تحفظِ پاکستان ایکٹ کتنا برا ہے؟

بابر ستارbabar sattar

کیا تحفظ پاکستان بل شہریوں کے بنیادی حقوق اور ریاست کی معاشرے کو امن اور تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت کے مابین درست توازن قائم کرتا ہے؟ تمام دانا پاکستانی چاہتے ہوں گے کہ دہشتگرد انصاف کے کٹہرے میں لائے جائیں۔ لیکن تحفظ پاکستان بل پر عوامی بحث اس طیف کے آر پارانتہائی نظریات کے مابین واقع ہے۔
دہشتگردوں کے ساتھ ہماری خونی جنگ کے عین بیچ میں ہماری مسلح افواج، دہشتگردوں کے بنیادی حقوق کے ساتھ شہری معاشرے کے لگاؤپر اپنے حواس کھو رہی ہیں۔ ان کے نظرئیے کے مطابق، وہ جو ریاست کے ساتھ جنگ اختیار کرتے ہیں، وہ شہری نہیں بلکہ دشمن ہیں اور غیر مہذب جنگ لڑنے والے دشمنوں کو محض جنگی قوانین کے تحت ضروری، محدود حقوق دئیے جانے چاہیں۔
لیکن شہری معاشرہ،دہشتگردوں کی دیکھ بھال میں ریاست کے کردار سے متعلق آگاہ ہے۔ آج ریاست حالت جنگ میں ہے اور عموماً ریاستوں کی جانب سے طاقت کے اندھا دھند استعمال کی تاریخ سوال کرتی ہے کہ کیا ریاست، اپنی خواہش پر، آئین کے عطا کردہ ناقابل انتقال حقوق کو معطل کر سکتی ہے یا قانون کے لازمی طے شدہ طریقہ کار کو مختصر کر سکتی ہے؟
ان دونوں کے عین وسط میں، وہ دانشمند ہیں جو پہلے یہ ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ ریاست ماضی کی ہلاکت خیزحکمت عملیوں سے قطع نظر، اپنی حکومت قائم کرے۔ یہ دانشمند تسلیم کرتے ہیں کہ غیر معمولی صورت احوال(ہزاروں دہشتگرد، ریاست کی خودمختاری اور شہریوں کے حق زندگی پر حملہ آور ہو رہے ہیں)، غیر معمولی اقدامات کا تقا ضا کرتی ہے تاہم اس بات سے بھی آگاہ رہنے کی ضرورت ہے کہ ریاست کو خوش کرنے کے لئے بلینک چیک بہر حال نہیں تھمایا جا سکتا۔
طاقت استعمال کرنے کے شوقین ناخوش ہیں کہ تحفظ پاکستان ایکٹ زیادہ دور تک نہیں جاتااور ان پر پابندیاں لگاتا ہے جو ایک مسلسل موجود خطرے سے ریاست کو بچانے کے لئے لڑتے ہیں۔فاختائیں (امن پسند)محسوس کرتی ہیں کہ تحفط پاکستان ایکٹ، قانون اور بنیادی حقوق کی قیمت پر قیام امن کا وعدہ کرکے ایک خطرناک مثال پیش کرتا ہے۔دانشمند، طاقت کے استعمال کے شوقینوں اور امن پسندوں کے درمیان اس کشمکش کو دہشتگردی سے لڑنے کے لئے درکارموقع پیدا کرنے کی خاطر ضروری کمزور توازن تخلیق کرنے کے لئے مفید قراردیتے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر شہریوں کے حقوق بھی مجروح نہیں ہوتے ۔
فوج جنگیں لڑتی ہے اور پولیس مجرموں سے انصاف کے نظام میں رہتے ہوئے، قانون کے نفاذکو یقینی بناتی ہے۔مگر اس صورت میں آ پ کونسا قانونی نمونہ /نسخہ استعمال کرتے ہیں جب فوج ملک کے ایک حصے میں ایک مسلح بغاوت سے لڑ رہی ہے اور پولیس اور پیرا ملٹری فورسز، ملک کے ایک دوسرے حصے (کراچی) میں لڑ رہی ہیں، اور وہ بھی بغاوت ہی سے متعلق لڑائی ہے؟ آپ کیا کریں گے جب اندرونی تحفظ کا نفاذ، فوج کا اولین فریضہ بن جائے، اور قانون نے ایسے کردارکے متعلق سوچا ہی نہ ہو؟
تحفظ پاکستان آرڈیننس کے کلیدی اہداف حسب ذیل تھے:
شہریوں کو لڑنے والے دشمن قرار دینا اور ان سے اجنبیوں کا سا سلوک کرنا،بغیر وارنٹ کے مشکوک فرد کو مارنے کا حق، اس کی تلاشی لینے/اسے گرفتار کرنے کا حق، پیشگی اطلاع دئیے بغیرپکڑنے اور قید رکھنے کا حق، اور ثابت کرنے کی ذمہ داری سے استثنیٰ۔تحفظ پاکستان آرڈیننس سے تحفظ پاکستان ایکٹ تک کے سفر میں، ان میں سے کئی مسائل پر بات کی گئی ہے۔ پی پی اے نے لڑنے والے دشمن کا تصور حذف کر دیا ہے اور ازبکوں وغیرہ جیسے غیر ملکی جنگجوؤں سے نمٹنے کے لئے اجنبی دشمن کی تعریف شامل کی گئی ہے اور تحریک طالبان پاکستان وغیرہ جیسے پاکستانیوں کا احاطہ کرنے کے لئے جنگجوؤں کی تعریف بھی شامل کی گئی ہے۔
اس قانون کا سیکشن 3(2)اے تاحال کسی ایسے شخص کو گولی مارنے کا حق دیتا ہے جو ’’تمام امکانات کے ساتھ متوقع ہو‘‘کہ حملہ کر دے گا۔ مختصر یہ کہ دشمن کے حملے سے بچاؤ کے لئے تحفظ ذات کے حق یاشک کی بنیاد پر گولی مارنے کے حق کو معمول کے تحفظ ذات کے حق اور سر پر منڈلانے والے خطرے سے بچنے کے لئے قبل از وقت اقدام اٹھانے کے ساتھ ملا دیا گیا ہے۔
بغیر وارنٹ کے گرفتار کرنے کا حق کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ یہ، اے ٹی اے، اینٹی نارکوٹیکس ایکٹ، ائیر پورٹ سکیورٹی فورس کے قانون، وفاقی تحقیقاتی ادارے کے قانون اور عوامی نظم و نسق برقرار رکھنے کے قانون وغیرہ کے تحت پہلے ہی ایک یا دوسری شکل میں موجود ہے۔
بغیر آگاہ کئے گرفتار کرنے اور قید رکھنے اور نگرانی کرنے کا حق، بہت تکلیف دہ تھا اور اب یہ آرٹیکل 10کے فریم ورک کے تحت آ چکا ہے، جو مطالبہ کرتا ہے کہ ایک زیر حراست شخص کو حراست میں لئے جانے کے 15روز کے اندر اندر قید کئے جانے کی وجہ بتائی جائے اور قید کی صورت کے جائزے کے لئے عدالتی جائزے کے بورڈز کی تشکیل کی بھی اجازت دی جائے۔
اور آخر کار، ثبوت پیش کرنے کی ذمہ داری سے استثنیٰ اور ملزم کی بے گنا ہی ثابت کرنے کی ضرورت میں مسئلہ موجود رہتا ہے۔ ایسے مقدمات میں، سپریم کورٹ نے روایتی طور پر یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ثبوت پیش کرنے کی ذمہ داری صرف اسی صورت میں پوری ہو سکتی ہے کہ جب پہلے ریاست شہادت کی بنیاد پر ملزم کے خلاف قانونی طور پر ایک معقول مقدمہ قائم کر چکی ہو۔ تحفظ پاکستان کے قانون کے تناظر میں ایسی وضاحتیں فراہم کرنا ضروری ہیں تاکہ یہ تسلی ہو سکے کہ مجرموں سے متعلق انصاف کا بنیادی اصول کا سر قلم نہیں کیا گیا۔
تحفظ پاکستان کا قانون مکمل طور پر درست نہیں ہے لیکن اپنی منظور شدہ شکل میں، یہ اتنا بھی بھیانک نہیں ہے جتنا بھیانک بنا کر اسے پیش کیا گیا ہے۔ اس کی تشریح اور اطلاق، عدالتی رہنمائی کے مرہون منت رہتے ہیں۔اور پھر یہ اپنے اندر اپنی موت کی شق بھی رکھتا ہے: دو برس کے اندر اندر یہ اپنی موت آپ مر جائے گا۔جیسا کہ پی پی اے شمالی وزیرستان آپریشن اور ہمارے مجرموں سے انصاف کے نظام کے درمیان ایک ضروری تعلق فراہم کرتا ہے تو یہ سوال کہ آیا کہ یہ سزاؤں کی جانب لے کر جائے گا یا نہیں، ہنوز تشنہ رہتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *