منتخب تحریریں

گزشتہ تینتیس سال کی خرابیاں

Share

اس ملک میں ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹیں تین عدد ہیں۔ گیارہ سال، نو سال اور تینتیس سال۔ آپ حیران ہوں گے کہ یہ کیا بات ہوئی؟ دراصل گیارہ سال جنرل (ر) ضیاالحق والے ہیں، نو سال جنرل (ر) پرویز مشرف والے ہیں اور تینتیس سال اس سیاسی سیٹ اپ کے ہیں جو 1985 میں میاں نواز شریف کے وزیراعلیٰ پنجاب بننے سے شروع ہوا اور پھر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی باری باری والی حکومت کی شکل میں چلتا رہا۔
پیپلز پارٹی جب بھی برسر اقتدار آئی اس کا یہی رونا رہا کہ ضیاالحق کے گیارہ سالوں نے سب کچھ برباد کرکے رکھ دیا اور ملک میں جو خرابی جنرل ضیاالحق نے کر دی ہے وہ اتنی عظیم اور ناقابل اصلاح ہے کہ ہم تین بار حکومت کرکے بھی اس خرابی کو دور نہیں کر پارہے۔ یہی حال مسلم لیگ ن کا ہے؛ تاہم اس کے پاس جنرل پرویز مشرف کے نو سال کے بعد صرف ایک دور حکومت آیا ہے اس لیے اس کا رونا پیپلز پارٹی کے مقابلے میں تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے لیکن یہ تینتیس سال والے رولے نے تو اگلی پچھلی تمام کسریں نکال کر رکھ دی ہیں۔ 2018ء سے لیکر آج 2020ء تک، دو سال کے دوران پی ٹی آئی کی حکومت نے سارا زور یہ ثابت کرنے میں لگا دیا ہے کہ ملک کی ساری خرابیوں کی جڑ صرف اور صرف گزشتہ تینتیس سال کی خرابیاں ہیں۔بلکہ مناسب الفاظ میں گزشتہ تینتیس سال کا گند ہے جو اب ان کو صاف کرنا پڑ رہا ہے لیکن ان سے صاف نہیں ہو رہا۔
ہماری حکومتیں دنیا کی عجیب و غریب حکومتیں ہیں۔ دنیا بھر میں اقتدار میں آنے والے مستقبل کی سوچ اور آئندہ کا لائحہ عمل لیکر آتے ہیں اور آگے کا سفر کرتے ہیں۔ ہم وہ ہیں جو عرصہ دراز سے ماضی میں پھنسے ہوئے ہیں اور آئندہ کیلئے کوئی مثبت کام کرنے کے بجائے گزرے وقت کی مذمت میں رونے پیٹنے اور اپنی ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں کر رہے۔ یہ بات درست ہے کہ بہت سی لانگ ٹرم خرابیاں ان ادوار کا نتیجہ ہیں لیکن بے شمار ایسے کام ہیں جن کا ماضی سے کوئی تعلق نہیں یا کم از کم ان کو درست کرنے کے لیے ماضی کی کسی خرابی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ بے شمار کام تو ایسے ہیں کہ ان کے لیے صرف ایک حکمنامے کی ضرورت ہے بلکہ حکمنامے کی بھی نہیں، صرف پہلے سے جاری شدہ حکمناموں پر عملدرآمد کا معاملہ ہے۔ کچھ معاملات ایسے ہیں کہ شاید ہی کسی نئے حکمنامے کی، ایگزیکٹو آرڈر کی، قانون سازی کی یا کسی آئینی ترمیم کی ضرورت پڑے‘ وگرنہ زیادہ تر معاملات تو صرف چند روزہ سختی اور حکومت کی رٹ کو قائم کرنے کی نیت سے جڑے ہوئے ہیں۔ سڑکوں پر ٹریفک کا نظام بے ہنگم بن کر آخری سطح پر ہے لیکن کیا یہ گزشتہ تینتیس سال کا گند ہے جو اگلے دس برسوں تک صاف ہوتا رہے گا؟ ٹریفک پولیس موجود ہے، قوانین موجود ہیں اور لوگ ان سے بخوبی آگاہ ہیں لیکن ان پر چونکہ کسی کو عمل کروانے کی فکر نہیں ہے لہٰذا کوئی شخص اس پر عمل بھی نہیں کر رہا۔ ٹرک ڈرائیور، بس ڈرائیور یا ویگن چلانے کے علاوہ چھوٹی گاڑیوں والے جونہی موٹروے پر چڑھتے ہیں سیٹ بیلٹ باندھ لیتے ہیں اور لین کی پابندی بھی کرتے ہیں لیکن موٹروے پر چڑھنے سے پہلے اور اترنے کے فوراً بعد وہ عموماً سیٹ بیلٹ کھول دیتے ہیں اور لین وغیرہ کی پابندی کو بھی جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔ کیا ٹریفک کے نظام کو درستی کے لیے برسوں درکار ہیں؟ ملتان شہر کی بات کروں تو کچھ دوستوں کو اعتراض ہوتا ہے کہ صرف ملتان کی بات کرتا ہوں۔ ملتان بھی پاکستان کا حصہ ہے اور اس کی مثال دیگر شہروں کے لیے بھی یکساں حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان کے باقی شہروں میں ایسا ہی حال ہے اس لیے ہر شہر کے رہنے والے ملتان کی جگہ اپنے اپنے شہر کا نام تصور کر سکتے ہیں۔ ادھر ملتان میں یہ عالم ہے کہ ٹریفک وارڈن ٹریفک کا نظام درست رکھنے، لوگوں کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر سمجھانے سے زیادہ چالان کرنے میں مصروف رہتے ہیں اور وہ اس کام میں اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ ان سے چار قدم آگے یا پیچھے ٹریفک پھنسی ہوتی ہے لیکن وہ اپنا چالان ٹارگٹ پورا کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ موٹر سائیکل سواروں کے لیے ہیلمٹ کی پابندی کا قانون موجود ہے‘ لیکن کم از کم ملتان میں تو دس بارہ فیصد سے زیادہ لوگ اس قانون کی پابندی نہیں کرتے۔ اب بھلا لوگوں کو ہیلمٹ پہنانے میں گزشتہ تینتیس سال کہاں رکاوٹ بنتے ہیں؟ آدھ کلومیٹر دور یوٹرن پر جاکر مڑنے کے بجائے اچھے بھلے پڑھے لکھے، بڑی بڑی لگژری گاڑیوں والے ون وے کے خلاف جا رہے ہوتے ہیں‘ گدھا گاڑیوں، موٹر سائیکل، رکشوں اور لوڈروں کی تو بات ہی الگ ہے۔ یہ سب کچھ چند روز میں درست ہو سکتا ہے لیکن کیا کریں؟ گزشتہ تینتیس سال کا گند ہی اتنا ہے یہ کام بھی نہیں کرنے دیتا۔
ملتان میں صفائی کی صورتحال ابتر سے بھی زیادہ خراب ہے‘ اور صرف ملتان ہی کیا؟ لاہور میں تو گزشتہ دنوں خود وزیر اعلیٰ نے گندگی کا اعتراف کیا ہے۔ دیگر شہروں میں بھی یہ مقابلہ لگا ہوا ہے کہ کون سا شہر زیادہ گندہ ہے۔ کئی شہروں کے درمیان تو اس اعزاز کے لیے باقاعدہ مقابلہ لگا ہوا ہے کہ ایشیا کا گندہ ترین شہر کونسا ہے۔ ہر شہر کا مقیم یہ اعزاز لینے کیلئے بے تاب ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ اعزاز اس کے شہر کا حق ہے۔ ایک زمانہ تھا‘ صبح سویرے جھاڑو والا جھاڑو دیتا تھا‘ گلیوں میں ایک جمعدار نالی صاف کرتا تھا اور اس کا سالڈ ویسٹ نکال کر ایک طرف رکھتا تھا۔ پیچھے پیچھے ماشکی ہوتا‘ جو نالی کے کنارے پر آنے والی گندگی کو کمر پر لادی مشک سے پانی کا چھڑکائو کرکے صاف کرتا تھا۔ سب سے پیچھے ایک ہتھ ریڑھی والا ہوتا‘ جو نالیوں سے نکالا گیا سالڈ ویسٹ اٹھاتا تھا۔ یہ سارے کام صبح سویرے ہو جاتے اور گلیاں صاف ستھری‘ نالیاں رواں ہوتی تھیں۔ بڑی سڑکوں پر پہلے جھاڑو پھرتا‘ پیچھے پیچھے پانی والا ٹینکر یا ٹریکٹر کے پیچھے لگی ہوئی پانی والی ٹرالی ہوتی تھی جس کے دونوں طرف چوڑی پھوار مارنے والے پائپ لگے ہوتے تھے جو چھڑکائو کرتے تھے۔ اب صفائی کے محکمے موجود ہیں۔ صفائی کے ورکرز کی تعداد شاید سو گنا زیادہ ہو چکی ہے‘ مگر ہر شہر کی ہر گلی میں، ہر سڑک پر اور ہر محلے میں گندگی کے ڈھیر نظر آتے ہیں‘ جو بعض اوقات ہفتہ ہفتہ صاف نہیں کیے جاتے۔ اس گند کو صاف کرنے کیلئے کتنے سال درکار ہیں؟
اب شہروں میں سائیکل کا رواج کم ہو گیا ہے کہ روزانہ سو روپے کی قسط پر موٹرسائیکل مل جاتی ہے‘ لیکن کبھی سائیکل پر ڈینمو اور سامنے ہینڈل کے درمیان ہیڈ لائٹ لگی ہوتی تھی۔ تانگے بھی ختم ہوتے جا رہے ہیں لیکن تب انکی دونوں سائیڈوں پر تیل والے مخصوص خوبصورت چراغ آویزاں ہوتے تھے۔ بیل گاڑیوں کے پیچھے ریفلیکٹر لگے ہوتے اور رات کو انکے پیچھے لالٹین لٹکی ہوتی تھی۔ اب میں بوسن روڈ پر روزانہ درجنوں بیل گاڑیاں دیکھتا ہوں جن پر شہر کے اطراف بننے والی ہائوسنگ سکیموں کی زد میں آنے والے آم کے کٹے درختوں کی لکڑی لدی ہوتی ہے۔ کسی بیل گاڑی کے پیچھے نہ ریفلیکٹر کبھی نظر آیا ہے اور نہ لالٹین۔
کبھی گھروں میں انسداد ملیریا والے آتے تھے اور مچھر مار سپرے کرتے تھے۔ اب یہ عالم ہے کہ ڈینگی کے لیے بھی اشتہاروں پر گزارہ کیا جا رہا ہے۔ سنا ہے کہ یہ محکمہ اب بھی موجود ہے۔ فنڈز بھی آتے ہیں اور کھائے جاتے ہیں۔ عشرے گزر گئے کبھی کسی سپرے والے پر نظر نہیں پڑی۔ کیا اس کے لیے بھی عشرے درکار ہیں؟ یہ تو چند معمولی کام تھے جو صرف نیت کی درستی کے محتاج ہیں۔ ایسی سینکڑوں نہیں ہزاروں اور مثالیں ہیں‘ جن کی درستی دنوں کی مار ہے‘ لیکن ان کمبخت تینتیس سالوں نے جو بربادی کی ہے وہ بھلا دو چار برسوں میں کیسے درست کی جا سکتی ہے؟