10³⁰+ 666× 10¹⁴+ 1: ایک پراسرار نمبر جسے ’شیطانی‘ تصور کیا جاتا ہے

یہ ایک شکاری اور قصہ گو کی کہانی ہے، لیکن سب سے بڑھ کا اس کا تعلق کسی حد تک ’منحوس‘ یا بدشگون ہندسے یعنی عدد سے ہے۔

زیادہ واضح طور پر کہیں تو یہ بنیادی اعداد (پرائم نمبرز) میں سے ایک ہے جو صرف 1 یا خود سے تقسیم ہوتے ہیں اور یہ نمبرز آغاز سے ہی دلچسپی کا باعث رہے ہیں۔

یا کم از کم تقریباً 3,570 سال پہلے سے تو اِن میں دلچسپی پائی جاتی ہے جب اپوفس اول کے دور حکومت میں مصری محرر احمس نے مصر کی اولین ریاضیاتی دستاویز ’رہائنڈ میتھیمیٹیکل پپیرس‘ کو تخلیق کیا اور ایسے اعداد کو ریکارڈ کیا جن کے پرائم نمبر مختلف تھے۔

ریاضی دانوں نے ان پر لاکھوں گھنٹے صرف کیے ہیں کیونکہ یہ خوبصورت، دلکش اور بہت مفید ہونے کے ساتھ ساتھ مشتعل کرنے والے بھی ہیں: ان اعداد کا کوئی واضح پیٹرن نہیں ہے۔ اس لیے یہ جتنے زیادہ پائے جاتے ہیں، اتنے ہی زیادہ بے ترتیب لگتے ہیں۔

اس معاملے میں کمپیوٹر کی بے پناہ طاقت بھی زیادہ مدد کرتی نظر نہیں آتی۔

لیکن اس کے تمام اسرار سے پردہ اٹھانے کے لیے ریاضی دان جس طویل اور مشکل راستے سے گزرے ہیں، وہاں انھیں حیرت و استعجاب کا سامنا رہا اور انھوں نے انھیں ہم جیسے لوگوں کے ساتھ شیئر کیا جو زیادہ نہیں جانتے۔

یہ حیرانیاں ان معلومات پر مبنی ہیں جو ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ اعداد کی دنیا کتنی پُرکشش ہے۔

مثال کے طور پر ’دی بگ بینگ تھیوری‘ سیریز کے شائقین کو ڈاکٹر شیلڈن کوپر کی یہ بات یاد ہو گی جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ’بہترین نمبر 73 ہے۔ کیوں؟ کیونکہ 73 اکیسواں پرائم نمبر ہے۔‘

احمس پیپرس

'اس کا عکس 37 ہے جو بارہواں پرائم ہے، جس کا عکس 21 ہے اور یہ سات کو تین سے ضرب کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔‘

’بائنری اعداد میں 73 ایک پیلنڈروم ہے، یعنی ایسا عدد جو الٹی طرف سے بھی پڑھا جائے تو وہی ہوتا ہے، یعنی 1001001۔‘

شاید شیلڈن کو اس نمبر پر بھی تجسس ہوتا جس پر ہم آج بات کر رہے ہیں کیونکہ یہ اس عدد کا کزن ہونے کے علاوہ پیلنڈروم کی شاعرانہ ہم آہنگی بھی رکھتا ہے۔

تاہم، یہ زیادہ شیطانی ہے۔

شکاری

اسے ایک کزن شکاری نے دریافت کیا تھا جیسا کہ وہ لوگ جو ان کی تلاش کے لیے وقف ہیں انھیں کہا جاتا ہے۔ آپ کو یاد ہے نہ کہ اُن کی تلاش کرنا بہت مشکل ہے؟

یہ امریکہ کے شہری ہاروی ڈوبنر ہیں جو پیشے کے اعتبار سے الیکٹریکل انجینیئر اور ریاضی دان ہیں اور وہ بڑے پرائم نمبرز کی کھوج کے لیے جانے جاتے ہیں۔

ڈبنر نے 16661 سے شروع ہونے والے پرائم نمبرز کے ایک سیٹ کا پتہ لگانے کی مہم پر لگ گئے اور وہ ایک اور چھ کے درمیان صفر ڈالتے گئے۔

عفریت

یعنی یہ 16661 سے شروع ہوا جو کہ ایک پرائم نمبر ہے اور اس میں دونوں جانب صفر لگا کر 1 0 666 0 1 یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا 1 0 666 0 1 بھی ایک پرائم نمبر ہے۔ لیکن یہ پرائم نمبر نہیں نکلا۔

اسی طرح انھوں نے 1 00 666 00 1، 1 000 666 000 1 کی طرح مزید صفر بڑھاتے گئے اور کوئی بھی پرائم نمبر نہ نکلا لیکن انھوں نے ہمت نہیں ہاری۔

وہ ہر بار صفر کا اضافہ کر کے حساب کرتے لیکن ان کے ہاتھ ناکامی لگتی رہی یہاں تک کہ وہ اس عدد پر پہنچے: 1000000000000066600000000000001 اور پھر انھوں نے دریافت کیا کہ یہ ان خصوصیات کا حامل پہلا پرائم نمبر ہے۔

ڈبنر نے اپنے پرمشقت کام کو جاری رکھا اور دیکھا کہ 42، 506، 608، 2472 اور 2623 صفر کے ساتھ جو اضافہ کیا گیا وہ بھی پرائم اعداد تھے۔

لیکن۔۔۔

ایک اور ریاضی دان، کلف پک اوور جو ہمارے قصہ گو ہیں انھوں نے اس پہلے نمبر میں کچھ شیطانی خصلتوں کا پتہ لگایا۔

شروع سے ہی ڈبنر کے تجربے کی بنیاد میں 666 کا عدد تھا جسے کشف یا الہام کے لہاظ سے ’درندہ صفت‘ کہا جاتا ہے۔ یہ بات انجیل مقدس کی آخری کتاب میں بیان کی گئی ہے۔ اس میں اسے اس طرح بیان کیا گیا ہے: ’یہ حکمت کی بات ہے۔ جو سمجھ رکھتا ہے وہ درندے کے عدد کو شمار کرے، کیونکہ وہ آدمیوں کی تعداد ہے؛ اور یہ عدد چھ سو چھیاسٹھ (666) ہے۔‘

پک اوور نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے دیکھا کہ پہلے پرائم میں اس نمبر کے ’دونوں اطراف 13-13 صفر ہیں اور (13) کے عدد کو طویل عرصے سے مغربی ثقافت میں ایک بدقسمت نمبر کے طور پر سمجھا جاتا تھا۔‘

اس کے اوپر ’اس میں کل 31 ہندسے تھے، جو کہ 13 کا عکس ہے، اگر الٹی طرف سے پڑھا جائے تو۔‘

ریاضی دان نے 1000000000000066600000000000001 کے عدد کو ایک نام دینے کا فیصلہ کیا اور انھوں نے اسے ’بیلفیگور کا کزن‘ کہا۔

کہا جاتا ہے کہ بیلفیگور جہنم کے سات شہزادوں میں سے ایک ہے، جو کہ کاہلی کے مہلک گناہ کا عفریت ہے، بلکہ حیرت انگیز طور پر یہ رفع حاجت کا بھی ہے اس لیے ژاک اگست سائمن کولن ڈی پلانسی کی ’جہنم کی ڈکشنری‘ میں اسے ٹوائلٹ پر خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

اگرچہ قدیم زمانے میں اس پر بہت زیادہ توجہ دی گئی تھی لیکن وقت کے ساتھ اس کا کردار بدل گیا اور وہ دریافت اور ایجاد کے تحفے کے ساتھ انسانوں کو لبھانے والے کا انچارج بن گیا، اور یہ بُرا بھی نہیں لگتا، لیکن کون جانے!

بیلفیگور کے کزن کے پاس اس کی اپنی بھی علامت ہے: یہ پیچھے کی طرف پائی π ہے۔

چڑیے کے خاکے سے پائی کی ترغیب ملی

کیوں؟

پک اوور ریاضی اور طب سے لے کر موت کے بعد کی زندگی اور مصنوعی ذہانت تک کے موضوعات پر 50 کتابوں کے مصنف ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’سائنس اور ریاضی کے عجائبات کو وسیع سامعین کے سامنے لانا‘ ہی اُن کا مقصد ہے، اور وہ ’ویمپائر نمبر‘ اور ’جادوئی ہائپر کیوبز‘ جیسے پیچیدہ ریاضی کے تصورات کو ہلکے پھلکے انداز میں پیش کرتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’فرانسس بیکن (1909-1992) نے ایک بار کہا تھا: ’فنکار کا کام ہمیشہ اسرار کی تلاش ہے‘ اور میں اپنی زیادہ تر تخلیقی پیداوار کے لیے اس انداز کو استعمال کرتا ہوں۔‘

’میں نے محسوس کیا ہے کہ مخصوص نمبروں یا ریاضی کے تصورات کو نام دینے سے ہر عمر کے لوگوں میں دلچسپی پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے۔

’نام توجہ مرکوز کرنے اور بحث کرنے میں مدد کرتا ہے، اور طلبا کی ریاضی میں دلچسپی کو پھر سے تازہ کرتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ریاضی وہ ہتھوڑا ہے جو ہمارے لاشعور کی برف کو توڑتا ہے۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.