قائد اعظم کراچی میں نہیں ،ٹھٹھہ میں پیدا ہوئے

khalidڈاکٹر خالد ظہیر
پچھلے دنوں مجھے ٹھٹھہ کے ایک علاقے جھرک میں جانے کا اتفاق ہوا ۔وہاں مجھے ایسی جگہ لے جایا گیا جس کے بارے میں ناقابلِ تردید ثبوت دیئے گئے کہ یہ بانیِ پاکستان کی جائے ولادت ہے۔ 2010 ء میں سندھ کی وزیرِ ثقافت سسّی پلیجو نے سندھ اسمبلی کو بتایا کہ وہ اس دعوے کی تصدیق کے لیے کمیٹی بنائیں گی۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ سندھی مصنفین اور دانشوروں کے ایک وفد نے جھِرک کا دورہ کیا تھا اور وہاں پر ایسے خاندانوں سے ملاقات کی تھی جو عرص�ۂدراز سے وہاں رہ رہے تھے۔انہیں1950ء میں لکھی گئی بعض نصابی کتابیں دکھائی گئیں جس سے تصدیق ہوئی کہ قائداعظم کی جائے پیدائش جھرک ہے۔تحقیق کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ جھرک کے مقامی پرائمری سکول کے رجسٹر کو گم کر دیا گیا جس میں قائداعظم کا نام درج تھا۔جس نصابی کتاب میں جھرک کو قائداعظم کی جائے پیدائش بتایا گیا ہیوہ مشہور مصنف ڈاکٹر عمر بن داؤد پوتو کی لکھی ہوئی ہے۔سسی پلیجو نے بتایا کہ محترمہ فاطمہ جناح زندہ تھیں ،جب یہ کتاب سرکاری سطح پر پرائمری کلاسوں کے نصاب کا حصہ تھی۔اس تاریخی غلط فہمی کی وجہ یہ بھی تھی کہ ٹھٹھہ ان دنوں ضلع کراچی کا حصہ تھا اور اس دعوے کی مزید دلیل یہ ہے کہ وزیر مینشن جسے قائداعظم کی جائے پیدائش کہا جاتا ہے ،وہ ان کی ولادت کے چھ سال بعد تعمیر ہوا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *