چائے میں خلوص بھر دیتا ہوں

razia syed

رمضان صاحب ہمارے دفتر کی مشہور و معروف شخصیت ہیں۔ دن میں چار پانچ مرتبہ تو ان سے ضرور ہی سامنا ہوتا ہے ۔عادت کے بھی بہت اچھے ہیں اور کام تو اور بھی اچھا کرتے ہیں یعنی چائے بناتے ہیں۔ جی ہاں وہ آفس بوائے ہیں اور چائے ایسی مزیدار بناتے ہیں کہ بس دل کرتا ہے کہ سارا دن چائے سے ہی اپنے آپ کو تروتازہ رکھا جائے ۔

بہت سے نوجوان جو چائے نہیں پیتے تھے ان کے گرویدہ ہو گئے ہیں اور باقاعدگی سے چائے پیتے ہیں ۔ بلکہ کل تو مزمل نے انھیں گھیر ہی لیا اور سوالات شروع کر دئیے ’’یار رمضان بتائو ناں تم اتنی اچھی چائے کیسے بناتے ہو؟ پتہ ہے تمھاری چائے کی وجہ سے اب تو ہمیں اپنی نئی نویلی بیگم کی چائے بھی پسند نہیں آتی ، اور وہ بھی کہتی ہیں کہ میں دیکھوں تو یہ رمضان کون ہے میرا رقیب و روسیاہ ‘‘۔

رمضان پہلے تو مسکرایا اور پھر کہنے لگا کہ ’’ مزمل بائو ہم نے کون سا خاص طریقہ رکھنا ہے ، میں نے تو چائے بنانا اپنی ماں سے سیکھا ، ہمارا ناں گائوں میں ایک چائے کا کھوکھا تھا وہاں نادر موچی سے لیکر تم جیسے سبھی بابو لوگ آیا کرتے تھے ، یہ بڑے بڑے پتیلوں میں چائے بنا کرتی تھی اور میرے والد کی وفات کے بعد یہی ہماری آمدنی کا ذریعہ تھا ۔ گرمیوں میں لسی اور سردیوں میں گرما گرم چائے سے اوطاق سجا کرتی تھی اور تو اور چوہدری صاحب کے ڈیرے پر دوسرے پنڈ سے کوئی مہمان آتا یا شادی بیاہ کی کوئی تقریب ہوتی تو بھی ہمیں ہی آرڈر ملتا تھا ۔‘‘

’’پھر بھی مزمل پوچھنے لگا کہ ’’ یار اس کا طریقہ بتائو ناں کہ تمھارے ہاتھ میں جادو کیسے آیا ، میٹھا بھی تم برابر ڈالتے ہو ، پتی ، چینی سب پرفیکٹ ؟‘‘

’’صاب پرفیکٹ تو کوئی نہیں یہ تو آپ کا پیار ہے ۔اصل بات یہ ہے کہ ایک واقعے نے میری زندگی بدل دی ۔ گائوں کے چوک میں ہمارا کھوکھا تھا ایک دن اماں کسی کام سے ساتھ والے گائوں میں گئی تو مجھے دکان پر بٹھا گئی۔ چائے بنانے کا کام بھی اب میں ٹھیک طریقے سے کرنے لگا تھا اسئلے وہ بھی مطمئن تھی خیر ایک گاہک اس دن آیا میں نے اسے چائے بنا کر دی جو اسے پسند نہیں آئی اور یوں ہی کچھ تلخ کلامی بھی ہو گئی ۔ صاب گائوں میں کوئی بات کہاں چھپی رہتی ہے ۔ پل بھر میں ہی اماں کو بھی خبر ہو گئی ۔ میرے پاس آئیں اور آتے ہی اس کوتاہی کی وجہ پوچھی تو میں کہا کہ اماں پسند نہیں آئی تو نہ آئے ، ہم نے کوئی بابو لوگ کا ٹھیکا لے رکھا ہے روز ٹھیک سے بناتا ہوں سب آتے ہیں شکایت آئی ہے کوئی َ‘‘

اماں میری طرف چند لمحے دیکھتی رہیں اور پھر بولیں ’’ہاں نہیں آئی لیکن آج تو آئی اسکاہی  پوچھ رہی ہوں تو بتا تجھے اس گاہک نے پیسے نہیں دئیے تھے یا مفت میں چائے پی لی تھی ۔؟‘‘

میں نے کہا ’’ نہیں اماں پیسے دئیے تھے ‘‘ تو پھر تو نے اپنا فرض کیوں نہیں نبھایا ، جس کام کے تمھیں پیسے ملتے ہیں ناں وہ پھر تمھاری ذمہ داری بن جاتی ہے اور بیٹا ذمہ داری سے بھاگنے والا کبھی بہادر نہیں ہوتا ، ساری بات خلوص کی ہے رمضان ، بس آج تم میں خلوص نہیں تھا ۔‘‘

’’بس صاب وہ دن اور آج کا دن ، ماں گذر گئی پر اسکی اچھی یادیں اور باتیں ساتھ رہ گئیں ، آج بھی کہیں اس آفس میں کام میں ڈنڈی مارنے لگتاہوں ناں تو کہیں دور سے ماں کی آواز سنائی دیتی ہے کہ ’’جس کام کے تمھیں پیسے ملتے ہیں ناں وہ پھر تمھاری ذمہ داری بن جاتا ہے اور بیٹا ذمہ داری سے بھاگنے والا کبھی بہادر نہیں ہوتا ، ساری بات خلوص کی ہے رمضان ۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *