دنیابھرسے

عمان کو ترقی کی بلندیوں تک لے جانے والے سلطان قابوس اپنے والد کے طرز حکمرانی سے نالاں کیوں تھے؟

Share

عرب دنیا میں سب سے طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والے عمان کے سلطان قابوس بن سید السید 79 برس کی عمر میں سنیچر کے روز انتقال کر گئے تھے۔

ان کی جگہ ہیثم بن طارق بن تیمور کو عمان کا نیا سلطان مقرر کیا گیا ہے۔

سلطان قابوس گذشتہ ماہ بیلجیئم میں طبی معائنے اور علاج کروانے کے بعد وطن واپس آئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق وہ سرطان کے مرض میں مبتلا تھے۔

سلطان قابوس نے عمان کو سفارتی طور پر غیر جانبدار ممالک میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ بعض مواقع پر بین الاقوامی ثالث کا کردار بھی ادا کیا۔

والد کے طرز حکومت سے بیزار

قابوس السید خاندان کے آٹھویں فرمانروا تھے۔ یہ خاندان سنہ 1744 سے عمان پر حکومت کرتا چلا آ رہا ہے۔ قابوس 18 نومبر سنہ 1940 کو پیدا ہوئے۔

سنہ 1958 میں قابوس تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلینڈ چلے گئے۔ عمان کے شاہی خاندان میں برطانیہ کے ساتھ تاریخی تعلقات استوار کرنے میں قابوس کا اہم کردار تھا۔

ہیثم
سلطان قابوس کے جانشین ہیثم بن طارف اب عمان کے نئے سلطان ہیں

قابوس نے سینڈہرسٹ کی رائل ملٹری اکیڈمی میں دو سال تعلیم حاصل کی اور چھ ماہ مغربی جرمنی میں برطانوی فوج میں گزارے۔ سنہ 1962 میں وہ عمان واپس آئے۔ قابوس کو عمان کے شاہی محل میں سنہ 1964 سے سنہ 1970 تک محدود رکھا گیا اور انھیں حکمرانی میں کوئی بھی ذمہ داری دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔

وہ اپنے والد کے طرز حکومت سے بیزار تھے۔ انھیں اپنی فوج پر بھی شبہ تھا کہ وہ ظفاری کے باغیوں سے لڑنے کے قابل نہیں ہے۔ سنہ 1967 میں جب تیل کی برآمدات شروع ہوئی تو قابوس کے والد ان پیسوں سے ترقیاتی کام نہیں کرنا چاہتے تھے اور تیل سے حاصل ہونے والی آمدن وہ اپنے پاس ہی جمع کر رہے تھے۔

اس وقت کے خلیجی حکمرانوں میں برطانیہ کا کافی اثر و رسوخ تھا اور برطانیہ نے ہی قابوس کو اپنے والد کو اقتدار سے بیدخل کرنے میں مدد کی۔ 23 جولائی سنہ 1970 کو قابوس نے اپنے والد کا تختہ الٹ دیا۔ اس وقت نئے سلطان یعنی قابوس کی عمر صرف 30 سال تھی۔

عمان میں بنیادی سہولیات کی شدید کمی تھی۔ انتظامیہ میں باصلاحیت لوگوں کی بہت کمی تھی۔ نیز سرکاری ادارے سرے سے موجود ہی نہیں تھے۔ قابوس نے آہستہ آہستہ اقتدار پر اپنا اثرورسوخ بڑھایا۔

انھوں نے مالی، دفاع اور خارجہ امور اپنے پاس رکھے۔ قابوس نے سلطان بننے کے بعد ظفاری باغیوں کا مقابلہ کیا اور اس لڑائی میں برطانیہ، اُردن اور ایران نے مدد کی۔ چھ سال کے اندر باغیوں کو قومی دھارے میں شامل کر لیا گیا۔

قابوس
قابوس سنہ 2018 میں اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کے ساتھ نظر آئے تھے

عمان کو بلندیوں تک لے جانے والے قابوس

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق ’قابوس کو عمان میں شعور اور بیداری لانے والے حکمران کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔‘

انھوں نے انفراسٹرکچر کی تعمیر میں تیل کی کمائی سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ اس کے ساتھ ہی عمان کی فوج کو اس خطے کی بہترین تربیت یافتہ فوج بنایا۔ قابوس کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ انھوں نے خارجہ پالیسی کو بالکل آزاد رکھا۔

سعودی عرب اور ایران کے درمیان تصادم میں انھوں نے عمان کو کسی ایک فریق کی طرف جھکنے نہیں دیا۔ یہاں تک کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے قطر کے ساتھ تنازعے میں بھی عمان مکمل طور پر غیر جانبدار تھا۔

سنہ 1980 سے سنہ 1988 تک عراق اور ایران کے مابین جنگ کے دوران بھی عمان نے دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات قائم رکھے مگر اپنا جھکاؤ کسی ایک ملک کی طرف نہ کیا۔ سنہ 1979 میں ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد امریکہ اور ایران کے تعلقات خراب ہو گئے اس وقت بھی قابوس نے عمان کو کسی ایک کیمپ میں نہیں جانے دیا۔

سلطان قابوس نے سنہ 2013 میں ایران اور امریکہ کے درمیان خفیہ ثالثی بھی کی تھی۔ اسی کے ذریعہ اس وقت کے امریکی صدر باراک اوبامہ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کیا تھا۔

روئٹرز کے مطابق سفید داڑھی والے سلطان قابوس آخری مرتبہ اکتوبر سنہ 2018 میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کے ساتھ نظر آئے تھے۔ نتن یاہو نے عمان کا دورہ کیا تھا۔ باقی مسلمان ممالک کے رہنما عمومی طور پر اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو سے کھل کر ملنے سے گریز کرتے ہیں۔

لیکن اب سلطان قابوس کے انتقال کے بعد عمان نئے سلطان کی کمان میں ہے۔ نئے سلطان کا انتخاب بغیر کسی تنازع کے آسانی سے ہوا لیکن کیا ان کے لیے آگے کی راہ اتنی ہی آسان ہو گی؟

قابوس
سلطان قابوس نے عمان کو جدید ممالک کی صف میں لا کھڑا کیا

قابوس کی راہ پر حیثم بن طارق

ماہرین کا کہنا ہے کہ حیثم بن طارق آل سید عمان کی موجودہ پالیسی کو جاری رکھیں گے۔ نئے سلطان نے وعدہ کیا ہے کہ وہ عمان کی غیرجانبداری کی خارجہ پالیسی کو برقرار رکھیں گے۔

یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مشرق وسطی کے دیگر حصوں میں پھیلی بدامنی کے باوجود حکمراں کے تبدیل ہونے سے عمان میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آ سکتی ہے۔

چیٹم ہاؤس مشرق وسطی اور شمالی افریقہ پروگرام کے نائب ڈائریکٹر صنم وکیل نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ’انھوں نے اپنے پہلے بیان میں ہی اس بات کا اشارہ کیا ہے کہ وہ سلطان قابوس کی میراث کو جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ کہنا زیادہ اہم ہے کہ عمان ایک غیر جانبدار ملک کی حیثیت سے خلیجی ممالک میں رہا ہے اور اس پر کئی سالوں سے تنازع رہا ہے۔‘

عمان

عمان نے بہت سے علاقائی تنازعات کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان میں سنہ 2009 میں ایران میں قید تین امریکی مسافروں کی خصوصی رہائی بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ قطر کے شہریوں کو دارالحکومت دوحہ واپس آنے میں تعاون شامل ہے۔ یہ سنہ 2017 کا معاملہ ہے جب قطر میں سفارتی بحران چل رہا تھا جس میں خلیج فارس کے بہت سے ممالک نے قطر جانے والا سمندری راستہ بند کر دیا تھا۔

عمان کی برطانیہ، اسرائیل اور چین سمیت متعدد ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے کی اہلیت نے اسے مشرق وسطی میں غیر جانبداری کی علامت بنا دیا ہے۔

غیر جانبدار ملک ہونے کی وجہ سے عمان دوسرے ممالک سے مختلف نظر آتا ہے اور یہی بات غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے اور معاشی تناظر میں اپنے لیے ایک نیا کردار تلاش کرنے میں بہت فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔

قابوس
سلطان قابوس کے جنازے کو کندھا دیتے ہوئے سلطان ہیثم

عمان، تیل اور نئے سلطان کے چیلنجز

ہیثم پر ملک کے داخلی امور کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ حوصلہ مند اقتصادی منصوبوں پر عملدرآمد کرنے کا دباؤ بھی ہو سکتا ہے۔

انھیں عمان کی معیشت کو تیل کے علاوہ دوسرے متبادل ذرائع پر لانے کے چیلنج کا سامنا ہو گا۔

عمان کو تیل پر مبنی معیشت سے دوسری جانب لے جانے کے لیے انھیں پہلے عمان کے عوام کو جواب دینا ہو گا جو ساری زندگی صرف ایک سلطان کو جانتے تھے۔ نئے سلطان پر اعتماد کرنے میں وقت لگے گا۔

حیثم عمان کی 2040 کمیٹی کی سربراہی کرتے ہیں جس کا مقصد ملک کو مزید پائیدار معیشت کی طرف لے جانا ہے۔ عمان کے پاس کسی بھی خلیجی ملک کے مقابلے میں تیل کے ذرائع بہت کم ہیں اور سنہ 2014 میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد سے وہ بے روزگاری اور مشکل بجٹ کے گرداب میں پھنس گیا ہے۔

نئے سلطان کے سامنے یہ چیلنج ہو گا کہ کس طرح معیشت کو تیل کے علاوہ کوئی اور بنیاد فراہم کی جائے اس کے ساتھ زیادہ تر لوگوں کی معاشی حالت کو بہتر رکھنے کا بھی چیلنج ہو گا۔

عمان
عمان کی ایک وادی کا منظر

بہت بڑی ذمہ داری

عمان کے نئے سلطان ہیثم نے سنہ 1979 میں آکسفورڈ سے گریجویشن کی تھی اور وہ سلطان بننے سے پہلے ہیریٹیج اور ثقافت کے وزیر رہ چکے ہیں۔ وہ سنہ 1994 سے سنہ 2002 تک وزارت خارجہ میں جنرل سیکریٹری کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ سلطان قابوس کے بعد بغیر کسی تنازعے کے ان کا جانشین منتخب ہونا ایک پرامن حکومت کی تبدیلی ہے۔

قابوس کی کوئی اولاد نہیں تھی اور نہ ہی انھوں نے عوامی طور پر اپنے جانشینوں میں سے کسی کو مقرر کیا تھا۔

لیکن ایک بند لفافے میں انھوں نے جانشین کی حیثیت سے اپنی پسند ظاہر کی تھی۔ ہفتے کے روز شاہی خاندان نے جمع ہو کر قابوس کے انتخاب پر غور کیا اور رضامندی سے حیثم بن طارق کو نیا سلطان منتخب کیا گیا۔

یہ تبدیلی چند گھنٹوں کے اندر ایک سلطان سے دوسرے سلطان میں بہت آسانی سے ہوئی ہے جبکہ اس سے قبل بہت سارے تجزیہ کاروں نے پیش گوئی کی تھی کہ نئے سلطان کا انتخاب آسان نہیں ہو گا۔

لفافہ
قابوس نے اپنا کوئی جانشین مقرر نہیں کیا لیکن اپنی پسند کا ایک لفافے میں اظہار ضرور کیا

پڑوسی ممالک میں بحران

عمان کی ایک ثالث کی حیثیت کے باوجود مشرق وسطی کی صورتحال نئے سلطان کے لیے مشکلات کا باعث ہو سکتی ہے۔

سب سے پریشان کن قطر کا بحران اور سعودی عرب کا محاصرہ ہے۔ اس کے علاوہ عمان کی سرحدوں پر یمن میں بھی جنگ جاری ہے۔ تیل کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ اس دباؤ کو برداشت کرنا بہت مشکل ہو گا۔

قابوس کی پانچ دہائیوں پر مبنی حکمرانی کے دوران عمان میں بڑی معاشی اور معاشرتی تبدیلیاں رونما ہوئیں اور یہ مشرق وسطی کے ممالک میں ایک بڑے امن ساز کے طور پر ابھرا۔

سابق سلطان نے ملک کو جدید بنایا جہاں انفراسٹرکچر پہلے سے بہتر ہے اور عمان زرعی معاشرے سے نکل کر صنعتی ملک بنا۔ انھوں نے اپنی سیاحت کا فروغ کیا اور آج عمان کو خلیجی ممالک میں ایک بہترین سیاحتی ملک سمجھا جاتا ہے۔