ایبٹ آباد کی سیر اور پی ٹی آئی کی پرفارمنس پر ایک نظر

sofia arslan

کئی سالوں سے برطانوی سامراج کو لٹیرے اور ڈاکو کا خطاب دیا جاتا رہا ہے کیونکہ یہ عام خیال ہے کہ انہوں نے بر صغیر کی دولت لوٹ لی ہے۔ کیونکہ تاریخ بھی لکھنے والے کی رائے پر مشتمل ہوتی ہے اس لیے بھارتی اور پاکستانی مورخین نے برطانیہ کو ایک بری حکومت کے طور پر پیش کیا ہے۔ لیکن حقیقت کو دیکھا جائے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ برطانوی سامراج دونوں ممالک بھارت اور پاکستان کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔ کوئی بھی ملک دنیا کے اس حصے کی بہتری کا نہیں سوچتا تھا چاہے وہ برطانیہ ہو، فرانس ہو، ہالینڈ ہو، پورتگال ہو یا سپین ہو۔ آخر کار پاکستان اور انڈیا ہی دو ایسے ممالک ٹھہرے جنہوں نے برطانیہ کی بنائی ہوئی سڑکوں اور پلوں سے پوری ۲۰ویں صدی تک استفادہ کیا۔ ہمارے بچے بھی سو سالہ پرانے برطانیہ کی طرف سے قائم شدہ سکولوں سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ برطانوی حکمران برصغیر کے سب سے اچھے منتظم تھے۔ اس کی بنیادی وجہ ان کا اچھا انفرا سٹرکچر تھا۔ ان کے بنائے ریلوے ٹریک اور پل آج بھی اپنی جگہ پر قائم اور قابل استعمال ہیںَ۔ کوئی بھی شخص ان کی محنت کا کریڈٹ ان کو دینے کے لیے تیار نہیں اسلئیے آج میں یہ آرٹیکل لکھ رہی ہوں تا کہ یہ واضح کر سکوں کہ جو شخص تعریف کا حقدار ہے اس کی تعریف کی جانی چاہیے اور جو تنقید کے قابل ہے اسے تنقید کا ہی نشانہ بنایا جائے۔

اس ہفتے میں اپنے ابو کے ساتھ ایبٹ آباد گئی۔ ہم موٹروے کے راستہ سے وہاں پہنچے۔ اگرچہ موسم سفر کے لحاظ سے موزوں نہیں تھا لیکن سڑک کے کنارے کھیتی باڑی والی زمین کی وجہ سے بہت خوبصورت سفر رہا۔ آس پاس کی خوبصورت کھیتی والی زمین نے تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی لیکن شہر کی مصروف زندگی سے آزادی کا احساس دلایا۔ لاہور سے 400کلو میٹر دور مایوسی اور تکلیف دہ صورتحال ہمارا انتظار کر رہی تھی۔ جب ہم ہزارہ کے راستے ایبٹ آباد پہنچے تو جیسا کہ ابومجھے تیس سال پہلے کے ایبٹ آباد کا نقشہ بتایا کرتے تھے بلکل تبدیل ہو چکا تھا۔ روڈ بہت تنگ اور خستہ حالت میں تھے۔۔ ٹریفک سسٹم بہت برا تھا اور وارڈن بہت پریشانی کے عالم میں تھے۔ روڈ ڈائورشن بھی عجیب و غریب تھی۔ راستہ بتانے والے بورڈ بھی غلط لگائے گئے تھے۔ کئی بھی نیا پروجیکٹ سڑکوں کی چوڑائی یا پلوں کی تعمیر کا کام دیکھنے میں نہیں آ رہا تھا۔ شہر میں داخل ہوتے ہی گاڑیوں کا ہجوم ہمارے سامنے آ کھڑا ہوا۔ کنٹونمنٹ کی طرف جانے والی روڈ گاڑیوں اور ٹانگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ سٹرکیں اتنی تنگ تھیں کہ ہمیں انچ کے حساب سے آگے بڑھنا پڑ رہا تھا۔ کونٹونمنٹ پہنچنے میں ہمیں ڈیڑھ گھنٹا لگ گیا۔ پچھلے الیکشن میں ہمارے خاندان نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا تھا اس لیے وہاں یہ صورتحال دیکھ کر ایک عجیب سی مایوسی اور افسوس کی کیفیت چھا گئی۔ وہاں قیام کے پہلے تیین دن میں میرے والد نے مجھے بتایا کہ شہر کی صورتحال بہتر ہونے کی بجائے بگڑ چکی ہے۔ پورے ایبٹ آباد میں مجھے کوئی ایسی چیز نظر نہیں آئی جس پر میں فخر محسوس کر سکوں کہ میرے ووٹ سے یہ تبدیلی آئی ہے۔ نہ اچھی تعمیرات دیکھنے میں آئیں اور نہ ہی قانون کی عملداری کا کوئی ثبوت نظر آیا۔ ہائیجین اور صفائی کے بھی اعلی انتظامات دیکھنے میں نہیں آئے کیونکہ لوگوں پر کسی بھی چیکنگ اینڈ بیلنس کا انتظام موجود نہیں تھا۔ سکولوں کی حالت بھی بہت خستہ تھی اور سکیورٹی کا کوئی انتظام موجود نہیں تھا۔ کنٹونمنٹ ایریا پہنچ کر ہی کچھ اچھی چیزیں دیکھنے کو ملیں وہاں اعلی تعمیرات، اچھی سڑکیں اور بہترین لان نظر آ رہے تھے۔ اس بات کا کریڈٹ بھی صوبائی حکومت کو ہی دیا جانا چاہیے۔ دو ہی دن میں ہم نے کنٹونمنٹ کا پورا علاقہ دیکھ لیا تھا۔ ہماری شہر کے اندر جانے کی ہمت نہیں ہوئی۔ جب کوشش کی، بے جا ٹریفک اور بدنظمی نے ہمارا راستہ روک لیا۔ ہمیں تیسرے دن ہی واپسی کا سفر شروع کرنا پڑا کیوں کہ ہر وقت صرف ٹی وی پر نظر ٹکائے رکھنا اور کئی گھنٹے لوڈ شیڈنگ کا وقت بغیر کسی مصروفیت کے گزارنا آسان نہ تھا۔ ٹوٹے ہوئے دل کے سال 5 بجے ہم نے واپسی کا سفر شروع کیا اور صبح 2 بجے لاہور پہنچ گئے۔ جب ہم پہنچے تو لاہور میں سڑکوں پر سکون تھا اور بہت کم کاریں اور رکشے نظر آتے تھے۔ جس بات نے مجھے بہت متاثر کیا وہ یہ کہ صفائی والی گاڑیاں سڑکوں کی صفائی کے لے جگہ جگہ دکھائی دے رہی تھیں۔ کچھ لوگ درختوں کی جھاڑیاں اور گھاس کاٹنے میں مصروف تھے ۔ انڈر پاسز کے نیچے پھول بوٹے اور دوسری خوبصورتی کی چیزیں بنائی جا رہی تھیں۔ میں اور میرے والد لاہور اور ایبٹ آباد کی سڑکوں کا موازنہ انجانے میں کر رہے تھے۔ لاہور واقعی ایک خوبصورت شہر کا منظر پیش کر رہا تھا۔ گھر پہنچتے ہی ہم نے اللہ کا شکر ادا کیا۔

کوئی بھی شہری جب ادھر ادھر نظر دوڑاتا ہے تو ہر چیز کے بارے میں تبصرہ کرنے کا حق اسے حاصل ہوتا ہے۔ اور ہر ایک کی رائے بھی قابل توجہ ہوتی ہے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کرپشن کے خلاف عمران خان کی خدمات قابل تحسین ہیں لیکن ساتھ ساتھ ان کی پارٹی کی ترقیاتی کاموں میں ناکامی پر تنقید بھی کی جانی چاہیے کیونکہ وہ ڈھائی سال حکومت میں رہنے کے باوجود اپنے شہر کو اس قابل نہیں بنا سکے کہ اس کے ذریعے ان کے صوبے کی حکومت کی کارکردگی کی تعریف کی جا سکے۔

ایک خطاب کے دوران عمران خان نے کہا تھا: قوم روڈوں سے نہیں بنتی میاں صاحب، لیکن خان صاحب کو یہ جاننا ہو گا کہ ہمارے ملک میں کون سے مسائل سب سے زیادہ اہم ہیں اور ان کے حل کی طرف پیش قدمی بھی کرنی ہو گی۔ آبادی کو دیکھتے ہوئے یہ صاف ظاہر ہے کہ لوگوں کو سڑکوں، پلوں اور دوسری عوامی سہولیات کی ضرورت ہے۔ یہ سوچ بھی لیں کہ خان کی سوچ کے مطابق سڑکیں بنانا اور بڑا کرنا کوئی اہم کام نہیں ہے تو بھی سکولوں، ہسپتالوں اور دوسری عوامی سہولیات کو کیا بہتر بنا لیا گیا ہے؟ یا پھر یہ چیزیں بھی ان کے نزدیک کسی اہمیت کی حامل نہیں ہیں؟

اندھا اعتماد اور مدد کوئی اچھی چیز نہیں ہوتی۔ لوگ مذمت کریں گے، اور تنقید کریں گے۔ یہی کام ہے اصل میں لوگوں کا۔ انفراسٹرکچر کی اہمیت مسلمہ ہے بلکہ یہ ایک قومی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی کو اپنے صوبے میں ترقیاتی کاموں کی رفتار بڑھانی چاہیے۔ وہاں کے لوگوں نے پی ٹی آئی کو حقیق مینڈیٹ دیتے ہوئے پی ٹی آئی سے اپنی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔ پی ٹٰی آئی کو کے پی کے کے لوگوں کے مسائل کو فوری حل کرنا چاہیے اور تقریری حملوں کی بجائے اپن صوبے کو دوسرے صوبوں کے لیے ماڈل بنا چھوڑنا چاہیے۔ لوگوں کو اپنے انتخاب پر فخر کرنے کے لیے کسی وجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر لوگ اگلے الیکشن میں پارٹی کو ووٹ دینے سے ہچکچاتے ہیں تو اس کی ذمہ داری پارٹی پر ہی عائد ہو گی کیونکہ پارٹی عہدیداروں نے کیے گئے وعدوں کا پاس نہیں رکھا۔پی ٹی آئی کو اپنے صوبے میں اہم ترقیاتی کام کرنے چاہیں اور لوگوں کے اعتماد کو بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *