ریل مسافروں کے لیے کھانا ختم، حکام کے لیے شروع!

SHABBIR SOOMRO (1)شبیر سومرو
گزشتہ دنوں اخبارات میں ایک غیرنمایاں خبر نظر سے گزری:’’ریلوے ٹرینوں سے ڈائننگ کار کی سہولت ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا‘‘۔ملک میں گزشتہ نصف صدی سے جو اداروں پر زوال مسلسل طاری کیا گیا ہے، اس کے تناظر میں یہ خبر کچھ عجیب یا نئی نہیں ہے۔ مہذب ملکوں میں حکومتیں اپنے عوام کو دن بہ دن نت نئی سہولتیں اور مراعات دیتی چلی جاتی ہیں۔ مگر وہ بات مہذب ملکوں کے دردِ دل رکھنے والے حکمرانوں کی ہے، پاکستان کی نہیں! اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا کی قدیم ترین تہذیب کے کھنڈرات وطنِ عزیز کی جغرافیائی حدود میں دریافت ہوئے ہیں مگر ضروری نہیں کہ ہم یا ہمارے حکمران، شہرہ آفاق تہذیب موہن جو دڑو، مہر گڑھ یا ٹیکسیلا میں عوام کو دی گئی سہولیات سے کوئی سبق سیکھیں۔ اگر ان تہذیبوں کو دریافت کرنے والے ماہرین یہ ’’جرمِ دریافت‘‘ آج کے دور میں کرتے تو خواجہ سعد رفیق، غلام محمد بلور اوران سے پہلے والے وزرائے ریلوے ظفر علی لغاری، شیخ رشید وغیرہم ان ماہرین کو نشان عبرت بنا چکے ہوتے جو عوام الناس جیسے کشکول کے سائے میں بیٹھے عناصر کو یہ بتانے کا جرم کرچکے تھے کہ پچھلے ادوار میں حکمران اپنی رعایا کو کیا کیا سہولتیں دیتے تھے اور موجودہ حکمران کس طرح ایک ایک کرکے پرانی دستیاب سہولتیں واپس لیتے جارہے ہیں۔ ریلوے حکام تو برملا اس بات کااظہار کر بیٹھے ہیں کہ ٹرینوں سے ڈائننگ کار کی سہولت ختم کی جارہی ہے۔ اس کی مثال کے طور پر پہلے مرحلے میں تیز گام ٹرین سے ڈائننگ کار (بوگی) نکال دی گئی ہے، جس کے بعد روزانہ ہزاروں مسافر ریلوے اسٹیشنوں پر باسی، غیرمعیاری بلکہ بہت حد تک گندہ کھانا مہنگے داموں خرید کر کھانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ مگر ریلوے حکام اس تکلیف کا احساس کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ریلوے کا سفر دنیا بھر میں نہایت سہولت بھرا، آئیڈیل اور Fascinatingہوتا ہے، لیکن پاکستان میں یہ سفر، اردو کے سفر کے بجائے انگریزی کا Sufferبن کر سامنے آتا ہے۔ پاکستانی ٹرینوں میں 24گھنٹے کا سفر یعنی دن رات گزارنا ایک Nightmare سے کم نہیں۔ دن کی شدید گرمی میں پنکھے بند رکھے جاتے ہیں تو رات کی تاریکی چھانے پر بلب نہیں جلائے جائیں گے۔ مسافر خاندان عموماً طویل سفر کے لیے ٹرین کو اس لیے بھی ترجیح دیتے ہیں کہ اس میں باتھ روم اور چلنے پھرنے کی سہولت دستیاب ہوتی ہے، مگر یہ سہولت بس پہلے چند اسٹیشنوں تک ہی بطور سہولت برقرار رہتی ہے ۔جیسے جیسے گاڑی آگے بڑھتی ہے، باتھ روم نہایت گندے، ناقابل استعمال ہوتے چلے جاتے ہیں۔ پانی ختم ہوجاتا ہے اور سیٹوں کے برابر والی راہداریاں سامان اور بغیر سیٹ والے مسافروں سے بھرتی جاتی ہیں۔ ایسے میں اگر ڈائننگ کار کی سہولت بھی نہ ہو تو مسافر کھانے کے وقت کوئی بڑا اسٹیشن قریب آنے پر ایک دوسرے کو دھکے دیتے، راستے میں رکھا ہوا سامان پھلانگ کر ،پہلے اترنے اور اسٹیشن کے اسٹال پر پہنچ کر جیسے تیسے کھانا خرید کر بوگی میں واپس آنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ بچوں، فیملی کے ساتھ بیٹھ کر بھوک مٹانے کی سعی کریں۔ اس بھوک مٹانے کے چکر میں وہ پیٹ خراب کرنے کے ساتھ ساتھ کئی دیگر تکالیف مول لیتے ہیں۔
وزیر ریلوے، سیکریٹری، چیئرمین جیسے حکام کو اگر مسافروں کی تکلیف دکھانا ہے تو انہیں گروپ کی صورت میں اس تیز گام میں
لاہور تا کراچی سفر کرایاجائے۔ جس سے انہوں نے ڈائننگ کار ہٹادی ہے۔ شرط یہ ہے کہ ان کے لیے کھانے کا کوئی پیشگی بندوبست نہ کیاجائے اور انہیں بھی مجبور کیاجائے کہ وہ اسٹیشن سے اتر کر خود اسٹالوں پر جا کر غیرمعیاری، باسی، گندا کھانا خریدیں۔ نہ صرف اتنا بلکہ وہ کھانا کھانے پر بھی انہیں مجبور کیاجائے۔ تب جا کر انہیں مسافروں کی تکلیفوں کا احساس ہوگا جو ہزاروں روپے کا ٹکٹ لے کر تکلیف دہ سفر بلکہ Suffer کرتے ہیں۔
ٹرینوں سے ڈائننگ کار یا کھانے والی بوگی آخر کیوں کی جارہی ہے؟اس کاجواب یہ ہے کہ ہمارے خواجہ سعد رفیق وزیر باتد بیراس بوگی کی جگہ کارگو اٹھانے والی تین ویگنیں ہر ٹرین کے ساتھ منسلک کرکے ریلوے محکمے کا ریونیو بڑھانا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر محکمے کی کمائی بڑھے گی تو محکمے کے حکام کا حصہ بھی بڑھے گا۔مسلم لیگ کی یہ حکومت اس طرح کی تکلیف دہ منصوبہ بندیاں کرکے بھی خود کو جمہوری حکومت کہتی ہے!
شرم ان کو مگر نہیں آتی!
اگر ٹرینوں سے کھانے والی بوگی ختم کردی جائے گی تو کتنے لوگ بیروزگار ہوں گے؟ یہ کسی افسر اعلیٰ نے سوچنے کی زحمت گوارا کی ہے؟ بیرے، باورچی، برتن دھونے والے، ریلوے کو سبزی، گوشت اور کھانے پینے کا دیگر راشن فراہم کرنے والے ٹھیکیدار اس لسٹ میں شامل ہوں گے جو بے روزگار ہورہے ہیں۔ٹرین میں کارگو کی تین ویگنیں منسلک کرنے کے لیے ڈائننگ کار ہٹانے کے’ عظیم فیصلے‘ کے پیچھے یہ تکنیکی فلسفہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس وقت محکمے کے پاس زیادہ تر تین ہزار ہارس پاور کے ریلوے انجن ہیں جو کہ 19 یا 20 بوگیاں کھینچنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ ان سے مزید منافع کھینچنے کے لے کارگو کی مزید ویگنیں منسلک کرنا ممکن نہیں۔ اس لیے مسافر جو ریلوے کے اصل منافع کا باعث ہوتے ہیں ،ان کو بھوکا مار کر منافع کشید کیا جائے!
اپنی پیاری’PR‘ یا پاکستان ریلوے کے مقابلے میں پڑوسی ملک ایران سے لے کر یورپ تک کی ٹرینوں کے اندرکی تصویریں دیکھیں، ان میں مہیا کردہ سہولتیں دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ کسی بڑی ایئرلائن کے لگژری طیارے میں سفر کررہے ہیں۔ اگر ہمارے ’’عوامی نمائندے‘‘ جو کھا کھا کر، لُوٹ لُوٹ کر بہت ہی خاص مخلوق بن چکے ہیں، وہ ہمیں مہذب ملکوں والی عام مہیا سہولیات نہیں دے سکتے تو غریبانہ قسم کی دستیاب سہولت تو نہ چھینیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ریلوے میں جو کھانا ملتا ہے، وہ ’’جیسا ہے، جہاں ہے اور جس قیمت پر بھی دستیاب ہے‘‘ اسی بنیاد پرزہرمارکرنا پڑتا ہے مگر پھر بھی یہ اسٹیشنوں کے اسٹالوں پر مہنگے داموں مہیا ہونے والے انتہائی غیرمعیاری کھانے سے غنیمت ہے۔ اس لیے خواجہ صاحب سے گزارش ہے کہ وہ یہ انتہائی ظالمانہ فیصلہ واپس لیں اور اس کے ’’ماسٹر مائنڈ‘‘ افسر کو شکریے کے ساتھ رخصت کردیں۔ ورنہ ہر طرح سے محروم رکھے گئے اس ملک کے مشتعل عوام، اگر اپنی پر آئے تو آپ کے گھروں کے شاہی مطبخ کو تالا لگا کر، آپ کے چٹخوروں کو پھانسی پر چڑھا دیں گے۔
تب آپ کے پیٹ کا کیا ہوگا؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *