چھٹیوں کے خوشگوار احساسات کے ساتھ

abbas nasirعباس ناصر

چھٹیوں کے موسم کے آغاز پر پاکستان سے مرکزی رہنماؤں کے اخراج کے متعلق بہت کچھ کہا جا چکا ہے لیکن ان کی منتخب کردہ منازل، ہمیں اپنے رہنماؤں کی سوچ کے متعلق کچھ بتاتی ہیں۔
آئیے اس پر چند منٹ صرف کرتے ہیں اورچند مثالوں کے ذریعے یہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ دوسرے ممالک کے منتخب رہنما کہاں چھٹیاں مناتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں، امریکی صدر جارج بش، بل کلنٹن، جارج ڈبلیو بش اور باراک اوباما چھٹیاں منانے کے لئے مختلف مقامات کو منتخب کرتے رہے ہیں۔
بش سینئر، زیادہ تر، اٹلانٹک کے کنارے، شمال مشرقی امریکہ کے علاقے نیو انگلینڈکی ریاست مین کے چھوٹے سے قصبے کینے بنک پورٹ کا رخ کرتے اوروہاں اکثر ایک موٹر بوٹ پرایک سردی سے بچاؤ والی جیکٹ پہنے ہوئے ایک مچھلی کا کانٹا پکڑے ہوئے نظرآتے جب کہ ان کے صاحبزادے کرافورڈ، ٹیکساس کا رخ کرتے، جہاں ان کا مویشیوں کا باڑہ، ان کی چھٹیوں کی پناہ گاہ ہوتا۔
کلنٹن فیملی کوجب کبھی ایک خاندان کے طور پر اپنا فارغ وقت گزارنا ہوتا تووہ یہ چھٹیاں منانے کے لئے کیپ کوڈ کے قریب ہی میٹاچوسٹس کے جزیرے پر واقع خوبصورت، مارتھا وائن یارڈ کا رخ کرتی۔ حال ہی میں اوباما خاندان نے ہوائی کو اپنے تفریحی مقام کے طور پر منتخب کیا ہے۔
امریکی رہنماؤں کی چھٹیوں کی منازل واضح طور پر نشاندہی کرتی ہیں کہ وہ خود اعتمادی کے حامل ہیں، یعنی، اپنے ملک میں چھٹیاں گزار کر خوش ہوتے ہیں۔ وہ، آرام اور تفریح کے لئے اپنے ذہنوں میں واضح ترجیحات رکھتے ہیں۔ وہ کم و بیش کبھی بھی بیرونی دنیا کی جانب نہیں دیکھتے۔
امریکیوں کے طرز عمل کی تصدیق کے لئے اک نظر روسی صدر ولادمیر پیوٹن پر بھی ڈالئے جو اپنی زیادہ تر چھٹیاں بحیرۂ اسود پر گزارتے ہیں لیکن اس کے علاوہ کچھ دیگر مقامات پر بھی ان کی تصاویر ملتی ہیں، جیسے کوہ یورال پر گھڑ سواری کرتے ہوئے اور وہاں، انکے گھوڑے کی پیٹھ تو ننگی نہیں ہوتی مگر ان کی اپنی چھاتی ضرور کھلی ہوتی ہے۔ ایسا کرکے شاید وہ دنیا کو اپنے واضح سینے کے ذریعے یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ ایک طاقتور اور توانا انسان ہیں۔
وطن عزیز کے قریب کی ہی ایک کہانی مجھے اچھی طرح یاد ہے جو ایک مغربی اخبار نے لگائی تھی۔ اخبار کی ایک رپورٹ نے ان درجنوں بوئنگ 747جمبوز کو شمارکیا تھا جو سعودی شاہی خاندان کو اٹھاتے ہیں اورمالاگا ائیر پورٹ پراتارتے ہیں۔مسافروں میں سعودی شہنشاہ، ان کی بیگمات، بچے، ملازمین، لیموزین گاڑیاں اور معمول کی دیگر اشیاء شامل ہوتیں۔ یہ لوگ جنوبی اسپین کے شہرماربلا کے قریبی پرفضاء قصبے میں اپنی شاہانہ گرمی کی چھٹیاں گزارنے جاتے ہیں۔
واضح طور پر،سعودی طرز کی سوچ انہی کے لئے ہے جو چھوٹے اور کم اہم سٹیشن سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔جب کہ سعودی شہنشاہوں کے لئے بہترین اور عمدہ ترین جگہ وہ ہے جو ریت اور سورج کے حوالے سے بہترین اور عمدہ ترین ہو۔ اورہاں، میں خود کو سورج اور ریت تک ہی محدود رکھوں گا اور اسپینی شراب کا ذکر نہیں کروں گا۔
سعودیوں کے ذکرکو لامحالہ ہماری توجہ کو ہمارے اپنے رہنماؤں کی جانب موڑ دینا چاہئے۔ ان میں سب سے پہلے وزیر اعظم آتے ہیں جو شاید بہادری کے ساتھ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں(اپنے سابق قائد کے تجربے کو نظرانداز کرتے ہوئے)، ایک نہیں بلکہ مزے دارآموں کی 200پیٹیوں کے ساتھ!
میاں نواز شریف دعاؤں کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں،جیسا کہ انہوں نے بااثر سعودی شہنشاہوں کے ساتھ اپنے تعلقات کے معاملے میں کیا۔نجانے یہ آموں کا جادو تھا یا دوست کی کشش کہ نائب وزیر اعظم مقرِن بن عبدالعزیز السعود جدہ میں پاکستانی رہنماکے ’محل‘ میں ان سے ملنے کے لئے فوری طور پر دوڑے چلے آئے۔میری مقصدیت مجھے ان کی رہائش گاہ کو محض رہائش گاہ کہنے کی اجازت نہیں دے گی۔
یقیناً اس سعودی شاہ کے چہرے کا کھو جانا اب ایک دورازکار، بھولی ہوئی یاد ہے کہ جب شہزادہ مقرن مشرف کے زیر حکومت اسلام آباد میں کھڑے،اپنے دوست نواز شریف سے بے غرض ہو کر یہ کہہ رہے تھے کہ اس معاہدے کا احترام کریں کہ جس پرانہوں نے دستخط کرتے ہوئے یہ عہد کیا تھاکہ وہ دس برس تک پاکستان سے دور رہیں گے اورپانچ برس تو ادھر کا رخ بھی نہیں کریں گے کیونکہ ان کا کیا ہوا معاہدہ محترم تھا اور اس کا احترام کیا جانا تھا۔
وزیر اعظم نے اپنی منزل کا انتخاب خوب کیا ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ ان کی توانائی پالیسی تباہ کن ثابت ہوئی ہے، ان کی حکمرانی نے ناکامیاں سمیٹی ہیں اور یہ کہ وہ اقرباپروری کے الزامات بھی سمیٹ رہے ہیں، انہیں دعاؤں سے زیادہ یہ دیکھنے کی ضرورت ہو گی کہ وہ آزمائش کے اوقات میں ان معاملات سے کس طرح نبرد آزما ہوتے ہیں۔ ہر وہ راستہ جسے وہ اسلام آباد میں اپنی فلاح کی طرف جاتا ہوا دیکھتے ہیں ، سعودی عرب سے ہو کر گزرتا ہے۔
ہمارے رہنماؤں میں سے مختصر ترین چھٹیاں عمران خان نے منائیں۔ جیسا کہ وہ اپنی دشمن ن لیگ کو چند ہفتوں میں اقتدار سے باہر کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ عمران خان اپنی بیٹریوں کو ازسرنو چارج کرنے کے لئے وہیں چلے گئے جہاں وہ سب سے اچھا کرتے تھے۔وہ اپنے تعلیمی منصوبے کے لئے چندہ جمع کرنے کے لئے برطانیہ روانہ ہو گئے۔
انہوں نے سوشل میدیا پر اپنی تصاویر ریلیز کی ہیں، اپنے بیٹوں کے ہمراہ، کرکٹ کے مرکز لارڈز میں برطانیہ اور انڈیا کا میچ دیکھتے ہوئے۔ چاہے یہ ایک ارادی حرکت تھی یا ایسا اتفاقاً ہو گیا، مگر یہ بہت اچھا ہوا۔
جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ عمران خان کے عمدہ ترین لمحات میں سے کچھ کرکٹ کے میدان میں آئے اور یہاں وہ دور دراز سے آئے ہوئے حامیوں کی ریلی نکال رہے ہیں۔۔۔ایک عہد ساز سیاسی عظمت جو ہمیں اسی مقام کی یاد دلاتی ہے جو عمران نے ہمیں کرکٹ میں دلایا تھا۔اور وہ بھی لارڈز سے!
اس تمام تناظر میں، یہ تو ناممکن تھا کہ پی پی پی کے رہنما آصف علی زرداری اور بلاول چھٹیوں میں ملک کے اندر ’کام‘ کر رہے ہوتے۔۔۔ قطعی ناممکن۔ وہ کبھی آپ کو فرانس میں اپنے پہاڑی بنگلے میں نظر آتے ہیں تو کبھی واشنگٹن ڈی سی میں امریکی نائب صدر سے لے کر اراکین کانگرس تک کے ساتھ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے نظر آتے ہیں۔
پی پی پی کی قیادت اب پارٹی کے نظرئیے میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتی نظر آتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ یہ قیادت ان لوگوں کو سونپ دی گئی ہے جو یہ کامل اور پختہ یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان میں اقتدار کے سارے راستے واشنگٹن سے شروع ہوتے ہیں!
صحافی کبھی مشاہدہ باطن یا دروں بینی کا وقت نہیں دیا کرتے۔ لہٰذا یہ تحریر ایک استثنائی تحریر ہے۔ مثلاً، کیسے؟ کیا میری چھٹیاں آپکو میرے متعلق کچھ بتاتی ہیں؟ اچھا، ہم بھی سورج کی روشنی سے بھرپور کوسٹا بلانکا میں ایک ہفتہ گزارتے ہیں۔ ہاں، ایک کالم نگار کی آمدن میں رہتے ہوئے۔ کیا آپ اس بات کو قابل سماعت پائیں گے، تباہ کن پائیں گے یا خودکش؟ اپنا جواب منتخب کریں۔ اچھا، اب کافی مذاق ہو چکا، نتائج ہمیشہ بعد ہی میں آیا کرتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *