گڑے مُردے

رؤف طاہرRauf tahir

جناب یوسف رضا گیلانی خاصے لمبے غیاب کے بعد منظر عام پر آئے اور الیکٹرانک میڈیا کی بریکنگ نیوز اور پرنٹ میڈیا پر تین تین، چار چار کالمی خبروں کے علاوہ ٹاک شوز، کالموں اور تجزیوں کا موضوع بن گئے۔ بلاول ہاؤس میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا، پرویز مشرف ایک سمجھوتے کے تحت مستعفی ہوئے تھے، نوازشریف کو بھی اس کا خیال کرنا چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی فرحت اللہ بابر اور جہانگیر بدر جیسے پارٹی قائدین کی طرف سے گیلانی صاحب کے اس دعوے کی تردید آگئی ۔
گزشتہ شب سلیم صافی نے جناب گیلانی کو ’’جرگہ‘‘ میں لاکر تاریخ کے بعض اہم صفحات پلٹنے کی کوشش کی۔ جہاں تک پرویز مشرف معاملے کا تعلق ہے، اس میں شک نہیں کہ این آر او کے پسِ پردہ یہی مفاہمت تھی کہ مشرف آئندہ 5 سال کیلئے صدر ہونگے جبکہ وزارتِ عظمیٰ پیپلز پارٹی کے پاس ہوگی لیکن اس کے ساتھ یہ بھی طے تھا کہ محترمہ الیکشن کے بعد پاکستان آئیں گی۔( ان کی وزارتِ عظمیٰ کا رستہ کسی نشست پر ضمنی انتخاب کے ذریعے نکل آتا)۔پرویز مشرف کے باوردی صدارتی انتخاب کے خلاف اپوزیشن جماعتیں قومی و صوبائی اسمبلیوں (صدر کا الیکٹورل کالج) سے مستعفی ہوگئیں۔ لیکن پیپلز پارٹی نے مستعفی ہونے کی بجائے صدارتی انتخاب کے بائیکاٹ کی ’’حکمت ِ عملی‘‘ اختیار کی۔ خیبرپختونخواہ (تب صوبہ سرحد ) میں جے یو آئی (ایف) کے جناب اکرم درانی کی زیرِ قیادت متحدہ مجلسِ عمل کی حکومت تھی۔ وہ اسمبلی توڑ کر صدر کے الیکٹورل کالج کو نامکمل بناسکتے تھے لیکن انہوں نے دیر کر دی اس دوران حزب اختلاف ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لے آئی۔ یوں وہ اسمبلی توڑنے کے آئینی حق سے محروم ہوگئے اور صدر کا الیکٹورل کالج مکمل رہا(کیا یہ مشرف ،مولانا مفاہمت کا نتیجہ تھا؟)
این آر او کے بعد کچھ اور واقعات نے ساری بساط بدل دی۔ محترمہ الیکشن کے بعد آنے کی بجائے 18اکتوبر کو پاکستان پہنچ گئیں۔ یہ مشرف کے لیے ایک بڑا دھچکہ تھا ۔پھر 3نومبر کا پی سی او(چیف جسٹس سمیت تقریباً 60 ججوں کی برطرفی اور بعض کی نظربندی ) ایک اور گیم چینجر تھا۔ محترمہ کے آنے کے بعد نوازشریف کو روکنا بھی ممکن نہ رہا۔ ان کی واپسی رکوانے کے لیے مشرف ریاض پہنچے لیکن بادشاہ سلامت نے انکار کردیا چنانچہ 25نومبر کو نوازشریف (اور شہبازشریف) بھی پوری شان و شوکت کے ساتھ لوٹ آئے۔کھیل مشرف کے ہاتھ سے نکل گیا تھا، اسٹیبلشمنٹ بھی اس کے عزائم کی آلہ ٔ کار بننے کو تیار نہ تھی۔ انتخابی مہم کے دوران 27دسمبر کو محترمہ لیاقت باغ میں قتل کر دی گئیں اور 18فروری کے انتخابات کے بعد وزارتِ عظمیٰ پیپلز پارٹی کے ہاتھ آگئی۔ 30 دنوں میں ججوں کی بحالی کے معاہدہ (بھوربن) پر عملدرآمد سے انکار پر پاکستان مسلم لیگ(ن) وفاق میں 13اہم وزارتیں چھوڑ کر حکومت سے باہر آگئی لیکن نوازشریف نے مشرف کے مواخذے کے لیے دباؤ جاری رکھا۔ 7،8 اگست کے مذاکرات میں مشرف کے مواخذے پر اتفاق ہوگیا(معاہدہ اسلام آباد) اور اس پر بھی کہ مشرف کی رخصتی کے بعد 24گھنٹوں میں 2نومبر والی عدلیہ بحال کر دی جائے گی۔ صدر کے مواخذے کا بنیادی فورم پارلیمنٹ ہے(صوبائی اسمبلیاں صدر کے الیکٹورل کالج کا حصہ تو ہیں، لیکن اس کے مواخذے میں ان کا کوئی کردار نہیں)مشرف پر سیاسی اور اخلاقی دباؤ ڈالنے کے لیے صوبائی اسمبلیوں میں مواخذے کے حق میں قراردادوں کی حکمت عملی اختیار کی گئی۔ پارلیمنٹ میں مواخذے کی نوبت ہی نہ آئی اور مشرف نے 18اگست کو’’ باعزت ‘‘استعفے کا راستہ اختیار کیا۔ ایک میٹنگ میں ، جہاں مولانا فضل الرحمٰن اور اسفند یار ولی بھی موجود تھے، میاں صاحب نے جناب زرداری سے مشرف پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا، تو زرداری صاحب کا جواب تھا کہ وہ اس معاملے میں ’’گارنٹرز‘‘ کو کروائی گئی یقین دہانیوں کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے۔ گارنڑز کو یقین دہانیاں؟ نوازشریف کے لیے ایک حیران کن انکشاف تھا۔3نومبر کے پی سی او(مشرف کے دوسرے مارشل لا) کو پارلیمنٹ سے آئینی تحفظ دلانے کی راہ میں بھی نوازشریف اور مسلم لیگ(ن) ہی تھی جو رکاوٹ بنی۔ جہاں تک الیکشن 2008کے بائیکاٹ کے اعلان اور پھر ان میں حصہ لینے کا معاملہ ہے، تو اس میں بھی گیلانی صاحب ادھورا سچ بول رہے ہیں۔ لندن کی آل پارٹیز کانفرنس (جولائی 2007) میں آئندہ عام انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ مشرف پر دباؤ کا حربہ تھا۔ پیپلز پارٹی نے اِسے قبول کرنے سے معذرت کر لی تھی۔ پاکستان واپسی سے قبل میاں صاحب جدہ سے قاضی صاحب مرحوم اور عمران خاں سمیت اے پی ڈی ایم کی رکن جماعتوں سے مسلسل مشاورت اور رابطے میں رہے۔ کاغذاتِ نامزدگی کی آخری تاریخ سے ایک روز قبل جدہ سے لاہور آمد بھی کاغذات داخل کرانے کے لیے ہی تھی۔ حفیظ اللہ نیازی لکھ چکے ہیں کہ عمران خاں سے ڈیرہ اسماعیل خاں جیل میںان کی ملاقات میں بھی یہی طے پایا تھا کہ پی ٹی آئی بھی کاغذات نامزدگی داخل کرائے گی۔ 10دسمبر کو ماڈل ٹاؤن میں ہونے والے اے پی ڈی ایم کے اجلاس میں میاں صاحب اور بعض دیگر جماعتوں کا مؤقف تھا کہ پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم اور قاف لیگ الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں، خود اے پی ڈی ایم کی رکن جماعتوں میں بھی جے یو آئی (ایف) اور اے این پی الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کرچکی تھیں۔ اس صورت میں باقی ماندہ چند جماعتوں کی طرف سے بائیکاٹ کی حیثیت گناہِ بے لذت سے زیادہ نہ ہوگی۔ میاں صاحب کا یہ بھی مؤقف تھا کہ 3نومبر کے پی سی او کے آئینی تحفظ کا راستہ روکنے کے لیے بھی ہمیں پارلیمنٹ میں موجود ہونا چاہیے۔ میاں صاحب کا کہنا تھا، اگر پی پی پی بائیکاٹ پر آمادہ ہوجائے تو پھر ہمیں بھی بائیکاٹ کے گزشتہ فیصلے پر قائم رہنا چاہیے۔ اتمام حجت کے لیے وہ محترمہ سے ملے لیکن وہ الیکشن میں حصہ لینے کے فیصلے پر قائم رہیں۔ محترمہ کی شہادت کے بعد میاں صاحب کی طرف سے الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان اہل ِ پنجاب کی طرف سے اپنے سندھی بھائیوں سے ایک طرح کا اظہار یک جہتی تھا۔ ’’جمہوریت بہترین انتقام‘‘ کے فلسفے کے تحت زرداری صاحب الیکشن میں حصہ لینے کے فیصلے پر قائم رہے چنانچہ مسلم لیگ(ن ) نے بھی بائیکاٹ کا اعلان واپس لے لیا۔2نومبر والی عدلیہ کی بحالی کے حوالے سے بھی جناب گیلانی کا مؤقف دلچسپ ہے، تب گیلانی صاحب اور ان کے حکومتی رفقاء کا مؤقف تھا کہ یہ کام ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے نہیں ہوسکتا، وہ اس کے لیے کبھی آئین میں ترمیم ، کبھی پارلیمنٹ سے منظوری اور کبھی چیف جسٹس افتخار چوہدری سمیت تمام متاثرہ ججوں کے ازسرنو حلف کی بات کرتے۔’’ مائنس چوہدری ‘‘فارمولا بھی پیش کیا گیا۔ وکی لیکس کے مطابق امریکن سفیر این پیٹرسن نے نوازشریف کو یہی فارمولا پیش کیا، تو ان کا صاف اور سیدھا جواب تھا کہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کے بغیر وہ عدلیہ کی بحالی کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔
عدلیہ بحالی لانگ مارچ کا راستہ روکنے کے لیے پنجاب میں شہبازشریف حکومت کی برطرفی اورگورنر راج کا نفاذ، پھر ملک بھر میں مسلم لیگ سمیت دیگر جماعتوں کے کارکنوں کی وسیع پیمانے پر گرفتاریاں ، وکلاء قیادت کی نظربندی اور آخرمیں کنٹینر سمیت مختلف رکاوٹوں کے ذریعے لانگ مارچ کا راستہ روکنے کی کوشش ۔ لانگ مارچ سے چند لمحے قبل رچرڈہالبروک کی طرف سے میاں صاحب کو ٹیلیفونک کال اس سلسلے کی آخری کوشش تھی اور پھر نصف شب کے قریب جب لانگ مارچ گوجرانوالہ بھی نہیں پہنچا تھا کہ جنرل کیانی کی کال آگئی ۔ اِدھر گیلانی صاحب نے ایگزیکٹو آرڈر ہی کے ذریعے ججوں کی بحالی کا اعلان کردیا۔ اس میں جنرل کیانی کا کردار ایک ایسی حقیقت ہے جسے گیلانی صاحب کے انکار کے ذریعے تاریخ کے صفحات سے مٹایا نہیں جاسکتا۔
’’دھاندلی کس نے کی؟‘‘ سلیم صافی نے بہت کریدا، گیلانی صاحب کا جواب تھا ، کسی نے بھی کی، نتیجہ دھاندلی تھا۔ سلیم اپنے سوال پر مصر رہا تو سابق وزیراعظم نے کہا، زرداری صاحب سے عمران خاں تک اس پر قومی اتفاقِ رائے ہوچکا ہے کہ یہ آراوز(ریٹرننگ آفیسرز) کے ذریعے کرائی گئی۔۔ لیکن کیسے؟گیلانی صاحب نے یہ وضاحت نہیں کی۔یہاں انہوں نے ایک دلچسپ انکشاف بھی کیا کہ عمران خاں (انتخابی جلسے میں زخمی ہونے کے بعد) اسپتال سے گھر منتقل ہوگئے تھے کہ وہ ان کی مزاج پرسی کے لیے گئے۔ اس موقع پر انہوںنے عمران خاں سے کہا، ہم سے غلطی یہ ہوئی کہ ہم نے الیکشن کے نتائج بہت جلدی تسلیم کرلئے۔ تو کیا انتخابی دھاندلیوں کی دریافت کے لیے پہاڑ کھودنے کی ضرورت تھی؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *