کہ ان تمام واقعات پر وزیر اعظم نریندر مودی کا کوئی ٹھوس بیان جاری نہیں ہوا۔ جس سے ہر ذی شعور انسان میں بے چینی پائی جانے لگی۔
نریندر مودی ہر اس انسان کو ملک کا دشمن کہہ رہے ہیں جو یا تو ان سے سوال کرے یا ان کی پالیسی پر نکتہ چینی۔ لیکن نریندر مودی کے جسم کی چمڑی اتنی سخت ہے کہ مجھے نہیں لگتا کہ ان پر ان باتوں کا کوئی اثر ہوگا۔ ہندوستانی میڈیا تو بکا ہوا ہے ہی لیکن اس سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ہندوستانی عوام نے بھی اس کی حمایت سے زیادہ اپنی جان بچانے کے لیے خاموش ہے۔ مودی نے اپنے جارحانہ مذہبی نفرت والی پالیسی سے ملک کی فضا کو زہر آلود کر رکھا ہے۔مودی کے قریبی ساتھی امیت شاہ جو اس قانون کے مکھیا ہیں، ان کا رویہ بھی مسلمانوں کے تئیں نہ صرف مشکوک بلکہ جارحانہ ہے۔
اگر آپ پچھلے پانچ برسوں کا جائزہ لیں تو آپ کو ہندوستان میں صرف نفرت، مہنگائی،بے روزگاری، نوٹ بندی کی مار، کسانوں کا برا حال، ملک کی اقتصادی سست رفتاری، مذہبی جنون، کشمیر کے بگڑتے حالات، گنگا ندی کی برھٹی ہوئی گندگی، عورتوں کی بے حرمتی، عصمت دری وغیرہ ایسی باتیں ہیں جس سے نریندر مودی بچ نہیں سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک جتنی بھی الیکشن ریلی ہوئی ہیں وہاں نریندر مودی اپنے پانچ برسوں کے کارنامے کو نہ بتا کر کبھی مذہبی تناؤ پیدا کر رہے ہیں تو کبھی پاکستان کو سبق سکھانے کی دھمکی دے رہے ہیں۔
ہندوستان کی کئی ریاستوں نے مرکزی حکومت کی شہریت (ترمیم) قانون کو نافذ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ تاہم ماہر قانون داں نے اس قانون کے خلاف عدالت کا بھی دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ ماہرِ تعلیم سے لے کر ہر طبقے کے لوگ اس قانون کی مخالفت کر رہے ہیں اور ہندوستان کے علاوہ دنیا کے مختلف ملکوں نے بھی ہندوستانی حکومت پر انگلیاں اٹھا نی شروع کر دی ہیں۔کئی ریاستوں کے وزیر اعلیٰ نے مرکزی حکومت کے اس قانون کو اپنی ریاست میں نافذ نہیں کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ہندوستانی حکومت کی شہریت (ترمیم) قانون کا اگر مطالعہ کیا جائے تو اس سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ جو کہ ہندوستان کے سیکولرزم پر ایک زبردست چوٹ ہے۔ میں ہندوستان کے تمام لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ جمہوری اور پر امن طریقے سے اس قانون کے خلاف مظاہرہ جاری رکھیں جب تک کہ حکومت اس میں تبدیلی نہ لائے اوراس قانون میں دیگر مذاہب کے ساتھ اسلام مذہب کا بھی نام شامل نہ کرے۔

دشت تو دشت ہیں، دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے