حکومت بیچ منجدھار میں

ایازا میرAyaz Amir

اگر حالات اتنے سنگین نہ ہوتے تو ان کی صورت ِ حال کا لطف لیا جاسکتا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ طوفان میں گھری کشتی کا ملاح بے بسی سے موجوں کو دیکھ رہاہے اور نہ وہ کشتی کو سنبھال پارہاہے اور نہ کوئی اور۔ گزشتہ انتخابات میں حکمران جماعت کی کامیابی کہ وجہ شہباز شریف کی کارکردگی یا لیپ ٹاپ وغیر ہ کی تقسیم نہیں بلکہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے پی پی پی کا عوامی غیض وغصب کا نشانہ بننا تھا۔طویل لوڈ شیڈنگ نے لوگوں کو غصے سے پاگل کردیا اور وہ غصہ اُنھوں نے اُس وقت کی حکومت پر نکال دیا۔ پی ایم ایل (ن)نے بھی اُس ایشو کو خوب اچھالا۔ شہباز شریف نے مینار ِ پاکستان کے سامنے دھرنہ دیاجبکہ ان کے وزراء اُنہیں مزید گرمی سے بچانے کے لئے پنکھا جھل رہے تھے۔ پنجاب کے لوگ زرداری اور پی پی پی کو کوس رہے تھے اور سب کا خیال تھا کہ ایک مرتبہ جب پی ایم ایل (ن) اقتدارمیں آگئی تو ملک میں بجلی ہی بجلی ہوگی۔
اور ستم یہ کہ اب پی ایم ایل (ن) اقتدار میں ہے اور لوڈ شیڈنگ کی صورت ِحال پہلے سے بھی ابتر ۔ہاں ایک فرق پڑا ہے کہ اب بجلی اتنی ہی ملتی ہے لیکن اس کے نرخوں میں برق رفتار اضافہ جاری ہے۔ اسے موجودہ حکمران جماعت کی بہت بڑی کامیابی قرار دینا چاہئے کہ اس نے کسی نہ کسی طریقے سے فی الحال خود کو عوامی غیض وغصب کا نشانہ بننے سے بچائے رکھا ہے۔ پہلے اس نے پانچ بلین ڈالر بجلی ساز کمپنیوں کو ادا کرتے ہوئے اُنہیں، یعنی اپنوں کو، ممنون کیا۔ اب پھر زیر ِ گردش قرضے سر پر ہیں اور حکومت کی جیب میں ایک پائی تک نہیں۔ پتہ نہیں یہ بات درست ہے یا غلط لیکن ا یک معا صر ا خبا ر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اخبار حکو مت کا حامی ہے، لیکن کوئی دو دن پہلے یہ اخبار بھی لکھنے پر مجبور ہوگیا...’’ اب بجلی کی پیداوار میں اضافے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ بجلی کی تقسیم کا نظام حکومت کی نااہلی کا شکار ہے۔ اپنے اقتدار کے پہلے ایک سال میں اس حکومت نے عوام کو مایوسی اور پریشانی کے سوا کچھ نہیں دیا۔‘‘اگر میں ادارئیے کو ہی یہاں نقل کردوں تو غالباً یہ اس کالم ، جو میں لکھ رہا ہوں، سے بہتر صورتِ حال کی عکاسی کرے گا۔
نندی پور کی ذمہ داری کس نے اٹھانی ہے؟اگربجلی پیدا کرنے کے اس منصوبے کے ازسر ِ نو آغاز پر ہونے والی بدعنوانی کی کہانیا ں کافی نہیں تھیں تو اب ایک اور مضحکہ خیز صورت ِ حال رونما ہوئی۔ بہت ہی دھوم دھام سے وزیر ِ اعظم نے اکتیس مئی کو پہلی ٹربائن کا افتتاح کیا لیکن اسے بند کرنا پڑا کیونکہ جس پلانٹ کو فرنس آئل کے لئے ڈیزائن کیا گیا تھا ، اُسے ڈیزل پر چلایا جارہا تھا۔ کسی اور ملک میں ایسا ہوتا تو حکمرانوں کو اس حماقت پر خوب آڑھے ہاتھوں لیا جاتا اور مزاحیہ پروگراموں میں اُس افتتاح کا بار بار فیتہ کاٹا جاتا ، لیکن یہاں کسی نے اس پر شرمندگی تک محسوس نہیںکی۔ چین کے پے در پے دورے اور ایم او یو پر دستخط کرنے کا تسلسل حکومت کے قریبی افراد کی سمجھ میں آئے تو آئے ، عوام کے تو کچھ پلے نہیں پڑرہا کہ ان کا مقصد کیا ہے؟اب لوگ کوئلے سے بجلی پیدا کرنے اور سولر انرجی کے منصوبوںکے بلند وبانگ دعووں پر بھی یقین کرنے کے لئے تیار نہیں۔ وہ کس حکومت کی طرف دیکھیں یا کس پر یقین کریں جب وزیر برائے پانی و بجلی خود عوام کو بارش کے لئے دعا کرنے کا مشورہ دے؟پی ایم ایل (ن)کو جس بات کی سمجھ نہیں آرہی وہ یہ ہے کہ اس طرح کے چکمے دینے کا وقت گزرچکا۔ اب پیلی ٹیکسیاں یا لیپ ٹاپ بانٹنے یا سستے رمضان بازاروںکے دورے کرنے سے گڈ گورننس کا تاثر نہیں جائے گا۔ شہباز شریف یا تمام شریف فیملی کتنے لیپ ٹاپ تقسیم کرسکتے ہیں؟بھارت کی گنجان آباد ریاست اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر اعلی اخیلش یادیو (Akhilesh Yadav)نے پندرہ لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کیے جبکہ لاکھوں مزید گوداموں میں بھی پڑے ہوئے ہیں، لیکن اگر نتائج پر نگاہ ڈالیں تو حالیہ انتخابات میں نریندر مودی کی پارٹی نے سویپ کرلیا جبکہ سماج وادی پارٹی اتر پردیش سے لوک سبھا کی 80 نشستوں میں سے صرف پانچ نشستیں ہی جیت پائی۔ اس سال ریاست کے بجٹ میں لیپ ٹاپ ا سکیم کے لئے کوئی رقم نہیں رکھی گئی۔ اس پر جب مسٹر اخلیش سے پوچھا گیا تو اُنھوںنے جواب دیا کہ اب وہ رقم کتابوں اور تعلیم پر خرچ کی جائے گی۔ بہتر ہے کہ حکمر ا ن جما عت بھی سبق سیکھ کر اپنی راہ درست کرلے اور لیپ ٹاپ دینے کی بجائے تعلیم کی طرف توجہ دے۔
کیا یوسف رضا گیلانی نے ملتان کی فضائوں کو بھی فلائی اوورز سے نہیں بھر دیا تھا؟کیا پرویز اشرف نے سرکاری وسائل اپنے گجر خان کے حلقے پر بے دریغ خرچ نہیں کیے تھے؟(چکوال میں جن دوسڑکوںکی تعمیر کا وزیر ِ اعظم نواز شریف نے دو دن پہلے افتتاح کیا، وہ راجہ پرویز اشرف کے منصوبے تھے)۔ چوہدری پرویز الٰہی نے بہت زیادہ ترقیاتی کام کرایا.... صرف لاہور میں ہی نہیں بلکہ پنجاب بھر میں۔ پاکستان کی تاریخ میں مقامی حکومتوں کو ترقیاتی کاموں کے لئے کبھی اتنی رقم نہیں دی گئی جتنی مشرف دور میں، لیکن چونکہ سیاسی لہر ان کے خلاف چلنا شروع ہوگئی تھی، اس لئے 2008 کے انتخابات میں مشرف کی حمایت یافتہ پی ایم ایل (ق) اور گزشتہ انتخابات میں پی پی پی کی حکومت کا صفایا ہوگیا۔
اگر حکمر ا ن سوچتے ہیں کہ لیپ ٹاپ، فلائی اوور اور میٹرو بسیں اُنہیں بچا لیں گی تو اُنہیں تاریخ سے کچھ سبق لینا چاہئے۔ لوگ یہ چیزیں نہیں لوڈ شیڈنگ پر کنٹرول چاہتے ہیں اور اُنہیں ملک پر کوئی حکومت بھی نظر آئے۔ ان دونوں محاذوں پر موجودہ حکومت بری طرح ناکام ہوئی ہے۔ حکومت کے اہم وزیر اس کے سواکچھ کرتے دکھائی نہیں دیتے کہ عمران خان یا علامہ طاہرالقادری کے بیانات پر جوابی بیانات کی چاندماری جاری رکھیں۔ اُن سے اپنی وزارتیں تو چلائی نہیں جارہیں لیکن وہ میڈیا پر پوائنٹ اسکورنگ میں طاق ہوچکے ہیں۔ ماڈل ٹائون میں گڈ گورننس کا پول کھل گیااور اب نچلے عہدوںکے ملازمین کی قربانی دے کر بڑے افسران کو بچایا جارہا ہے۔حکومت ڈاکٹر قادری کی حالیہ پاکستان آمد کے موقع پر پیدا ہونے والی صورت ِ حال کوبھی نہ سنبھال سکی۔ اگر چودہ اگست کو عمران خاں اسلام آباد میں کوئی بڑا ہجوم اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیںتو حکومت کیا کرے گی؟
اس تنائو زدہ صورت ِ حال پر سابق صدر آصف زرداری نے بھی ایک بم گراتے ہوئے پی ایم ایل (ن) کے لئے پریشانیوں میں مزید اضافہ کردیا کیونکہ اُنھوںنے چار حلقوں میں ووٹوں کی تصدیق کے لئے عمران خان کے موقف کی حمایت کی ہے۔ اگر کسی حکومت کو اپنی کامیابی کا یقین ہو تو ا س لئے چار حلقوں پر ووٹوںکی دوبارہ گنتی کوئی معنی نہیں رکھتی،بلکہ اس عمل سے اس کی ساکھ مضبوط ہوتی ہے، تاہم موجودہ حکومت کے لئے یہ ایڑھی میں تیر کے مترادف ہوچکا ہے۔ ان اقدامات سے جمہوریت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں، اس پر سب جمہور یت پسندوںکو خاطر جمع رکھنی چاہئے، یہ عمل جمہوریت کی بہتری کے لئے ہی ہے۔ آج کی نئی نسل کو زیادہ علم نہیں کہ کبھی دفاعی اداروں کو مقدس گائے سمجھتے ہوئے ان کے بارے میںکوئی بیان دینے کی اجازت نہیں تھی، لیکن مشرف دور میں ا ن پر تنقید کرنے کارواج پڑ گیا۔ اس سے پہلے جنر ل ضیا نے پی پی پی کو کچلنے کی کوشش کی لیکن اس کے جابرانہ ہتھکنڈے کامیاب نہ ہوئے، لیکن جمہوری عمل نے پی پی پی کو کم از کم پنجاب کی حد تک اُڑا کررکھ دیا۔ مشرف نے شب خون مارتے ہوئے شریف برادران کو سیاسی طور پر ایک نئی زندگی عطا کی تھی۔ان کا 1997-99 کا دور کارکردگی کے اعتبار سے کھوکھلا تھا لیکن شب خون نے اُنہیں راتوں رات جمہوریت کا چمپئن بنادیا۔ اس مرتبہ شاید ان کی ’’مدد‘‘کو کوئی نہ آئے اور جنرل حمید گل کا دیا ہوا سبق بھی اس دور میں کارگر نہیں، چنانچہ ان کے ہاتھ سے معاملات پھسل رہے ہیں۔ ایک اورمثال پر غور کریں... کچھ عرصہ پہلے ایم کیو ایم ناقابل ِ تسخیر تھی، لیکن وقت اور حالات کے ساتھ جمہوری ارتقا نے کراچی میں اس کی چمک کو کچھ دھنددلادیا ہے اوراب صورت ِحال پر اس کا اتنا کنٹرول نہیں جتنا ہوا کرتا تھا۔ اب ایسا نہیں کہ صرف موجودہ حکومت کو ہی حالات کی سختی کا سامنا ہے، بلکہ پی پی پی بھی بہت مشکل صورت ِحال سے گزررہی ہے۔ دراصل مصائب اور آزمائش کے سامنے ہی پتہ چلتا ہے کہ کسی پارٹی میںکتنی صلاحیت ہے؟پی پی پی کی سب سے بڑی کمزوری فی الحال یہ ہے کہ اس کا تصور بہت محدود ہے، ورنہ ایسے طوفان اور شکست تو سیاسی جماعتوںکو حیات ِ نو عطا کردیتے ہیں۔ رائے ونڈ میں دہشت گردوں کے خلاف ہونے والے آپریشن سے ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے کہ آج پاکستان کا سب سے بڑا مسلہ گورننس ہے۔ امن و امان پر کنٹرول پہلے، باقی سب کچھ بعد میں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *