باطن کا کیڑا

muhammad asif

کہتے ہیں کہ غالباٰ کوئی بہت بڑا دانا گزرا ہے تاریخ میں. جس کے سامنے ایک زرق برق ایک خوش پوش ایک نفیس لباس والا جا کر کھڑا ہوگیا۔ دانا درویش نے اس نوجوان سے استفسار کیا کہ تہمارے لباس سے معلوم ہوتا ہے کہ تہمارے اندر جاہ و حشمت کا کیڑا ہے۔ خودنمائی اور خود فریبی کا کیڑا۔ ماسوائے اپنے, سب کو کیڑا سمجھنے کا خبط معلوم ہوتا ہے۔ لہذا اب تم اپنے منہ سے کچھ بولو کہ میں جان سکوں اور تہمارے ظاہری رکھ رکھاو اور شخصیت کا جو اندازہ میں نے لگایا  ہے ہو سکتا ہے  کہ اس پر مجھے نظرثانی کرنی پڑے کہ یہ جو دِکھ رہا ہے یہ جو ایک آنکھوں کو خیرہ کردینی والی ایک شخصیت سامنے موجود ہے حقیقت حال میں واقعی کوئی ہیرا ہےیا اپنی اصل میں کوئی کیڑا ہے۔
حقیقت میں ہم سب کیڑے ہیں۔ ہماری حیثیت کییڑوں سی ہی ہے ہماری اوقات انھی جتنی ہے۔ یہ اُن لوگوں کی سوچ ہے جو عاجز ہوتے ہیں۔ عجز جن کا ہتھیارہوتا ہے۔ شر م و حیا جن کے پیشِ نظر ہوتاہے۔ جن میں خدا اپنی محبت اور فیض سے ایک ایسا عجز پیدا کردیتا ہے کہ یہ لوگ خود کو حقیر کیڑا سمجھتے ہوے بھی خدا کی نظر میں اور اسکی مخلوق کی نظرمیں شاندار نکلتے ہیں۔ مگر کچھ لوگ ظاہر میں بہت دلفریب ہوتے ہیں۔ ان کا لباس ان کا انداز، انکی گفتگو اور انکا اخلاق درجہِ کمال پر ہوتےہیں۔ لوگ انکی طرف محبت سے کِھنچے چلے جاتے ہیں۔ جوق درجوق ان سے پروانہ وار محبت کرتے جاتے ہیں۔ یہ لباسِ فاخرانہ پہنے ہوئے لوگ اپنی چرب زبانی سے قائداعظم کو مات دیتے نظرآتےہیں۔
یہ جب عالمِ دین بنتے ہیں تو متقی و پرہیز گار ہوتےہیں۔ ہمیں خدا کی راہ دکھارہے ہوتےہیں۔ دلوں کو پسیج کر جسموں اور ذہنوں پر حکومت کر کے سستی شہرت حاصل کرنیوالے یہ بلندیوں پر پہنچتے ہیں۔سیاست کی بات کریں تو سیاہ کو سفید کردیں,غدار کو محبِ وطن اور محبِ وطنکو دیوار میں چنوا دیں, یہ لوگ پبلک جینئس ہوتےہیں, بہت مہارت سے رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرتے ہیں
مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک متوازی قوت بھی چل رہی ہوتی ہے جو ظاہر باطن سب دیکھ رہی ہوتی ہے .......اور پھر۔۔۔۔۔پھر واپسی کاعمل شروع ہوتا ہے۔ لباسِ فاخرانہ والے کے اندر سے چیتھڑے برامد ہوتے ہیں۔وہی زباں جو محبت اور الفت کے گن گاتی تھی ایک ہی ابکائی میں سارا بدباطن نکال کر باہر پھینک دیتی ہے۔
میں بھی ایک ایسے ہی کیڑے کو جانتا ہوں۔ میں  اس بظاہر انسان نما کیڑے کو بہت محبت اور عقیدت سے دیکھا کرتا تھا۔ میں نے دیکھا کہ مذہب کا چولہ پہنے اس نے جب بھی عوام کو کیڑا سمجھتے ہوے اسکے عقائد اور نظریات سے کھیلنا چاہا یہ کامیاب ہوا۔ اپنی "لیاقت"پر فخر کرتے ہوے اس نے کئی مذہبی شخصیات کو گالیوں سے نوازا، اس نے ٹی وی کارخ کیا اور پہلے اپنی چرب زبانی سے لوگوں میں شہرت حاصل کی اسکے بعد اندر کے کیڑے کو زیادہ دیر چھپا نہ سکا اور جھوٹی شان اور بان حاصل کرنے کی خاطر ہر وہ حربہ اختیار کیا اور لوگوں کو بےعزت کرنے اور انکی پگڑیاں اچھالنے میں سب کو پیچھے چھوڑ سکتا تھا.
اس مداری نما کیڑے کے کیا کہنے کہ وہ مہینہ جس کے تقدس اور احترام کا خیال ایامِ جاہیلیہ میں کفار ومشرکین بھی کرتےتھے اس نے اُس مہینے میں بھی اپنا بدباطن ایسے ظاہر کیا کہ وہ لمحات جن میں لوگ اللہ کو مانگتےتھے اب موٹرسائکل مانگتے تھے۔ اِس "حسینی" نام والے نے اپنے نام کی بھی خوب لاج رکھی اور میر و غالب کی شاعری کے بہانے لڑکیوں کے ریپ تک کی گفتگو معروف عالمِ دین کے سامنے کر جاتا. اس نے جھوٹی شہادت کا ڈھونگ رچایا اور
اس سیاسی اداکار نے اپنے غدار آقا کی خوشنودی کے لیے ہر وہ حد پار کی جو کی جاسکتی تھی۔ اگر اس کے آقا نے پاکستان بننے کو  برصغیر کی سب سے بڑی غلطی قراردیا تو اس کیڑے نے اس کے بھی جواز ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ اگر اس کے ڈگڈگی نما آقا نے را سے مدد مانگی تو اس نے اس کو بھی اپنی لفظوں سے اور چرب زبانی سے اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کی۔
یہ سب اسی زرق برق لباس اور ظاہری رکھ رکھاو والے دیدہ زیب شخصیت کے اندر سے برامد ہوتارہا۔اسی خوبصورت لباس نے مجھے ایک ایسے شخص سےملایا جو کمیرے کےسامنے مدحتِ رسول کرتاہے مگر خبثِ باطن میں اس قدر کریہہ ہے کہ دین فروشی کا جیتا جاگتا مجسمہ ہے. خدا مجھے اس کیڑے کے شر سے محفوظ رکھے کہ شکل مومناں کرتوت کافراں کےمصداق ایسے شخص سے بچنا آسان بھی نہیں ہے.
اور مجھے اس دانا درویش کے ایک ایک لفظ پر ایمان لانے کو دل کرتا رہا ۔ کہ جب کوئی بولتا ہے تو اپنی "لیاقت"ظاہر کرتا ہے۔ اپنی اصل پیش کرتا ہے۔اور یہ اصل تب سامنےآتا ہے جب اُس کا واسطہ کسی درویش سے پڑتا ہے..جو اس کے اندر باہر کو آئینے کے مثل دیکھ رہا ہوتا ہے. ایسے ہی ایک درویش نے اسے کل دیکھا ہے. اور اس کی طبعیت صاف کر کے رکھ دی ہے. اس کے بعد جب اس کی زبان کھُلی ہے تو اسی کیڑے کی طرح بس زہر ہی نکلا ہے. وہی زہر جو خوبصورت اور دیدہ زیب لباس کے پیچھے چھپا پڑا تھا.وہی خبث باطن جس کا ظہور ہم نہ کریں تو اپنے ہی زہر کی تاثیر سے ڈنکے جائیں اسی لیے ہم اس زہر کو دوسروں پر پھینکتےہیں.

بےشک انسان کسی دوسرے کووہی دےسکتا ہے جو اس کےپاس ہے..

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *