سیاسی پھکی فروش

imad zafar

اگست کا مہینہ تو ویسے وطن عزیز کے قیام سے متعلق ہے لیکن یہ مہینہ شاید عمران خان اور طائر القادری کا پسندیدہ ہے.  2014 کے دھرنوں کے بچھڑے ہوئے دونوں سیاسی کزنز نے ایک بار پھر حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا عندیہ دے دیا. عمران خان پشاور سے جتھہ لا کر وفاقی دارلحکومت پر یلغار کرنے کی کوشش کریں گے جبکہ طائر القادری لاہور سے مریدوں کے جتھے سمیت اسلام آباد پر دھاوا بولیں گے. گو پچھلے دھرنوں اور احتجاج کی مسلسل ناکامی کے بعد ان دونوں حضرات نے دھرنوں کا اعلان تو نہیں کیا بلکہ احتجاجی ریلیوں کے منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے.لیکن ان دونوں کرداروں کے بات سے مکرنے کا آئل مکمل ٹریک ریکارڈ ہے اس لیئے یہ ممکن ہے کہ اگر سیاسی مرید یا قادری کے مریدین کی تعداد زیادہ ہو گئی تو ایک بار پھر اسلام آباد کو یرغمال بنانے کی کوشش کی جائے. طائر القادری اور عمران خان میں کئی باتیں اور خصوصیات مشترک ہیں. مثال کے طور پر دونوں حضرات اپنی بات سے فورا پلٹ جانے کے ماہر ہیں. دونوں حضرات ایمپائر کے ریمورٹ کنٹرول پر چلتے ہیں. اور دونوں کے ماننے والے ایسے اندھے مریدین ہیں جنہیں ان دونوں حضرات کے ہر ناجائز یا احمقانہ فیصلوں پر بھی یقین کامل ہے. دونوں حضرات سیاسی طور پر مفلوج ہیں اور پس پشت قوتوں کے عطا کردہ وینٹیلیٹر پر سیاسی سانسیں لے رہے ہیں. اقتدار کی سیڑھیاں اگر عام انتخابات سے نہ چڑھی جا سکیں تو پھر دوسرا راستہ اکثر تباہ کن ہوتا ہے اور یہ راستہ خون مانگتا ہے لاشوں کا متقاضی ہوتا ہے.یعنی عام سیاسی کارکنوں کی لاشوں کو سیڑھیاں بنا کر یہ دونوں حضرات پھر سے سہانے خواب دیکھ رہے ہیں کہ ملک میں جمہوریت کا بستر گول ہو جائے گا اور ایک ٹیکنو کریٹ حکومت معرض وجود میں لا کر ان دونوں کو اقتدار کا مسند سونپ دیا جائے گا. طائر القادری لاہور سے جو مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ شروع کریں گے ان میں وہ حتی الامکان کوشش کریں گے کہ مظاہرین اور پولیس کی جھڑپ ہو آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہو تا کہ پھر سے لاشیں گریں اور وہ پھر سے ان لاشوں کے دام لگائیں. دوسری جانب عمران خان پشاور سے اسلام آباد مارچ کر کے پھر سے اپنی تنہائی دور کرنے کے واسطے کنٹینر میلہ لگانے کی کوشش کریں گے جہاں نوجوانوں کو فنون لطیفہ اور رقص کرنے کے نت نئے طریقے دکھلائیں جائیں گے. کوشش تحریک انصاف کی بھی یہی ہو گی کہ حالات جھڑپوں کی طرف جائیں.  ان دونوں زیادہ کزنز کا ساتھ دینے راولپنڈی کی لال حویلی کے مشہور زمانہ جعلی  سیاسی عامل شیخ رشید مشرف کے دامن سے لپٹے رہنے والے گجرات جے چوہدری برادران اور پیپلز پارٹی پنجاب کے قائدین بھی شامل ہوں گے. یوں ایک بار پھر ٹی وی چینلز کو ریٹنگ کا سامان میسر آ جائے گا. تجزیہ نگاروں اور اینکرز کو بولنے اور عوام کو جزباتی بلیک میل کرنے کے لیئے اچھا خاصہ وقت بھی مل جائے گا. اور یوں ایک بار پھر کچھ مدت کیلیئے تماش بین معاشرے کو ایک تماشہ دیکھنے کو میسر آ جائے گا.جلسوں جلوسوں میں نعرے مار کر اور ناچ کر یا سوشل میڈیا پر مخالفین کی تضحیک کر کے تالیاں بجانے والے معاشرے کو دیکھ کر امجد اسلام امجد صاحب کی مشہور زمانہ نظم "گلیڈی ایٹر" یاد آ جاتی ہے. نظم کا تھوڑا ساحصہ کچھ یوں ہے کہ " .ہم  اپنے قتل ہونے کا تماشہ دیکھتے ہیں

تو اپنی تیز ہوتی سانس کے کانوں میں کہتے ہیں

” ابھی جو ریت پر لاشہ گرا تھا

میں نہیں تھا

میں تو زندہ ہوں ۔۔۔۔ یہاں

دیکھو

مری آنکھیں، مرا چہرہ، مرے بازو

سبھی کچھ تو سلامت ہے“

ابھی کل ہی کا قصّہ ہے

سرِ مقتل ہمارے دست و بازو کٹ رہے تھے

پہ ہم اپنے گھروں میں مطمئن بیٹھے ہوئے

ٹی وی کے قومی نشریاتی رابطے پر

سارے منظر دیکھتے تھے

اور یہ کہتے تھے

” نہیں یہ ہم نہیں ہیں“

ہماری آستیں پر خون کے دھبّے ابھی تازہ ہیں

سُوکھے بھی نہیں

   یہ نظم اس معاشرے پر سو فیصد لاگو ہوتی ہے.آوے ہی آوے اور جاوے ہی جاوے کے نعروں کے علاوہ نہ تو پہلے اس محکوم معاشرے نے کچھ کر کے دکھایا اور نہ ہی آج کچھ کرنا چاہتا ہے.وگرنہ سٹیٹس کو کی اس جنگ میں بطور چارہ استعمال ہونے کے یہ معاشرہ خود اپنے حقوق کی جنگ لڑتا تو آج حالات مختلف ہوتے. لیکن محکوموں کو پیروں میں جکڑی زنجیروں سے اس قدر محبت ہو جاتی ہے کہ اس زنجیر کو وہ توڑنے کا سوچتے تک بھی نہیں. خیر سیاسی میدان کی یہ سرکس اسی طرح جاری و ساری رہے گی. یوں نواز شریف کی حکومت کو ان احتجاج اور جلاو گھیراو کے باعث پنجاب میں مزید ہمدردی ملتی چلی جائے گی. عمران خان نے اپنا معیار اور مقبولیت کس تیز رفتاری سے کھوئی اس کا اندازہ اس بات سے ہو جاتا ہے کہ آج وہ طائر القادری اور شیخ رشید جیسے افراد کے ساتھ ہیں.اور یہ بذات خود ان کی سیاسی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے. اگر جتھوں کے بل پر حکومتوں کے تختے الٹے جا سکتے تو پاکستان میں ہر روز چند ہزار افراد کا جتھہ حکومتیں تبدیل کروا لیتا. انقلاب یا تبدیلی کے جھانسے میں آنے والے پڑھے لکھے افراد سے گزارش یہ ہے کہ چھی گویرا، بھگت سنگھ یا نیلسن منڈیلا کی زندگی کے بارے میں تھوڑی سی تحقیق کر لیں آپ پر خود بخود عیاں ہو جائے گا کہ انقلابی یا تبدیلی لانے والے اشخاص ریشم کے بستر پر نہیں سوتے بلکہ کانٹوں کی سیج پر آرام کرتے ہیں. یہ سٹیٹس کو کی لڑائی ہے جس میں سیاسی فریق منظر نامے پر ہیں جبکہ پس پشت قوتیں پردے کے پیچھے سے ڈوریاں ہلاتی ہیں. اگر انقلاب یا تبدیلی چاہتے ہیں تو اپنے اپنے سیاسی بت چاہے وہ عمران ہو قادری ہو نواز شریف یا بلاول، ان سب بتوں کو پاش پاش کیجئے. پچھلے 68برس سے یہ تماشہ اسی طرح جاری و ساری ہے فرق صرف یہ ہے کہ چہرے بدلتے رہتے ہیں لیکن یہ نظام جوں کا توں اپنی جگہ پر موجود ہے. ایسا نظام جہاں جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا جاتا اور آمریت خالص نہیں ہوتی. ویسے بھی بالفرض اگر عمران خان یا قادری کو حکومت صوبہ دی جائے تو کیا گارنٹی ہے کہ غریبوں کے گھر کا چولہا جل جائے گا. خیبر پختونخواہ میں پچھلے تین برسوں میں کیا سعدی اور شہد کی نہریں بہنا شروع ہو گئیں؟  صوبہ تو دور کی بات خود عمران خان کے حلقے NA56 میں عمران خان تبدیلی نہ لا سکے. دوسری جانب طاہرالقادری صاحب جو پچھلے دھرنے میں ماڈل ٹاؤن میں جاں بحق ہونے والے افراد کے نام پر لمبی چوڑی رقم سمیٹ کر پتلی گلی سے نکل لیئے تھے ان سے انقلاب کی توقع کرنا ایسا ہی جیسے کسی نابینا شخص کو گاڑی چلانے کا کہا جائے اور یہ فرض کر کیا جائے کہ اب یہ نابینا شخص سب کو  منزل پر پہنچا دے گا. دراصل مجموعی طور پر ہمارا المیہ بھی یہی ہے ہم لوگ اندھوں سے کہتے ہیں کہ راہ دکھلاؤ. راہزنوں کو رہبر تسلیم کرتے ہیں اور پھر لٹنے کی دھائیاں دیتے رہتے ہیں.  انقلاب پہلے فکری اور شعوری سطح پر آتا ہے جو معاشرے فکری اور شعوری طور پر نابالغ ہوں وہاں انقلاب نہیں بلکہ انقلاب کے نام پر مخلتلف چورن بیچنے والے "سیاسی پھکی فروش" آیا کرتے ہیں.  اور ناسور کا علاج پھکی فروش نہیں بلکہ ایک قابل ڈاکٹر ہی کر سکتا ہے.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *