پاکستان

پی ایف یو جے: ’ایسی سینسرشپ فوجی دور حکومت میں بھی دیکھنے میں نہیں آئی‘

Share

پاکستانی صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے کہا ہے کہ حکومت اور ’میڈیا مخالف قوتوں‘ کی جانب سے آزادی اظہار پر پابندی عائد کرنے کی ‘منظم جنگ’ شروع کی جا چکی ہے اور میڈیا اداروں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ سرکاری مؤقف کی پابندی کریں یا پھر حکومت کے عتاب کا سامنا کریں۔

بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں پی ایف یو جے کی فیڈرل ایگزیکٹیو کونسل کے تین روزہ اجلاس کے اختتام پر جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’میڈیا اداروں کے لیے مالی مشکلات پیدا کرنے سے لے کر غیر اعلانیہ سینسرشپ کے نفاذ، مالکان کو ٹیلیفون پر دھمکیوں، اور صحافیوں کے اغوا اور ان پر تشدد تک میڈیا مخالف قوتیں آزاد میڈیا کی آواز دبانے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہی ہیں۔‘

واضح رہے کہ پاکستانی حکومت اور وزیرِ اعظم عمران خان کی طرف سے ماضی میں ان الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے کہ ان کی حکومت سینسر شپ میں ملوث ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے کہا جاتا رہا ہے کہ وہ آزادی اظہار پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔

’سرخ لکیروں میں اضافہ‘

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ نئی حکومت کی جانب سے سب سے پہلا اقدام میڈیا کی صنعت کا مالی اعتبار سے گلا گھونٹنا تھا جو اس نے اپنے واجبات کی ادائیگی روک کر اور واجبات کی رقم پر سوالات کھڑے کر کے کیا۔

‘میڈیا مالکان نے اس کے ردِ عمل میں اخراجات میں زبردست کٹوتی کی، متعدد اخباری ایڈیشن بند کر دیے، کئی کئی ماہ تک تنخواہیں یا ادا نہ کیں یا ان میں کٹوتی کر دی گئی جس کی وجہ سے صحافی مشکلات کے شکار ہیں۔’

25 سے 27 ستمبر تک جاری رہنے والی اس میٹنگ میں فیڈرل ایگزیکٹیو کونسل کے منتخب ارکان اور ملک بھر کی مختلف صحافتی یونینز کے صدور اور سیکریٹریز شامل ہوئے جبکہ اس کی صدارت پی ایف یو جے کے صدر شہزادہ ذوالفقار نے کی۔

اعلامیے میں پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت کو ملکی میڈیا انڈسٹری میں جاری حالیہ بحران کا ‘براہِ راست ذمہ دار’ ٹھہرایا گیا ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ ‘مالی دباؤ کے ساتھ ساتھ حکومت نے میڈیا کو کھلے مشوروں اور خفیہ فون کالز کے ذریعے اپنے زیرِ انتظام کرنا شروع کر دیا ہے اور میڈیا کے لیے سرخ لکیروں میں اضافہ کر دیا گیا ہے جس سے میڈیا ایسی سیلف سینسرشپ پر مجبور ہوگیا ہے جو ماضی میں فوجی دورِ حکومت میں بھی نہیں دیکھنے میں آئی۔’

حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ‘پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) اور پریس کونسل آف پاکستان (پی سی پی) کو وزارتِ اطلاعات سے آزاد کیا جائے تاکہ یہ ادارے خودمختار ریگولیٹر کا کردار ادا کر سکیں، نہ کہ حکومتی وزارت کے لائن ڈپارٹمنٹ کے طور پر۔’

میٹنگ میں خواتین صحافیوں اور اینکر پرسنز کو مختلف ٹرول گروپوں کی جانب سے ہراساں کیے جانے کی بھی مذمت کی گئی۔

’ایسی سینسرشپ جس کا تعین کرنا بھی مشکل‘

سینیئر صحافی اور ماہنامہ ہیرالڈ کے سابق ایڈیٹر بدر عالم کے مطابق یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں اس وقت میڈیا کو جس سینسرشپ کا سامنا ہے وہ ماضی میں بھی نہیں رہا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بدر عالم کا کہنا تھا کہ فوجی حکومتوں کے دور میں مختلف قوانین کے ذریعے براہِ راست سینسرشپ کی جاتی تھی اور یہ عموماً معلوم ہوتا تھا کہ کیا لکھنے کی اجازت نہیں ہے۔

’تاہم اب حالات بدل چکے ہیں اور کسی بھی ادارے یا کسی بھی بااثر شخصیت کو جو چیز پسند نہیں آتی اس کے خلاف دباؤ ڈالنا شروع کر دیا جاتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ایسے حالات میں جب سینسرشپ اتنی زیادہ ہو تو لوگ اپنے روزگار اور اپنی جان کے خوف سے آزادانہ صحافت نہیں کریں گے۔

صحافت کی آزادی پر زور دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب کسی معاشرے میں صحافت آزاد نہ ہو تو اس معاشرے کے لوگوں تک وہ حقائق نہیں پہنچ پاتے جو صحییح فیصلے کرنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں، نتیجتاً پاکستان کو بھی ماضی میں ان کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔

تاہم انھوں نے اس خیال کی نفی کی کہ صحافیوں کے مالی مسائل صرف اور صرف سینسرشپ کی وجہ سے ہیں۔

انھوں نے کہا: ’اگر میڈیا ادارے 73 برسوں میں ایسا کاروباری ماڈل نہیں اپنا سکے جو انھیں سرکاری اشتہارات پر انحصار سے آزادی دے تو یہ میڈیا اداروں کی غلطی ہے جنھوں نے اپنے فائدے کے لیے ایس نہیں کیا، اور جس کا نقصان آج عام صحافی ہر طرح سے بھگت رہے ہیں۔‘

بشکریہ بی بی سی اُردو