خواہ مخواہ کا واویلا!

Photo Attaul Haq qasmi sb

مجھے نزلہ زکام کھانسی کے بارے میں بات کرنا کبھی اچھا نہیں لگتا کہ سننے والوں کو اس مرض میں مبتلا شخص سے رتی بھر ہمدردی نہیں ہوتی۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ تو روزمرہ کی چیز ہے۔ عمر بھر کا ساتھی ہے، اس کا شکوہ کرنا آداب محبت کے منافی ہے۔ دراصل جو خواتین و حضرات اس طرح کی باتیں کرتے ہیں، انہوں نے اس بن بلائے مہمان کے بارے میں صرف سنا ہوتا ہے، اس کی میزبانی کا شرف انہیں حاصل نہیں ہوا ہوتا۔ یہ ایک ’’میسنی‘‘ بیماری ہے۔ جن دوستوں کی مادری زبان پنجابی نہیں ان کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ میسنی اور میسنا اس عورت اور مرد کو کہتے ہیں جو دیکھنے میں بھلے مانس لگتا یا لگتی ہے لیکن دراصل وہ آفت کی پڑیا ہوتی یا ہوتا ہے۔ نزلے زکام کا مریض آپ کو دیکھنے میں بھلا چنگا لگے گا۔ آپ کسی صاحب کے سامنے پانچ سات چھینکیں ماریں گے اور آپ سے پہلے وہ صاحب الحمدللہ کہیں گے اورآپ کو بتائیں گے کہ یہ نزلہ آپ کے لئے کس قدر ضروری تھا۔ آپ کتنے خوش نصیب ہیں کہ آپ کے اندر کا فاسد مادہ آپ کے ناک کے رستے کس خوبصورتی سے خارج ہورہا ہے، اور دیکھیں بار بار ناک پر رومال مسلنے سے آپ کی ناک سرخ ہوگئی ہے اور آج پہلی دفعہ آپ کے چہرے کا کوئی حصہ ایسا نظر آرہا ہے جسے دیکھنے سے انسان کی جمالیاتی حس مجروح نہیں ہوتی۔ ایسے موقع پر میں ان کا شکریہ ادا کرنے کے لئے تین چار بار بلکہ بار بار آنے بہانے اپنی ناک ان کی ناک کے برابر لا کر بات چیت کرتا ہوں، ان کی کسی بات پر اظہار مسرت کے لئے ان کے گال کے تین چار بوسے بھی لیتا ہوں۔ وہ حضرت میری اس والہانہ محبت پر خوش ہورہے ہوتے ہیں اور نہیں جانتے کہ جس بیماری کے وہ قصیدے پڑھ رہے ہیں، میں یہ نعمت ان کو بھی ’’دان‘‘ کرنے جارہا ہوں کہ مجھے علم ہے چھوت کی بیماری بہت جلد دوسروں سے بے تکلف ہو جاتی ہے۔ اس ’’وقوعہ‘‘ کے تین چار دن بعد ان سے ملاقات ہوتی ہے تو میں اس ’’میسنی‘‘ بیماری کی تعریف کر رہا ہوتا ہوں اور وہ اپنی سرخ ناک کو مسل مسل کر مزید سرخ کررہے ہوتے ہیں۔
اس سے بھی زیادہ کمینی بیماری زکام ہے، انسان نہ تو کھانس رہا ہوتا ہے اور نہ ناک صاف کررہا ہوتا ہے۔ اس کی زد میں آئے ہوئے شخص کا صرف دماغ بند ہوتا ہے۔ اس کے کان میں آوازیں پڑتی ہیں مگر بہت غور و خوض کے بعد پتہ چلتا ہے کہ دوسرا کیا کہہ رہا ہے۔ جب دماغ بند ہو جائے اور انسان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت باقی نہ رہے تو وہ دوسروں کے لئے تر نوالہ بن جاتا ہے۔ 1977, 1958 اور 12 اکتوبر 1999میں ہماری مارشل لائی قیادت کو زکام نے جکڑا ہوا تھا ورنہ وہ ملک کو تباہی کے رستے پر کبھی گامزن نہ کرتے۔ یہ زکام جاتے جاتے ہی جاتا ہے، چنانچہ اس کے آثار ابھی تک باقی ہیں!
باقی رہی کھانسی، تو یہ نزلے اور زکام سے قدرے مختلف ہے۔ یہ اگرچہ شور بہت مچاتی ہے مگر اندر سے یہ بھی میسنی ہے۔ اس کی تکلیف کا اندازہ صرف اسی کو ہوتا ہے جسے یہ چمٹی ہوتی ہے، دوسروں کے لئے اس کی حیثیت صرف کھانسی کی ہے۔ وہ اس کا موازنہ کینسر ، ٹی بی، شوگر، فالج اور اس طرح کی دوسری ’’عالمی طاقتوں‘‘ سے کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں ’’یار کیا واویلا کررہے ہو، ایک کھانسی ہی ہے نا! کوئی جان لیوا مرض تو نہیں!‘‘ چنانچہ وہ جوشاندہ پینے کا مشورہ دیں گے کہ ان کے نزدیک اس بیماری کی اوقات اس سے زیادہ نہیں بلکہ آپ ایک دفعہ کسی کے سامنے کھانس کر دیکھیں وہ فوراً حکیم اجمل خان کے روپ میں سامنے آجاتا ہے اور طبی مشورے دینے لگتا ہے، کئی ایک تو زبیدہ آپا بن جاتے ہیں اور ٹوٹکے بتانے لگتے ہیں، کچھ ستم ظریف تو ایسے بھی ہیں کہ اگر آپ ہلکے ہلکے کھانس رہے ہوں تو وہ آپ کی اس نوع کی کھانسی پر صدقے واری ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں ’’آپ کی کھانسی میں کتنا ردھم ہے، ایسے لگتا ہے کوئی چاندی کے ورق کوٹ رہا ہو۔دوسری طرف کھانسنے والے کی پسلیاں مسلسل کھانسنے سے درد کرنے لگتی ہیں، اسے سانس میں بھی رکاوٹ محسوس ہونے لگتی ہے اور یوں اس بیماری کی شدت اور تکلیف سے وہی واقف ہوتا ہے جس پر یہ بلا نازل ہورہی ہوتی ہے۔
ویسے آپس کی بات ہے میرا اپنا معاملہ بھی کچھ اس قسم کا ہے، میں بیماریوں کی بات نہیں کررہا۔ ان بے صبرے عوام کی بات کررہا ہوں، جو میرے سامنے اپنے چھوٹے چھوٹے دکھ بیان کرتے ہیں، مجھے ان کی باتیں سن کر دل میں ہنسی آرہی ہوتی ہے مگر میں خود پر ضبط کر کے پوری سنجیدگی سے ان کی باتیں سنتا ہوں، مثلاً یہ لوگ مجھے بتائیں گے کہ شدید گرمی کے موسم میں جب آدھی رات کو لائٹ چلی جاتی ہے اور پھر صبح تک نہیں آتی تو ان کا اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچوں کا کیا حال ہوتا ہے، میں انہیں کہتا ہوں کہ تم لعنت بھیجو انگریزوں کی دریافت بجلی کو، اپنے کلچر سے محبت کا ثبوت دینے کے لئے دستی پنکھے استعمال کرو، بل بھی نہیں آئے گا، ہاتھوں کی ورزش بھی ہو جائے گی، کوئی کہتا ہے کہ اس کی تنخواہ صرف آٹھ ہزار ہے، اس میں مکان کا کرایہ بھی دینا ہے۔ بال بچوں کا پیٹ بھی پالنا ہے، میں انہیں نہایت ہمدردانہ انداز میں سمجھاتے ہوئے بتاتا ہوں کہ تم کبھی دلی، بمبئی یا کلکتے جائو، وہاں لوگ قطار اندر قطار اپنی فیملی سمیت فٹ پاتھ پر رہ رہے ہوتے ہیں، فٹ پاتھ کی نعمت ہمارے ہاں بھی موجود ہےبلکہ بڑے خوبصورت پارک بھی ہیں، تمہارا بڑا خرچہ مکان کے کرائے کا ہے ایک کمرے میں زندگی بسر کرنے کی بجائے وسیع و عریض فٹ پاتھوں اور پارکوں میں عیش سے رہو، تمہیں زندگی گزارنے کا پہلی بار مزا آئے گا، کئی لوگ چیختے چلاتے میرے پاس آتے ہیں کہ ان کی ماں سخت بیمار ہے، ان کا بچہ موت کے دہانے پر ہے، مجھے حیرت ہوتی ہے کہ یہ کیسے مسلمان ہیں جو جانتے ہی نہیں زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، یہ جان بچانے کے لئے ڈاکٹر اور انگریزی دوائوں کی طرف بھاگتے ہیں۔
یہ اور اس طرح کے دیگر مسائل کی کوئی اہمیت نہیں، ہمارے لوگوں نے خواہ مخواہ انہیں مسئلہ بنایا ہوا ہے۔اصل مسئلہ نزلہ زکام اور کھانسی ہے جس کی زد میں میں خود آیا ہوں۔ باقی لوگ خواہ مخواہ واویلا کرتے رہتے ہیں!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *