سٹیل مل چل سکتی ہے اگر۔۔۔!

naeem-baloch1

ایک خبر کے مطابق سٹیل مل اس وقت چالیس ارب روپے کی مقروض ہے۔ اگر اس کا انتظام ہو جائے تو چل پڑے گی ۔ ظاہر ہے کہ اس کے لیے قرض لینا پڑے گا اور یوں پاکستان کا ہر وہ بچہ جو ایک لاکھ روپے کا مقروض پیدا ہوتا ہے ، مزید مقروض ہو جائے گا۔ چلیں آپ نے قرض لے بھی لیا کیوں کہ یہ آپ کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے لیکن اس کی کیا گارنٹی ہے کہ سٹیل مل چلنے کے بعد لوہا پیدا کرنے کے بجائے مزید قرض پیدا نہیں کرے گی؟ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سٹیل مل کو مستقل طور پر چلانے کے لیے سرمایہ ہی نہیں قابل اور اہل انتظامیہ بھی چاہیے۔ یہ ہے وہ لمحہ جب میرا دھیان آصف علی زرداری،شریف برادران،جہانگیر ترین، علیم خان،ملک ریاض، میاں منشاء ، چودھری برادران وغیرہ کی دولت کی طرف جاتا ہے، جن کے لیے اس چالیس ارب روپے کی کوئی حیثیت نہیں ہے ؛ ان میں سے ہر ایک شخص ہنستے کھیلتے اتنے پیسے اکیلا دے سکتا ہے۔ لیکن وہ اگر بوجوہ ایسا نہ کرنا چاہیں یا کسی سبب واقعی نہ کر سکتے ہوں یا فرض کریں ہم نے ان کی دولت کا زیادہ اندازہ لگالیا ہے تو اس طرح کے چار پانچ’ غریب امیر‘ مل کر بھی اس کا بندوبست کر سکتے ہیں اور یہ قرض اس شرط پر بھی دیا جا سکتا ہے کہ اس کی واپسی خالص منافع منہا کرنے کے بعد لے لیا جائے گا۔ تب امید ہے کہ اتناانسوٹمنٹ نما قرض دینے کے بعد حالات یکسر مختلف ہوں گے۔ جس طریقے سے آصف علی زرداری کی روزافزوں بڑھتی دولت،شریف برادران کا سونا اگلتا کاروبار اور اثاثے، جہانگیر ترین کا چند سالوں میں کھڑا ہوتا بزنس امپائر،علیم خان اور ملک ریاض کا رئیل اسٹیٹ کا ککھوں لکھ بنتا دھندا ،میاں منشاء کا دولت کے انبار لگاتابینکنگ سسٹم اور چودھری برادران کا بیرونِ ملک ہر آن پھلتا پھولتا کاروبار کبھی نقصان میں نہیں گیا اسی طرح سٹیل مل بھی کبھی گھاٹے میں نہیں جائے گی لیکن پھر مجھے اپنے آپ پر ہنسی آتی ہے کہ میری یہ ساری سوچ کتنی بچکانہ ہے، پاکستان میں تو حکومت کے ذریعے پیسے بنائے جاتے ہیں، اس پر خرچ تھوڑ ے کیے جاتے ہیں!
میرا ایمان ہے کہ پاکستان اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا، جب تک اس کے حکمران ، حکمرانی کے بعدپہلے سے اس لیے کم دولت مند ہو جائیں کہ انھوں نے جتنی دولت کمائی ، اس سے زیادہ اپنے عوام پر خرچ کر دی !ایسی جمہوریت کو نہ کسی کے بوٹوں سے خطرہ ہو گا اور نہ کسی بیرونی سازش سے۔ عوام ٹینکوں کا بھی مقابلہ کر لیں گے اور ہنود ویہود کی سازش کا بھی!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *