منتخب تحریریں

پچپن سال پہلے، پچپن سال بعد!

Share

یہ اُس دور کی بات ہے جب فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان نے اقتدار میں آنے کے کئی سال بعد 2؍جنوری 1965کو انتخابات کرائے اور اُن کے مقابلے میں مادرِ ملّت فاطمہ جناح بطور امیدوار سامنے آئیں، چنانچہ ملک بھر میں مادرِ ملّت کے پروانے اُن کے گرد جمع ہو گئے۔ جنرل ایوب خان کنونشن مسلم لیگ کے امیدوار تھے جبکہ مادرِ ملّت کونسل مسلم لیگ کے پرچم تلے ’’کمبائنڈ اپوزیشن پارٹیز‘‘ (COP)کے اشتراک سے صدارت کی امیدوار تھیں۔ میں اِس الیکشن کی تفصیل میں نہیں جائوں گا کیونکہ میں تو آپ کو اِس حوالے سے ’’آپ بیتی‘‘ کی ایک جھلک دکھانا چاہتا ہوں، میں اُس وقت ’’جوانِ رعنا‘‘ تھا، یہ محض ترکیب استعمال کی ہے ورنہ یہ جوان کسی رعنا کو جانتا تک نہیں تھا، میں مادرِ ملّت کا پروانہ تھا اور مجھے اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ بانیٔ پاکستان قائداعظم کے مقابلے میں، میں کسی اور کو قبول کروں، چنانچہ مادرِ ملّت کا انتخابی نشان لالٹین، اپنے بعض دوستوں سے دل لگی کے لئے اُنہیں بطور تحفہ دیا کرتا تھا۔

میں اُن دنوں ماڈل ٹائون لاہور میں رہتا تھا، اُس زمانے میں وہاں چھ کنال سے کم کوئی کوٹھی نہیں تھی۔ ہر طرف گھنے درخت اور پھولوں کی بہاریں نظر آتی تھیں۔ جنرل ایوب خان کی کابینہ کے ایک مرحوم رکن، میں اُن کا نام نہیں لوں گا، مادرِ ملّت کی مخالفت میں تمام حدیں پار کر رہے تھے، اُنہی دنوں ماڈل ٹائون کے دو وکیل بھائیوں نے، میں اُن کا نام بھی نہیں لکھوں گا کہ وہ بھی اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں، اپنی چھ کنال کی کوٹھی کے وسیع و عریض لان میں جنرل صاحب کے انتخابی جلسے کا اہتمام کیا جس میں وہ مرحوم مدعو تھے، جو خود کو مسلم لیگی کہلاتے تھے مگر قائداعظم کی بہن، جسے قوم مادرِ ملّت کہتی تھی، کے بارے میں اکثر گستاخانہ لب و لہجہ اختیار کرتے۔ بہرحال میں اُنہیں سننے کے لئے گیا مگر سب سے آخر میں کھڑا ہو گیا۔ موصوف نے تقریر شروع کی اور جب مادرِ ملّت کے بارے میں اُنہوں نے حدِ ادب سے تجاوز کیا تو میرے گرم خون نے جوش مارا اور میں نے بآواز بلند ’’مادرِ ملّت زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگا دیا، جس پر موصوف جلال میں آ گئے اور اُسی جلالی لہجے میں کہا ’’جو میرے جلسے میں غنڈہ گردی کرے، میں اُس کی زبان‘‘ (کاٹ دیا کرتا ہوں) مگر سنبھل گئے اور کچھ وقفے کے بعد کہا ’’میں اُس کی زبان سے کوئی دوسرا لفظ نہیں نکلنے دیا کرتا‘‘۔ اِس کے ساتھ ہی ایک اور مرحوم، اور میں اُن کا نام بھی نہیں لکھوں گا، کمر کے ساتھ پستول لٹکائے میرے پاس تشریف لائے اور ایک گندی گالی دے کر کہا ’’تمہیں اپنی جان پیاری ہے کہ نہیں؟‘‘ میں نے کہا ’’جی پیاری ہے‘‘ بولے ’’پھر چپ کر کے یہاں سے نکل جا اور دوبارہ اپنی شکل نہ دکھانا‘‘۔ میں نے ایک نظر مرحوم کی کمر کے ساتھ بندھی پستول پر ڈالی اور کہا ’’میں جا رہا ہوں، آئندہ اگر بلائو گے بھی تو نہیں آئوں گا‘‘۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ اپنی ہنسی کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مجھے اپنی یہ ’’حماقت‘‘ کیپٹن (ر) صفدر کی گزشتہ ہفتے کی ’’حماقت‘‘ پر یاد آئی، اُس نے سوچا ہوگا کہ میں قائد کے مزار پر کھڑا ہوں، اُن کی بہن سے عقیدت کا اظہار کروں گا تو اُن کی روح خوش ہوگی، چنانچہ اُنہوں نے ’’مادرِ ملّت زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگا دیا مگر اُنہیں کیا پتا تھا کہ اقتدار میں جسے اُس کی جماعت والے ’’قائد‘‘ کہیں، وہ ’’قائداعظم‘‘ سمجھا جانے لگتا ہے۔ کیپٹن (ر) صفدر وہاں سے ’’میری طرح‘‘ بےعزت ہو کر تو نہیں نکلے لیکن بعد میں جو کچھ ہوا، وہ لمبی کہانی ہے اور اِس حوالے سے بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکا ہے۔ مجھے ابھی ابھی خیال آیا کہ ممکن ہے ’’مادرِ ملّت زندہ باد‘‘ سے زیادہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نعرے کو، مادرِ ملّت کے مقابلے میں ایوب خان نے انتخاب جس طرح جیتا تھا، اس نعرے کو اِسی کا تسلسل سمجھا گیا ہو، بہرحال جو کچھ ہوا، وہ پوری قوم کے لئے باعثِ ندامت ہے۔

آخر میں مجھے صرف یہ کہنا ہے کہ میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، پاکستان کو نیم بےہوشی ہی کی حالت میں پایا ہے۔ پاکستان کے طبیب قائداعظم تھے، وہ بہت جلد ہم سے رخصت ہو گئے مگر پاکستان کو ہر بلا، ہر بیماری اور ہر بحران سے محفوظ رکھنے کے نسخے قوم کو بتا گئے لیکن پاکستان پر ایسے بہت سے ادوار آئے جب اِن نسخوں کو پسِ پشت ڈال کر قوم کی بقا اور تحفظ کی ذمہ داری عطائیوں نے سنبھال لی۔ میں نے 55سال قبل ’’مادرِ ملّت زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگا کر اُس کا انجام دیکھا تھا اور آج 55سال بعد بھی یہی صورت حال سامنے آئی ہے… کیا ہمیں کبھی بالغ ہونے دیا جائے گا؟

اور ہاں، مادرِ ملت جب اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں مشرقی پاکستان گئیں تو اُن کے راستے میں اُن لاکھوں بنگالیوں نے آنکھیں بچھائیں جنہیں بعد میں غدار قرار دیاگیا۔ یااللہ ہم پر رحم فرما!