تیری مدد سے اے رحمان، کشمیر بنے گا پاکستان

اخت سعد الرحمان

kash

وہ ایک ہونہار طالب علم تھا۔۔۔ کھیلنے کی عمر میں ہتھیار اٹھا کر آزادی کی خاطر اور اپنے بھائی کا بدلہ لینے کے لیے میدان میں نکل پڑا۔۔۔ کافروں کو للکارنے والا۔۔۔ نوجوانوں کو ابھارنے والا ۔۔۔ کفر کی آنکھ میں کانٹا۔۔۔ نوجوانوں کے جذبوں کو گرما کر خود شہادت پا کر اللہ کی جنتوں میں پہنچ گیا ۔۔۔ جی ہاں ! یہ تھا کمانڈر برہان مظفر وانی شہید ۔۔۔جس کی مخبری پر 10لاکھ انعام مقرر تھا ۔
شہادت ایک ایسا کھیل ہے جس میں خون کی بازی لگانا پڑتی ہے ، شہادت ایک ایسا چراغ ہے جو صرف خون سے جلتا ہے اور اس کی روشنی دور دور تک جاتی ہے ، شہادت ایک ایسا سیدھا راستہ ہے جو سیدھا جنت کو جاتا ہے، شہادت ایک ایسا قسمت والا پھول ہے جو ہر کسی کو نہیں ملتا بلکہ مقدر والے انسان کو ملتا ہے ۔
مرد مومن کی نشانی کوئی مجھ سے پوچھے
موت جب آئے گی اس کو تو وہ ہنستا ہو گا
تحریکیں ، جماعتیں ، ملک اور قومیں شہداء کے خون اور قربانیوں سے ہی بنتی اور تیار ہوتی ہیں، یہ خون اور قربانیوں کا خلوص اور طاقت ہے کہ ہر دل دھڑک اٹھتا ہے ، ہر انسان تڑپ اٹھتا ہے اور انتقام کی آگ اور آزادی کی جدوجہد میں سلگنے اور آگے سے آگے ہی بڑھنے کا عزم کرتا ہے۔۔۔ شہید کبھی مرتا نہیں ، شہداء کے خون کے ساتھ ہی ایک طوفانِ انقلاب برپا ہوجاتا ہے ۔۔۔
اے شہیدو! تمہارا یہ احسان ہے
آج ہم سر اٹھانے کے قابل ہوئے
ظلم سہتے رہے ہیں بڑی دیر تک
آج بدلہ چکانے کے قابل ہوئے
یہی وجہ ہے کہ برہان کی شہادت سے آج کشمیر میں آزادی کی تحریک ایک بار پھر تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی ہے، جتنی تحریک تیز ہو رہی ہے ، اتنا ہی کفر کا ظلم بڑھتا جا رہا ہے ، کہیں تڑپتے لاشے ، کہیں ترستے زخمی، کہیں روتی مائیں ، کہیں سسکتی بہنیں ، روتے بلکتے معصوم بچے اور تڑپتے نوجوان ، جنہیں برہنہ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔۔۔ ایسی بندوقیں استعمال میں کی جا رہی ہیں جن سے اعضاء خصوصاً آنکھیں متاثر ہو رہی ہیں ۔۔۔ انٹرنیٹ ، موبائل اور ٹیلی فون کا نظام بند کر دیا گیا ہے اور لوگوں کو ایک دوسرے سے رابطہ کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہیں۔۔۔ کرفیو نافذ ہے ۔۔۔ کشمیری محصور ہو کر رہ گئے ہیں ۔۔۔
لیکن اس سب کے باوجود جذبہ جہادو آزادی گرم ہوتا جارہا ہے ، اور کشمیریوں نے آخری بات کہہ دی کہ یا تو آزادی حاصل کریں گے یا شہادت پائیں گے ۔۔۔
ان شاء اللہ دنیا کا اب زاویہ بدلے گا
تاریخ رقم ہو گی جغرافیہ بدلے گا
سب بیڑیاں توڑی ہیں ہر طوق اتارا ہے
کشمیر ہمارا ہے کشمیر ہمارا ہے
اٹھے ہیں قدم اپنے منزل کو بھی پا لیں گے
کشمیر کی دھرتی سے اب بھارت کو نکالیں گے
حالات کی مرضی ہے قدرت کا اشارہ ہے
کشمیر ہمارا ہے اور سارے کا سارا ہے
1947سے لے کر آج تک آزادی کے لیے دی گئی قربانیوں سے ثابت ہوتا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ، یہی وجہ ہے کہ کشمیری آج تک قربانیوں کی داستانیں رقم کر رہے ہیں۔۔۔
دوسری طرف پاکستانیوں نے بھی یہ ثابت کر دکھایا کہ اے کشمیریو!
تم تنہا نہیں ہو، تم پریشان نہ ہونا، لاکھوں پاکستانیوں کے دل تمہارے ساتھ دھڑکتے ہیں، ہزاروں مسلمان جان کا نذرانہ پیش کرنے کو تیار بیٹھے ہیں ۔۔۔ وطن عزیز کی بقا بھی تو کشمیر کی بقا کے ساتھ ہے ۔۔۔ پاکستانیوں کی زندگی بھی تو کشمیریوں کی زندگی کے ساتھ ہے۔۔۔
جماعۃ الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید کی کال پر لاہور تا اسلام آباد کارواں میں ہزاروں پاکستانیوں نے شرکت کی ، اس موقع پر مظلوم کشمیریوں کے حق میں اور بھارت سرکار کیخلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔لاہور سے اسلام آباد تک کشمیرکارواں کے اختتام پر کشمیر ہائی وے پر ہونے والے بڑے جلسہ عام سے مذہبی، سیاسی، کشمیری جماعتوں کے قائدین، متحدہ جہاد کونسل اور حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے خطابات کیے۔جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کشمیر کا حصول پاکستان کے لئے ز ندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔قائدا عظم نے فرمایا تھا کہ کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے اور یہ پاکستان کی شہ رگ ہے لیکن حکومت جدوجہد آزادی کے ساتھ بے وفائی کر رہی ہے یہ تحریک پاکستان اور علامہ اقبال کے مشن کے ساتھ بے وفائی ہے۔ہم کشمیری قوم کو سلام پیش کرتے ہیں۔تحریک شہداء کے خون کی وجہ سے اٹھی ہے۔پانچ لاکھ کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی گئی۔کشمیری پکار رہے ہیں کہ کیا پاکستان مین کوئی محمد بن قاسم ہے؟ہمارے پڑوس میں لائن آف کنٹرول کے اس طرف مظالم دیکھ کر بھی بے حسی اختیار نہیں کرنی چاہیے۔برہان وانی کی شہادت نے قوم کو نیا جذبہ دیا ہے۔طاقت کی بنیاد پر بھارت کشمیریوں کو کنٹرول نہیں کر سکا۔انہوں نے کہا کہ ہم ا علان کرتے ہیں ایسی حکومت قابل قبول نہیں جو کشمیریوں کے لئے آواز نہ اٹھائے،مجھے وقت کا صلاح الدین،غزنوی،محمد بن قاسم چاہئے۔اسلام آباد سے سید علی گیلانی،شبیر شاہ،یاسین ملک و دیگرکو پیغام دیتا ہوں کہ اگر حکومت سوئی ہے تو بیس کروڑ عوام آپ کی پشت پر کھڑی ہے۔اقوام متحدہ قراردادوں پر عمل کروائے جس کو انڈیا نے خود تسلیم کیا۔مقبوضہ کشمیر سے بھارتی فوج کو نکالا جائے۔انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ہم خون کے آخری قطرے تک کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر زبیر نے کہاکہ کشمیر کے مظلوم عوام پر بھارتی دہشت گردی کے خلاف آج قوم یوم احتجاج منا رہی ہے۔حافظ محمد سعید مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے عظیم الشان اجتماع منعقد کر کے کشمیری عوام کو پیغام دیا کہ دکھ کی اس گھڑی میں انکے ساتھ ہیں۔کشمیریوں پر مظالم کی وجہ پوری دنیا بالخصوص اہل پاکستان بے چین ہیں۔بھارتی درندگی سے نمٹنے کا طریقہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جہاد بتا دیا۔پوری قوم اعلان کر رہی ہے کہ ہم مظلوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں اور یہ مسئلہ جہاد سے حل ہو گا۔پاکستان اسلام کے نام پر بناتھا۔پاکستان کے استحکام اور کشمیر کی آزادی کیلئے جدوجہد کرنی ہے۔انہوں نے کہا کہ طیب اردگان نے بنگلہ دیش میں پاکستان سے محبت کرنے والوں کو پھانسیوں کی وجہ سے بنگلہ دیش کے سفیر کو نکال دیا تھا۔حکمران سیکولرازم کو چھوڑیں اور اسلا م کا پرچم بلند کریں۔کشمیر کی آزادی کی بات کریں۔
متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین سید صلاح الدین نے کہاکہ اقوام متحدہ امریکہ کی زر خرید لونڈی ہے جس نے کشمیریوں کی نسل کشی پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور کشمیریوں کی کہیں سے حوصلہ افزائی نہیں ہو رہی۔ ان حالات میں لاہور سے اسلام آباد تک فقید المثال کارواں اور آپ کی والہانہ وابستگی دیکھ کر ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں قبول فرمائے۔ یہ تاریخی حیثیت رکھتا اور کشمیریوں کیلئے حوصلہ افزا پیغام ہے لیکن آپ اچھی طرح جانتے ہیں ہم حکمرانوں کے سامنے اپنی بے حسی بیان کرتے ہوئے عاجز آچکے ہیں ۔ مذاکرات اورتجارت سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینرغلام محمد صفی نے کہا کہ عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندرکشمیر کے نام پر مجتمع ہوا ہے اور حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے یہ بات کافی ہے کہ کشمیر ایک ایسی حقیقت اور مسئلہ ہے جس پر پوری پاکستانی قوم سڑکوں پر آ کر انقلاب برپا کر سکتی ہے۔جس بنیاد پر پاکستان وجود میں آیا اور مقبوضہ کشمیر کے عوا م پاکستان کے ساتھ ملنے کے متمنی ہیں ،نظریہ اسلام اپنے اندر کشش رکھتا ہے اور اگر اسلام کے ساتھ بے وفائی کی جائے تو پھر مشرقی و مغربی پاکستان ایک نہیں رہتے۔انہوں نے کہا کہ حافظ محمد سعید ہماری کاز کے ہمدرد ہیں۔اسی لئے کشمیری ان سے محبت کرتے ہیں۔امریکہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کا مخالف ہے اسی لئے حافظ محمد سعید کو دہشت گرد قرار دیا، ہم امریکہ کو دہشت گرد سمجھتے ہیں۔
دفاع پاکستان کونسل اورجماعۃ الدعوۃ کے مرکزی رہنما حافظ عبدالرحمان مکی نے کہا کہ اصل اسمبلی یہ ہے جو کشمیر ہائی وے پر جمع ہے۔ جن لوگوں کو انہوں نے منتخب کیا تھا وہ پانامہ لیکس میں گم ہو چکی ہے۔سری نگر کوئی منزل نہیں‘ ہماری منزل کشمیر ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کے کشمیر پر قبضے کسی صورت برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکمرانوں نے کشمیریوں کو مایو س کیا اور قومی پالیسیوں سے انحراف کر کے کشمیریوں کو دھوکہ دیا۔ ہندوستان سے دوستیاں نبھائی گئیں۔ امریکہ نے ہندوستان کو کشمیریوں کے قتل عام کا لائسنس دے رکھا ہے لیکن حکمرانوں نے خاموشی اختیا رکئے رکھی۔ آج دہلی میں انتہاپسند حکومت کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دے رہی ہے۔ وہ جموں میں آبادی کا تناسب بدل رہے ہیں۔ بھارتی فوجیوں کو وہاں بسایا جارہا ہے۔ میں آج یہ پیغام دیتا ہوں کہ ہم کشمیریوں کا انتقام لیں گے۔
دفاعی تجزیہ نگار،پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے چیئرمین جنرل(ر) امجد شعیب نے کہا کہ کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کرنے کے لئے اس جم غفیر کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے جو ش و جذبے کے ساتھ باور کروایا کہ کشمیری اکیلے نہیں بلکہ پاکستانی قوم انکے ساتھ ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑے۔مظفر وانی کی شہادت والے دن ہی پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہونا چاہئے تھا۔مختلف ممالک میں وفود جاتے اور بھارتی مظالم کی تصاویر دکھاتے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اڑسٹھ برسوں میں آٹھ لاکھ فوج کے باوجود کشمیریوں کو نہیں دبا سکے۔اب کشمیر کی آزادی منزل قریب نظر آ رہی ہے۔بھارت تباہی سے پہلے آنکھیں کھولے اور کشمیریوں کا انکا حق دے۔کشمیری صفوں میں اتحاد رکھیں گے تو انکی جدوجہد جلد منزل کی جانب پہنچے گی۔

karwan
ہدیۃ الھادی پاکستان کے چیئرمین سید ہارون علی گیلانی نے کہا کہ حافظ محمد سعید نے لاہور سے لے کر اسلام آبا دتک کامیاب لانگ مارچ کر کے حکومت پاکستان ،بیرونی دنیا کو پیغام دیا۔وہ مبارکباد کے مستحق ہیں کہ جنہوں نے کشمیر کی روتی آنکھوں کے آنسو پونچھ لئے۔ہم اتحاد کے ذریعے سے لاکھوں کے جلسہ عا م میں صرف ہندوستان کو نہیں بلکہ اسرائیل و امریکہ کو بھی پیغام دیں گے کہ تمہاری بربادی کا نقطہ آغاز کشمیر سے ہی شروع ہوکر رہے گا۔اس موقع پر پیر سید ہارون علی گیلانی نے ’’تیری مدد سے اے رحمان،کشمیر بنے گا پاکستان،کشمیر سے رشتہ کیا لاالہ الااللہ‘‘ کے نعرے بھی لگوائے۔
انصارالامۃ پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہاکہ بھارت نے اگر مسئلہ کشمیر حل نہ کیا تو یہ قافلہ سری نگر بھی جاسکتا ہے۔ یہ قافلہ اب رکنے والا نہیں ہے۔ شہداء کے خون سے قومیں زندہ و بیدار ہوتی ہیں۔ ہم سب برہان وانی ہیں۔ مودی کو خوش کرنے کی بجائے کشمیریوں کا اعتماد بحال کریں۔ ان کے زخموں پر نمک مت چھڑکیں۔مسئلہ کشمیر سے غداری کرنے والوں کو قوم کسی صورت معاف نہیں کرے گی۔ جماعۃ الدعوۃ کے مرکزی رہنما مولانا امیر حمزہ اورقاری محمدیعقوب شیخ نے کہا کہ پاکستانی قوم کشمیریوں کی مدد کے لئے سڑکوں پر نکلی ہے،آج کشمیریوں نے پاکستان کا پرچم اٹھایا،اپنی گھڑیوں کا ٹائم پاکستان کے ساتھ ملایا اور عید بھی پاکستان کے ساتھ کی،وہ قربانیاں دے رہے ہیں‘ اب ہماری باری ہے۔ متحدہ جہاد کونسل کے جنرل سیکرٹری اورتحریک المجاہدین کے امیر شیخ جمیل الرحمان نے کہا کہ برہان وانی کی شہادت نے پوری قوم کو مجتمع کر دیا ہے۔کشمیری گھروں سے نکلے تو آج پاکستانی قوم بھی سڑکوں پر ہے۔کشمیری قربانیاں دیتے چلے آ رہے ہیں۔سبز ہلالی پرچم لہراتے کشمیری جانیں قربان کر رہے ہیں۔جن آنکھوں نے پاکستان کا خواب دیکھا ان سے بینائی چھینی جا رہی ہے۔پاکستان کو عملی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
تحریک نوجوانان پاکستان کے چیئرمین عبداللہ گل نے کہا کہ کشمیر کارواں دو دن میں لاہور سے اسلام آباد پہنچا ،راستے میں ایک پتا تک نہیں ٹوٹا،میں نے اپنی زندگی میں ایسا نظم وضبط کسی جماعت میں نہیں دیکھا۔انہون نے کہا کہ ہندوستان کے چہرے پر سیاہی تو پہلے سے لگی ہوئی ہے۔کشمیر پر پاکستان کی مجرمانہ خاموشی رہی تو پھر اقوام متحدہ کی فوجیں کشمیر میں اتاری جائیں گی جو کسی کو پسند نہیں آئے گا۔بھارتی مظالم سے نظریہ پاکستان زندہ ہو رہا ہے۔برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر کے نوجوان تحریک آزادی میں اور تیز ہو گئے ہیں۔جماعت اہلحدیث کے امیر حافظ عبدالغفار روپڑی نے کہا ہے کہ حافظ محمد سعید کی قیادت میں لاہور سے چلنے والا کشمیر کارواں اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔لاہورسے روانہ ہوتے ہی مودی نے پکارنا شروع کر دیا کہ مجھے حافظ سعید سے بچایا جائے،مودی کو اوباما،نیٹو فوج اور نواز شریف بھی نہیں بچا سکتے۔
انجمن تاجران اسلام آباد کے صدر اجمل خان بلوچ نے کہا کہ کشمیر ہائی وے پر کشمیر کانفرنس ہو رہی ہے،حافظ محمد سعید کے چہرے سے ہمیں کشمیر نظر آتا ہے۔قوم سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں کہ کشمیر کے لئے ہم سب کیوں نہیں نکلتے۔اس کے علاوہ مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی ملک رشید احمد، جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی رہنما پیر محفوظ مشہدی، معروف دانشور اور قانون دان احمد رضا قصوری، متحدہ جمعیت اہلحدیث کے امیر سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے مرکزی رہنما رفیق ڈار، اور تحریک فیضان اولیاء پنجاب کے صدر پیر حبیب عرفانی نے بھی پرجوش خطابات کیے۔
امیر جماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا کہ کارواں کے شرکاء میں جو جوش و جذبہ لاہور سے نکلتے ہوئے تھا وہی آج اسلام آباد میں ہے،یہاں آنے والے کچھ پیغام دینے آئے ہیں۔ یہ صرف باتیں کرنیوالے نہیں میدانوں میں اللہ کے حکم پر قربانیاں پیش کرنے والے ہیں۔ چند دن پہلے سیدہ آسیہ اندرابی سے ٹیلیفون پر بات ہوئی تو پندرہ منٹ کی گفتگو کے دوران ان کی آواز بھرائی رہی۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری سڑکوں پر ہیں پاکستانی کیا کر رہے ہیں۔ اس وقت ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم پاکستان میں بھی وہی ماحول پیدا کریں گے جو آج کشمیر میں ہے۔ کشمیر میں خون بہہ رہا ہو تو ہم آرام سے نہیں بیٹھ سکتے جب تک اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو وہ جذبات پیش نہ کردیں کہ جن کے ساتھ ان کا دل ٹھنڈا کر دے۔ دلوں کو اطمینان اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔ فوری طور پر یہ فیصلہ کیا اور تین دن کے اندر یہ قافلہ تیار ہوا۔ آج ہر شخص کے دل میں کشمیریوں کی مددکا جذبہ موجود ہے۔ ہر دل انڈیا کی نفرت میں دہک رہا ہے کوئی اس کا ظلم برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ سخت گرمی حبس کے باوجود کارواں کے شرکاء چلے لیکن آخر میں بھی وہی جذبہ موجود ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جہاں آپ کا خون گرے گاوہاں ہمارا خون گرے گا یہ اسلام کا خون ہے۔انڈیا کے اڈوں پر امریکی ڈرون موجود ہیں۔ پاکستان کے خلاف معاہدے کیوں ہو رہے ہیں ؟ اس کے پیچھے بہت بڑی سازش ہے۔ ہم کشمیری بھائیوں سے گزارش کرتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں صرف زبانی دعووں کے ساتھ نہیں آپ نے جوجہاد کا نعرہ لگایا ہمارا بھی نعرہ یہی ہے تو ان شاء اللہ یہ قافلے کا پہلا مرحلہ ہے۔ ان شاء اللہ اگلے مرحلہ میں یہ قافلہ چکوٹھی، مظفر آباد جائے گا۔ وزیر اعظم نواز شریف فوری فیصلے کریں۔ اب دیر کا وقت نہیں۔ آپ نے یوم سیاہ کا اعلان کیا یہ تو رات بارہ بجے ختم ہو جائے گا۔ یہ وہ چیز نہیں ہے ،اگر آپ نے یوم سیاہ کا اعلان کیا تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ جب تک کشمیریوں پر سے ظلم ختم نہیں ہو تا تو انڈین آرمی کے درندے جو گولیاں برسا رہے ہیں تو اس وقت تک آپ انڈیا سے ہر قسم کے تعلقات پر سیاہ لائن کھینچ دو۔ اگر یوم سیاہ صرف اشک شوئی کیلئے نہیں تو صاف کہہ دو کہ اگر بھارت علی گیلانی کا چار نکاتی فارمولہ قبول نہیں کرتا تو اس کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرو۔ پہلے بھی کشمیر کیلئے ایسے بہت نعرے لگائے گئے۔ اب حد ہو چکی یہ کارواں آپ سے سیدھی بات کرنے آیا ہے۔ ختم کرو یہ معاہدے۔ انہوں نے کہاکہ پہلے امریکہ کہتا تھا کہ کشمیر میں قتل و غارت گری انڈیا کا اندرونی مسئلہ ہے۔آج بھارت کی دوستی میں امریکہ اس قدر اندھا ہوگیا کہ اب وہ کہتا ہے کہ یہ کشمیر بھارت کا اندرونی مسئلہ ہے۔کشمیر حق رکھتا ہے کہ آپ امریکہ سے تعلقات پر نظرثانی کریں۔کہاجاتا ہے کہ ہم پارلیمنٹ میں کشمیریوں پر ظلم کی مذمت کریں گے۔ مذمت تو یہ ہوتی ہے کہ انڈیا اسے محسوس کرے۔ پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینٹ کے ممبران سے گزارش ہے کہ صرف مذمت سے کچھ نہیں ہو گا۔ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں۔ تجارت، ثقات اور سفارت کو مسئلہ کشمیر سے جوڑیں۔آج انڈیا کہتا ہے کہ ہم پاکستانی کشمیر پر بات چیت کریں گے۔ ہم حکمرانوں سے سوال کرتے ہیں کہ کیا اس سے آپ مطمئن ہو جاتے ہیں۔ آپ کوبنیادی فیصلے کرنے ہوں گے۔ اگر ایسا نہیں کرو گے تو یہ قافلہ کنٹرول لائن کو روند ڈالے گا۔ ہم کنٹرول لائن کونہیں مانتے۔ جب مشرقی پاکستان کا سقوط ہوا تو زبردستی سیز فائرلائن کو کنٹرول لائن میں تبدیل کیا گیا اگراسلام آباد سنجیدہ ہے تو ان مجبوری کے معاہدوں کی کوئی حیثیت نہیں، نہ تو یہ بارڈر لائن اور نہ ہی کنٹرول لائن ہے۔ ہر کشمیری کو پاکستان آنے اور لاکھوں پاکستانی کشمیریوں کو مقبوضہ کشمیر جانے کا حق حاصل ہے۔ یہ ان کا قانونی حق ہے کہ وہ کنٹرول لائن کو روندیں اور کشمیر کی آزادی کیلئے قربانیاں و شہادتیں پیش کریں۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر کی آزادی میں یہ جیالے اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ مودی کشمیر چھوڑ دیں۔ فوج نکالے اور علی گیلانی کے چار نکاتی فیصلہ قبول کرو۔ فوج مزید بھجوائے گا تو پھر سن لو!تمہیں بہت آگے تک بھگتنا پڑے گا۔ ان شاء اللہ فیصلہ کن مرحلے موجود ہیں۔ اب حکمران اور مودی سرکار سمجھ لے۔ امریکہ اور یواین سمجھ لیں ہر صورت میں کشمیر کا مسئلہ حل کرنا ہے۔ اگر نہیں کرنا تو ہم سب مل کر یہ کنٹرول لائن بھی روندیں گے اور کشمیر کی آزادی کیلئے جو کچھ بھی کرنا پڑا کریں گے۔
اے پاکستانیو!
اب جبکہ کشمیری اورپاکستانی جاگ اٹھے ہیں ، وہ جذبے ، وہ ولولولے ، وہ قربانیاں ، وہ آزادیوں کے عزم اب جاگ اٹھے ہیں ایسے میں
یہ شعلہ نہ دب جائے یہ آگ نہ سو جائے
پھر سامنے منزل ہے ایسا نہ ہو کھو جائے
ہے وقت یہی مسلمانو، جو ہونا ہے ہو جائے
کیونکہ جب کہیں بجھتا ہوا شعلہ ابھرتا ہے تو اگر اس کو گرمائش دی جائے تو کئی کئی میلوں تک جلا کر راکھ بنا سکتا ہے، یہی حال تحریکوں اور جذبوں کا ہے ۔۔۔جب تحریکیں اور جذبے ابھرتے ہیں تو بلند وبالا پہاڑ بھی ریت بن جاتے ہیں ۔۔۔ بپھرے دریا بھی روانی سے بہنے لگتے ہیں ۔۔۔ بڑے بھاری لشکر بھی تتر بتر ہو جاتے ہیں۔۔۔
یاد رہے ! جنگیں سازوسامان سے نہیں لڑتی جاتیں بلکہ جذبوں سے لڑی اور جیتی جاتی ہیں ۔۔۔ اور ان کو جیتنے کے لیے قربانیوں اور خون کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔
تاریخ لکھا کرتے ہیں جو خون سے اپنے
نام ان کا، نشان ان کا، مٹا ہے نہ مٹے گا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *