پاکستان

نیب قانون میں مجوزہ ترامیم پر حزبِ اختلاف کی مخالفت کی وجوہات کیا ہیں؟

Share

پاکستان کی حزب اختلاف نے نیب قانون میں ترامیم سے متعلق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے مجوزہ مسودے کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے فروغ نسیم کے تیسری بار بطور وزیر قانون کا حلف اٹھانے کے بعد سنیچر کو یہ مسودہ حزب اختلاف کی جماعتوں کو بھیجا ہے۔

اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے حکومت کے ساتھ مجوزہ قانون سازی سے متعلق رابطوں کی بھی تصدیق کی ہے، جس میں ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کی شق واپس لینے پر آمادگی ظاہر کی ہے بلکہ حزب اختلاف کی تجاویز پر غور کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔

پارلیمانی کمیٹی کے چند ارکان کے مطابق نیب سے متعلق اپوزیشن کی تجاویز کو تسلیم کرنے کے بدلے حزب اختلاف حکومت کی ایف اے ٹی ایف اور دیگر امور پر قانون سازی کی راہ ہموار کرے گی۔ تاہم وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

اپوزیشن

حزب اختلاف کا موقف: ’یہ تحریک انصاف کا این آر او ہے‘

حزب اختلاف کے رہنماؤں نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کے مجوزہ مسودے میں نہ تو اپوزیشن کی بات سنی گئی ہے اور نہ ہی عدالتی فیصلوں کا احترام کیا گیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے جو ترمیمی مسودہ تیار کیا ہے اس میں گذشتہ برس کے صدارتی آرڈیننس سے بھی زیادہ متنازع دفعات شامل کر لی گئی ہیں۔

سید نوید قمر کا کہنا تھا کہ حکومت کے مسودے کا جائزہ لینے کے بعد حزب اختلاف نے نیب قوانین میں ترامیم سے متعلق ایک جامع بل تیار کیا جو حکومت سے بھی شیئر کیا گیا ہے۔

انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت پیر کو شام پانچ بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں کھلے دل و دماغ کے ساتھ آئے گی اور اپوزیشن کی تجاویز کی روشنی میں نیب جیسے ادارے کے لیے قانون سازی کی راہ ہموار کرے گی۔

حزب اختلاف کے سینیئر رہنما کے مطابق ’سپریم کورٹ نے جس نیب چیئرمین کے حوالے سے فیصلے میں لکھا ہے کہ وہ سیاسی انجنیئرنگ کر رہا ہے، حکومت اس کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے پر تول رہی ہے جو کہ عدالتی فیصلے کی بھی توہین ہو گی۔‘

پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ’حکومتی مسودہ تحریک انصاف کا اپنے لوگوں کے لیے این آر او ہے۔ حکومت اپنے وزرا اور مشیروں کو مالم جبہ جیسے بدعنوانی کے مقدمات سے بچانے کی کوششیں کر رہی ہے۔‘

ان کے مطابق حزب اختلاف کے لیے حکومتی مسودہ ناقابل قبول ہے۔

حزب اختلاف کے مسودے پر بات کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ اس مسودے کی تیاری کے دوران حکومت سے بھی تجاویز مانگی گئی تھیں اور حکومت کو یہ کہا ہے کہ نیب کے ادارے کو آئین، قانون اور عدالتی فیصلوں سے ہم آہنگ کریں۔

حکومتی مسودے میں ہے کیا؟

حکومت نے اپنے مسودے میں اختصار سے کام لیا ہے اور گذشتہ برس جاری ہونے والے صدارتی آرڈیننس سے کچھ مختلف ترامیم بھی متعارف کرائی ہیں۔ حکومت نے اپنے مسودے میں چیئرمین نیب، ڈپٹی چیئرمین نیب اور پراسیکیوٹر جنرل نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کی تجویز دی ہے۔

واضح رہے کہ نیب قانون کے تحت چیئرمین کی مدت ملازمت چار سال ہوتی ہے اور اس میں توسیع نہیں دی جا سکتی جبکہ دیگر دو عہدوں کی مدت تین، تین سال رکھی گئی ہے۔

اس مسودے کے مطابق نیب کسی ایسے شخص کے خلاف کارروائی کرنے کا مجاز نہیں ہو گا جس کا کسی عوامی عہدیدار سے براہِ راست یا بالواسطہ تعلق نہ ہو اور اگر عوامی عہدے دار کے خلاف حکومتی منصوبے یا سکیم سے مالی فائدہ اٹھانے کا ثبوت نہیں تو قواعد و ضوابط کی بے قاعدگی ہونے پر نیب قانون لاگو نہیں ہو گا۔

عوامی عہدیدار کے زیر کفالت یا بے نامی دار نے فائدہ اٹھایا تو نیب قانون لگے گا، اس کے علاوہ عوامی عہدے دار کے اثاثے اس کے ذرائع آمدن سے میل نہیں کھاتے تو اصل قیمت کا تعین ڈسٹرکٹ کلیکٹر اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کرے گا۔ اس میں سے جس کی قیمت زیادہ ہو گی، اسے درست مانا جائے گا۔

عوامی عہدیدار اور اس کے زیر کفالت کے ناجائز فائدہ اٹھانے سے متعلق ٹھوس ثبوت دینے ہوں گے جبکہ عوامی عہدیدار کے اچھی نیت سے کیے گئے کسی فیصلے پر نیب قانون کا اطلاق نہیں ہو سکے گا۔

قانون ماہرین کی رائے: ’غیر منتخب ادارے منتخب اداروں کا احتساب کر رہے ہیں‘

عرفان قادر پرویز مشرف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ادوار میں پراسیکیٹر جنرل نیب کے عہدے پر تعینات رہ چکے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میری رائے میں نیب اب قانون کے دائرے میں نہیں رہی اور لوگوں کے ساتھ زیادتیاں ہوئی ہیں۔ ‘

ان کے مطابق نیب کے قانون میں برابری کا تاثر نہیں ہے، سیاسی انجنیئرنگ کا تاثر موجود ہے۔ ان کے مطابق نیب کو غیر جانبدار نظر بھی آنا چائیے۔

عرفان قادر کا کہنا تھا کہ ’نیب قانون کا اطلاق فوج اور عدلیہ پر جب تک نہیں کیا جاتا یہ قانون متوازن نہیں ہو سکتا۔ اس وقت نیب اور عدلیہ جیسے غیر منتخب ادارے سیاسی رہنماؤں اور منتخب اداروں کا احتساب کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اختیارات کے غلط استعمال کے قانون کی غلط تشریح کی جاتی رہی ہے، جس سے حکومتی کارکردگی پر اثر پڑا ہے۔ ان کے مطابق نیب قانون کے ذریعے عدلیہ کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ نیب کے کام میں مداخلت نہ کرے اور خود ہی تمام کردار ادا کرنا نہ شروع کر دے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب کو چھوٹے چھوٹے مقدمات کے پیچھے نہیں جانا چائیے، اس کام کے لیے دیگر ادارے موجود ہیں۔

جاوید اقبال
،تصویر کا کیپشننیب چیئرمین جاوید اقبال

’حکومتی مسودے میں کچھ اچھا بھی ہے‘

نیب کے سابق سپیشل پراسیکیوٹر عمران شفیق نے بی بی سی کو بتایا کہ جہاں حکومت نے کچھ اہم نکات کو سرے سے اپنے مسودے کا حصہ نہیں بنایا ہے وہاں حکومت نے کچھ حوصلہ افزا ترامیم بھی متعارف کرائی ہیں۔

ان کے مطابق یہ بات درست ہے کہ یہ مسودہ گذشتہ سال جاری ہونے والے صدارتی آرڈیننس کا تسلسل ہے مگر اس میں ایک سقم کو دور کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پہلے ترمیمی آرڈیننس میں اختیارات کے ناجائز استعمال کو ثابت کرنے کے لیے ملزم کے اس کی آمدن سے زائد اثاثہ جات میں اضافہ کو ثابت کرنا ضروری قرار دیا گیا تھا اب صرف مالی فائدہ ہی ثابت کیا جائے گا جو کہ عالمی معیار کے عین مطابق ہے۔

سابق پراسیکیوٹر کے مطابق اس مسودے میں بھی پرائیویٹ آدمی پر نیب قانون کے اطلاق کو ختم کرنے جیسی تجاویز کو برقرار رکھا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اب اثاثہ جات کی قیمت کا تعین ڈی سی ریٹ یا ایف بی آر کے ذریعے کیا جائے گا جس سے نیب کی من مانی ختم ہو جائے گی اور نیب کے تفتیش کار من مانے مارکیٹ ریٹ کے تعین کے ذریعے کسی پر زیادتی نہیں کر سکیں گے۔‘

’چیئرمین نیب کا عہدہ ناقابل توسیع‘

سابق پراسیکیوٹر جنرل نیب عرفان قادر حکومت کی اس ’متنازع‘ ترمیم کے حق میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اگر کوئی شخص قابل ہے تو پھر اسے دوبارہ اس عہدے پر برقرار رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔‘

سابق سپیشل پراسیکیوٹر عمران شفیق ان کی اس رائے سے اختلاف رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’نیب کے خود مختاری، دیانتداری اور غیر جانبداری کے معیارات کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ چیئرمین نیب کے عہدے کو ناقابل توسیع ہی رکھا جائے۔‘

عمران شفیق کے مطابق اس عہدے پر آنے والے ایک ریٹائرڈ جج یا بیوروکریٹ سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ نوکری کی تمنا رکھے بغیر یعنی کسی مالی یا سیاسی مصلحتوں کا شکار ہوئے بغیر اپنے تجربات کی روشنی میں سب کے احتساب کو یقینی بنائیں گے۔

نیب عدالتوں کو ضمانت کا حق نہیں دیا گیا

سابق پراسیکیوٹر جنرل نیب عرفان قادر کے مطابق حزب اختلاف کی اس رائے میں وزن ہے کہ جب سنگین جرائم میں صرف 14 دن تک کا ریمانڈ ہوتا ہے تو پھر نیب کے مقدمت میں ملزمان کو 90 دن کا ریمانڈ کیوں دیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ’ اس مدت کو جہاں کم کرنے کی ضرورت ہے وہیں نیب عدالتوں کو یہ اختیارات دینے کی ضرورت ہے کہ وہ خود ضمانت دے سکیں تاکہ عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ نہ بڑھے۔‘

عرفان قادر کا کہنا ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ 30 دن میں کسی ریفرنس کو نمٹایا جا سکے۔

یاد رہے حال ہی میں سپریم کورٹ میں چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے جمع کروائے گئے جواب میں کہا ہے کہ احتساب میں تاخیر کی ذمہ دار عدالتی نظام ہے۔ عدالتیں نیب قانون کے بجائے ضابطہ فوجداری پر عمل کرتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 30روز میں کرپشن مقدمات کا فیصلہ ممکن نہیں۔

سابق پراسیکیوٹر عمران شفیق کے مطابق سپریم کورٹ نے خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کے مقدمے میں نیب کی عدالتوں کے ضمانت جیسے اختیارات پر بات کی ہے۔ ان کے مطابق ’اس سے قبل متعدد عدالتیں اس سقم پر بات کر چکی ہیں کہ آخر نیب مقدمات میں ضمانت کا اختیار احتساب عدالتوں کو کیوں نہیں دیا جاتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ نیب ضابطہ کار کے مطابق نیب 10 کروڑ سے کم والے مقدمات پر کارروائی نہیں کرتا تاہم ان کے مطابق یہ قانون نہیں ہے، جس پر عمل درآمد بھی نہیں ہوتا، جس وجہ سے نیب خود اپنے اوپر مقدمات کا بوجھ بڑھا رہا ہوتا ہے۔

چیئرمین نیب کی گرفتاری کے اختیارات

عرفان قادر کے مطابق چیئرمین نیب سے متعلق اختیارات میں مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔ عمران شفیق کے مطابق ’سپریم کورٹ نے خواجہ سعد رفیق ضمانت کیس میں یہ کہا ہے کہ چیئرمین نیب جانبداری دکھاتے ہیں اور گرفتاری کے یہ اختیارات سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے اور سیاسی پارٹیوں میں تقسیم یقینی بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ریفرنس دائر کرنے سے متعلق بھی وضاحت درکار ہے کہ اس کی منظوری کس فورم پر لینا مناسب ہے اور کس طرح کے معیار کے بعد ریفرنس دائر کیا جا سکتا ہے۔‘

قانونی ماہرین کے مطابق حکومت مجوزہ مسودے کے تحت چیئرمین اب بھی نیب قانون کے سیکشن 24 کے تحت سیاستدانوں کو جیل بھیج سکیں گے اور اس مسودے میں انسانی حقوق، شہریوں کی آزادی اور عزت نفس سے متعلق کوئی ترامیم متعارف نہیں کرائی گئی ہیں۔

روپے
،تصویر کا کیپشنسپریم کورٹ نے نیب کے پلی بارگین جیسے اختیارات پر پابندی عائد کر رکھی ہے

والنٹری ریٹرن، پلی بارگین جیسی دفعات کو نہیں چھیڑا گیا

سپریم کورٹ نے سنہ 2016 سے لے کر اب تک متعدد بار ان دفعات کے تحت ملزمان سے ڈیل کرنے پر نیب کی سرزنش کی ہے بلکہ عدالت نے اس طرح رقم کی ریکوری پر سرے سے پابندی ہی عائد کر دی اور جنوری میں حکومت کو نیب قانون میں ترمیم لانے کے لیے تین ماہ کا وقت دیا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ ناکامی کی صورت میں عدالت خود کوئی فیصلہ کرے گی۔

چیئرمین نیب نے سپریم کورٹ میں اپنے جواب میں بیرون ملک سے قانونی معاونت ملنے میں تاخیر، متفرق درخواستیں، پلی بارگین پر پابندی اور سیاسی شخصیات کی غلط عدالتی تشریح فیصلوں کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا۔

سابق پراسیکیوٹر جنرل نیب عرفان قادر نیب کی پلی بارگین سے متعلق دفعات کا دفاع کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں نیب کی طرف سے عدالت عظمیٰ کو صیحح قانونی معاونت نہیں دی گئی ہے کیونکہ یہ دفعات تو نیب کے فائدے کی ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’جس طرح تاثر دیا جاتا ہے یہ پلی بارگین کوئی مک مکاؤ نہیں ہے۔ چیئرمین نیب کو لوٹی گئی رقم میں سے ایک روپیہ بھی کم کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔‘

عرفان قادر کا کہنا تھا کہ اس طریقے سے جہاں ریکوری ممکن ہوتی ہے وہیں نیب کے وسائل اور عدالتوں کا وقت بھی بچ جاتا ہے۔

’نیب تاجروں اور سیاستدانوں سے تو ریکوری میں ناکام رہا ہے بہتر ہو گا کہ اس کا کردار بینک ڈیفالٹ جیسے مقدمات میں مزید بڑھا دیا جائے یا پھر عدلیہ اور فوج کو بھی نیب کے تحت کر دیا جائے تاکہ سب کا احتساب ہو سکے۔‘