خدا را!جمہوریت کی بساط نہ لپیٹیں

Naeem Iqbal

من حیث القوم ہر کام میں کیڑے ڈالنا ا ور نکالنا ہمارا وتیرہ بن چکا ہے۔یہی وہ رویہ ہے جس کے نہ صرف ہماری اپنی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے بلکہ بعض قومی ایشوز میں بھی ایسے ہی منفی رویوں کو پروان چڑھا کر ہم اپنے ملک کو بھی پیچھے کی طرف دھکیل رہے ہیں۔مثال کے طور پر سوشل میڈیا پرایک مخصوص لابی کی طرف سے ایسی پوسٹس تواتر کے لئے پوسٹ کی جاتی ہیں جن میں تحریر کیا گیا ہوتا ہے کہ’’ ہمیں جمہوریت نے دیا ہی کیا ہے‘ اس سے تو جنرل مشرف کا دور ہی بہتر تھا ۔ ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ایوب میں سے کون بڑا لیڈر تھا‘‘؟وغیرہ وغیرہ۔ان پوسٹوں پر جس قسم کی خیال آرائی کی جاتی ہے‘ اسے پڑھ کر ایک لمحے کے لئے تو ایسا گمان گزرتا ہے کہ عوام‘ جمہوری نظام سے بے زار ہو چکے اوروہ اس کے ملیا میٹ ہونے پر خوش ہوں گے۔ ایسا ہر گز نہیں ہے۔عوام جمہوری نظام سے قطعاً بے زار نہیں ۔ بلکہ ایک مخصوص لابی ہے جو نہیں چاہتی کہ ملک میں جمہوری نظام پنپے اور اس کی جڑیں مضبوط ہوں ۔اتنی مضبوط کہ اس کے ثمرات عوام کو ان کی دہلیز پر ہی میسر آسکیں۔
ہر نظام میں خرابیاں ہوتی ہیں۔ یقیناً ہمارے جمہوری نظام حکومت میں بھی بے شمار خرابیاں ہوں گی ۔ایک لمحے کے لئے فرض کریں کہ اگر اس نظام کو لپیٹ دیا جاتا ہے تو پھر مخصوص لابی کون سا نیانظام متعارف کروائے گی؟ نیا نظام تو ان کے پاس بھی نہیں ہو گا۔ اسی نظام میں دھکیلے گی جس میں فرد واحد کی حکمرانی ہو گی۔ سبھی اس کے تابع ہوں گے۔ خدارا!ہمیں پھر سے آمروں کی غلامی میں نہ دھکیلیں۔ عوام ڈکٹیڑوں کے جبر کے تیس سال بھگت چکے۔ یہ مارشل لاؤں کا ہی شاخسانہ ہے کہ ہم آج بھارت سے معاشی میدان میں 30سال پیچھے کھڑے ہیں۔یورپی ممالک سے تو پنا موازنہ کرنا‘ دیوانے کا خواب محسوس ہوتا ہے۔خیر سے ہم ان سے پوری ایک صدی پیچھے ہیں۔
سوشل میڈیا پر جو لوگ اس قسم کی خیال آرائی فرماتے ہیں کہ بھٹو بڑا لیڈر تھا کہ ایوب خان؟ ان کی خدمت میں عرض کرتا چلوں کہ بھٹو صاحب عوام کے دلوں پر حکمرانی کرتے تھے اور عوام کے ووٹوں کے بل بوتے پرملک کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔دوسری طرف ایوب خان ایک سرکاری ملازم تھا۔ مارشل لا لگا کر ملک پر قابض ہوا تھا۔جو لابی جنرل مشرف کے دور کو میاں نوازشریف کے دور سے بہتر گرداننے پر تلی ہوئی ہے۔یہ پراپیگنڈا مہم تو ہو سکتی ہے لیکن حقیقت سے کوسوں دور۔جنرل مشرف کے شیدائیوں کے سامنے دو چار سوال رکھوں گا۔ اگر شیدائی اپنے جوابات سے ہمیں مطمئن کر پائے تو ہم بھی سر تسلیم خم‘ مشرف صاحب کے حق میں دستبردار ہو جائیں گے اور ملک کے منتخب وزیراعظم سے التجا کریں گے کہ ہمیں یہ نظام نہیں چاہئے‘ آپ مستعفی ہو جائیں۔ بلوچ لیڈراکبر بگٹی کو قتل کرنے سے پہلے جس طرح بھرے جلسوں میں جنرل مشرف کہتے تھے کہ میں اکبر بگٹی کو عبرت کا نشان بنا دوں گا اور بنا بھی دیا گیا۔ کیا اکبر بگٹی کو اس طرح نا حق قتل کرنا درست اقدام تھا؟ اکبر بگٹی کے خون کا حساب شیدائی‘ مشرف سے دلوا سکتے ہیں؟ان کی موت کے بعد جو احساس محرومی بلوچ قوم میں پیدا ہوا‘ کیا اس کے ازالے کے لئے مشرف کے دور کو بہتر سمجھنے والے‘ کچھ کر سکتے ہیں؟ آپ بھی کہیں گے کہ کیسا شخص ہے کہ ہاتھ دھو کے شیدائیوں کے پیچھے ہی پڑ گیا ہے۔ خیر سے اتنا بہادر’’ لیڈر‘‘ خراب صحت کو بہانہ بنا کر ملک سے رفو چکر ہو گیا توپھر سوال بھی شیدائیوں سے ہی ہوں گے۔
سوشل میڈیا پر جو مخصوص لابی جنرل مشرف کے طرز حکمرانی کو درست مانتی ہے ۔ان سے صرف اس سوال کا جواب چاہوں گا کہ جنرل مشرف نے اسلام آباد کی لال مسجد میں جو آپریشن کیا‘ کیا وہ درست اقدام تھا؟ یہی اقدام جمہوری دور حکومت اٹھا یا جاتا‘ وہ بھی بغیر کسی سے مشاورت کے۔فرض کریں اگر جمہوری طرز حکومت میں ایسا اقدام اٹھا بھی لیا جاتا تو کیا آج کا ’’آزاد میڈیا‘‘حکومت کو ناکوں چنے نہ چبواتا۔جنرل مشرف اپنے دور میں ایسا ’’آزاد میڈیا‘‘ برداشت کر سکتا تھا۔جس طرح جنرل مشرف نے آئین کو پامال کیا۔ اگر آپ اسے درست سمجھتے ہیں تو ہم بھی آپ کے ہم نوا لہ بلکہ ہم پیالہ بننے کو تیار ہیں۔
یہ جمہوری دور کے ہی ثمرات ہیں کہ حکمران‘ آزاد عدلیہ ‘متحرک میڈیا اورعوام کے سامنے جواب دہ ہیں۔ آصف زرداری کے دست راست‘ ڈاکٹر عاصم اگر آج جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے تو یہ جمہوری نظام ہی کی مرہون منت ہے۔ آپ کو یاد دلاتے چلیں کہ جنرل مشرف کے ایک امپورٹڈ وزیراعظم ہوا کرتے تھے‘ جنہیں لوگ‘ شوکت عزیز کے نام سے جانتے تھے۔ شوکت عزیز صاحب تو اس ملک سے ایسے اڑے جیسے پھُڑ سے چڑیا اڑتی ہے۔ کیا وہ قانون کی گرفت میں آئے؟ آتے بھی کیسے ٹھہرے مشرف صاحب کے دست راست؟۔ملک کے منتخب وزیراعظم کو عدلیہ طلب کرتی ہے تو وہ بار بار پیش ہوتے ہیں بلکہ سزا کے بھی مستحق پاتے ہیں ۔ وزیراعظم سزا پرسر تسلیم خم کرتے ہیں۔ حج کرپشن کیس میں بڑے بڑے مگر مچھوں کو سزائیں ملتی ہیں تو یہ اسی لولے لنگڑے جمہوری نظام کے طفیل ہی ہے۔ اگر آپ اسلام آباد کے حساس علاقے میں احتجاج کا ٹھیلہ لگا کر بیٹھ جاتے ہیں تو یہ اسی جمہوری طرز حکومت کی بدولت ہی ممکن ہو سکا۔ ذرا چشم زدن میں تصور کریں کہ آپ کا پالا جنرل مشرف سے پڑا ہوتا تو کیااس طرح احتجاج کا ٹھیلہ لگانا آپ کے بس میں ہوتا؟۔ اللہ کے فضل و کرم سے کراچی اگر آج دوبارہ عروس البلاد کی طرف لوٹ رہا ہے تو یہ اسی لولے لنگڑے نظام کی بدولت ہو رہا ہے‘ جو آپ سے ہضم نہیں ہو پا رہا۔ملک کے طول و عرض سے اگر دہشت گرد ی کا قلع قمع ہو رہا ہے تو خراج تحسین کا مستحق یہی لولہ لنگڑا جمہوری نظام ہی ہے۔
خدارا! احتجاج کا ٹھیلہ ضرور لگائیں۔ یہ آپ کا جمہوری حق ہے۔ آپ نے پہلے بھی کئی ماہ یہ ٹھیلہ لگائے رکھا۔ آئندہ بھی لگائیں۔ کوئی آپ کو نہیں روکے گا لیکن جمہوری انداز فکر کے اندر رہ کر۔اپنے احتجاج کے ٹھیلے کی آڑ میں کسی اورمشرفیے کو دعوت نہ دیں کہ وہ آئے اور پورے جمہوری نظام کی بساط ہی لپیٹ دے۔ خدا را! جمہوری سوچ اپنائیں۔ لولی لنگڑی ہی سہی لیکن ہے تو جمہوریت ‘اس کو چلنے دیں۔ تبدیلی ہمیشہ عوام کے ووٹ سے آتی ہے۔ ڈنڈے کے زور پر’’تبدیلی‘‘ نہیں ‘ آمرانہ طاقتیں غالب آتی ہیں‘ جس کا اب یہ ملک متحمل نہیں ہو سکتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *