لوگ غریب کیوں ہیں؟

ڈاکٹر محمد امجد ثاقبDr amjad

لوگ غریب کیوں ہیں۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ معاشی ‘ سیاسی اور سماجی ۔ ایک وجہ کا اندازہ آپ کو اس کہانی سے ہوگا۔اس شخص کا نام تیواڑی تھا۔اد ھیڑ عمر‘ پستہ قد اور تبتی نقش و نگار۔میری اس سے ملاقات کھٹمنڈو کے ایک نواحی گاؤں میں ہوئی۔
اس نے ڈرتے ڈرتے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور کہنے لگا ۔’’ آپ غربت کی وجہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ ایک وجہ میں بھی بتا سکتا ہوں۔میرا تعلق ایک انتہائی غریب گھرانے سے ہے۔ میرے خاندان کے آٹھ افراد ہیں۔ دو کچے کمروں کے سوا میری کوئی ذاتی ملکیت نہیں۔ یہ کمرے بھی کیا ہیں‘ دھوپ اور سردی سے بچاؤ کا ایک بہانہ ہے۔ گھر کے سامنے نہ کوئی سڑک ہے نہ پختہ گلی اور نہ کوئی بدروبہتی ہے جو گھر کی غلاظت بہا کے لے جا سکے۔ مکان کی چھت‘ بانس کے شہتیروں اور ٹین کے زنگ آلود ٹکڑے جوڑ کے بنائی ہے۔ بادل ایک پہر برستے ہیں تو چھت کئی پہر برستی ہے۔ ہمالیہ کی سرد ہواؤں سے مقابلے کے لیے کپڑوں کے چند بوسیدہ جوڑوں ‘ جوتوں کے ایک جوڑے ‘ ایک گرم لحاف اور پیوند لگی چادروں کے سوا میرے پاس اور کچھ نہیں۔ میرے جوتے کے نیچے اتنا بڑا سوراخ ہے کہ ایڑھی کا چمڑا زمین پر گھسٹ گھسٹ کے جوتے سے زیادہ سخت ہو چکا ہے۔ میں کبھی ہسپتال گیا‘ نہ کبھی دوائی لی ۔ان دور دراز پہاڑوں میں ایسی سہولت نہیں ہوتی۔ تھوڑا سا تعلیم یافتہ بھی ہوں۔ میں نے ایک بار پڑھا کہ جن لوگوں کے دل میں ترقی کی خواہش ہو‘ انھیں بنکوں سے سرمایہ مل سکتا ہے۔ یہ رقم لے کر وہ فیکٹری یا دوکان بنا سکتے ہیں‘ اپنی آمدنی اور خوش حالی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ یہ تو بہت اچھا طریقہ ہے۔ اگر ہمت کروں تو میں بھی اس طریقہ سے اپنی غربت دور کر سکتا ہوں۔ میں نے اپنے ایک نوجوان رشتے دار سے بات کی ۔ وہ شہر میں رہتا تھا۔میں نے اس سے کہا کہ مجھے بنک لے چلو تا کہ مجھے بھی کچھ رقم بطور قرضہ مل سکے۔ میں بھی اپنے خاندان کی غربت کا علاج کر سکوں اور خوش حالی کی راہ پہ چل سکوں۔ میری یہ بات سن کے وہ ہنس پڑا۔ کہنے لگا ۔’’تیواڑی چاچا ! تو تو بھولا بادشاہ ہے۔ یہ کیسی باتیں سوچنے لگا ہے۔ بنکوں سے ان کو پیسے ملتے ہیں جن کی زمین‘ جائداد ہو‘ کوٹھی‘ بنگلا ہواور اپنی جیب میں بھی کچھ رقم ہو‘ تمھارے پاس یہ سب کچھ بھلا کہاں ہے‘‘۔ میں یہ سن کے بے حد حیران ہوا۔ میں نے اسے کہا کہ جس شخص کے پاس زمین‘ جائداد‘ کوٹھی‘ بنگلا ‘ اتنا کچھ موجود ہو وہ تو پہلے سے خوش حال ہے‘ کھاتا پیتا ہے۔ اسے بھلا اور رقم کی ضرورت کیوں ہو گی۔ میرا بھتیجا کہنے لگا ’’ہاں چاچا بنکوں کا نظام تو اسی طرح چلتا ہے۔ یہاں اسی کو پیسا ملتاہے جس کے پاس پہلے سے پیسے ہوں ۔۔۔۔۔۔ غریبوں کو پیسا نہیں ملتا کیوں کہ بنک والے کہتے ہیں کہ ان کے پاس ضمانت نہیں۔ وہ یہ رقم لے کے بھاگ جائیں گے اور واپس نہیں کریں گے۔ ہم ان پہ اعتماد نہیں کر سکتے‘‘۔ یہ سن کے مجھے بے حد صدمہ ہوا۔ یہاں تک کہ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔میں سوچتارہا کہ غربت اور کردار کا آپس میں کیا تعلق ہے۔ یہ کہاں لکھا ہے کہ غریب آدمی دھوکے باز ہو گا۔ کیا امیرآدمی جھوٹ نہیں بولتا‘ دھوکا نہیں دیتا۔ پھر یہ تہمت غربت کی پیشانی ہی پہ کیوں لگی ہے ۔ میرا جی چاہا کہ میں اس نا انصافی پہ احتجاج کروں‘ دہائی دوں کہ یہ بنک والے غریب کی مدد کرنا ہی نہیں چاہتے۔ اگرقرضوں کی تقسیم کا یہی طریقہ ہے تو میرے گاؤں کے ان گھرانوں کوتو قرضہ نہیں مل سکتا جن کے پاس زمین گھر‘ جائداد اور دھن دولت تو دور کی بات ‘ رات کی روٹی کا بھی انتظام نہیں۔ کیا وہ خوش حال نہیں ہونا چاہتے؟ کیا وہ اس ملک کے شہری نہیں؟ کیا وہ اس دھرتی کے دشمن ہیں؟ یہ کہتے ہوئے اس کی نگاہیں فضا میں جھانکنے لگی۔
تیواڑی کی یہ کہانی صرف نیپال کی نہیں بل کہ جنوب ایشیاکے ایک ارب انسانوں کی کہانی ہے جو زمین اور جائداد سے محروم کاروبار کے لیے سرمایے کے منتظر ہیں اور مالیاتی ادارے ان پہ ناقابل اعتبار ہونے کی مہر ثبت کیے جاتے ہیں۔پاکستان‘ بنگلادیش‘بھارت ‘ نیپال‘ سری لنکا۔ غربت کی بہت سی وجوہات ہیں۔ ان میں سے ایک وجہ بنکوں کا موجودہ نظام بھی ہے جو غریبوں پہ اعتماد نہیں کرتا۔ ستر فی صد غریب موجود ہ معاشی نظام میں قرضوں ‘ بچت‘ انشورنس ‘ لیزنگ اور منی ٹرانسفر کی سہولت سے مستفید نہیں ہوسکتے۔ ہماری سیاسی جماعتیں ‘ سماجی ماحول ‘ معاشی ڈھانچہ اور فرسودہ اقتصادی نظام۔۔۔مزدوروں اور غریبوں کے لیے یہاں کچھ بھی نہیں۔۔۔لوگ غریب کیوں ہیں یہ باب سمجھنے کے لیے بہت زیادہ فہم و فراست کی ضرورت نہیں۔ اصل سوال تو یہ ہے کہ کیا ہم اس فرسودہ نظام کو بدلنے کا عزم بھی رکھتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *