ہسپتال یا بوچڑ خانے ۔۔۔۔(پہلا حصہ )

akhter saeed madan

دو سال قبل میری بیگم کو اچانک ہارٹ کی پرابلم ہو گئی۔میں فوری طور پر اُسے پنجاب انسٹیٹوٹ آف کارڈیالوجی لے گیا۔ایمر جنسی میں میلہ لگا ہوا تھا۔کمروں کے ماتھوں پر نمبر درج تھے۔ایک کے بعد دوسرا کمرہ اورر دوسرے کے بعد تیسرا کمرہ۔ہر کمرے کے سامنے قطاریں تھیں۔لگتا تھا آج سبھی پنجاب والوں کو ہارٹ اٹیک ہو گیا ہے۔ECG کرنے کے بعد بتایا گیا کہ کوئی خاص مسئلہ نہیں ہے ۔مگر بیگم صاحبہ کی بے چینی ،گھبراہٹ اور پسینہ بڑھتا جا رہا تھا۔کوئی آدھا گھنٹہ خجل خراب ہونے کے بعد وہی پرانا نسخہ کام آیا ۔بڑی مشکل سے ایک رابطہ تلاش کیا۔وہ اِسی ہسپتال میں کا م کرتا تھا۔بیچارہ خود چلا آیا ، چونکہ وارڈ کے سارے بیڈوں پر دو ،دو تین ،تین مریض لیٹے ہوئے تھے اس لئے بیگم کو ایمر جنسی میں ایک کرسی لے کر دی۔ابھی ڈاکٹر صاحب بیگم کو انجیکشن لگانے کی تیاری کر رہے تھے کہ بیگم نیم بے ہوش ہو گئی۔ڈاکٹر گھبراگیا۔پتہ چلا صبح کا کھایا پیا کچھ نہیں ہے اس لئے شوگر لو ہو گئی ہے۔ میں جلدی سے بسکٹ اور جوس لایا اور نیم بے ہوش بیگم کو جوس پلایا۔جب ذرا ہوش آیا تو ڈاکٹر نے مجھے انجیکش پکڑایا اور ایک نرس کی طرف اشارہ کیاکہ اُس سے انجیکشن لگواا لوں۔ڈاکٹر کے سرہانے دو تین مریضوں کے لواحقین کھڑے تھے اور اپنے اپنے مریضوں کو وقت دینے کے لئے ضد کر رہے تھے۔میں ٹیکہ لے نرس کے پاس پہنچا جو اپنے موبائل پر میسج کا کوئی آخری جملہ لکھ رہی تھی۔موصوفہ نے بہت غصے سے میری طرف دیکھا کہ اس بابے نے رنگ میں بھنگ ڈال دی ہے۔یقیناًاُس نے منہ ہی منہ میں کوئی گالی دی ہو گی۔میسج مکمل کرنے کے بعد نرس نے دانت پیستے ہوئے موبائل جیب میں ڈالا اور میرے ساتھ بیگم تک آئی۔ابھی اُس بیچاری نے سریج میں انجکشن بھرا ہی تھا کہ موبائل کی میسج ٹیون بج اُٹھی۔نرس نے سرنج داہنے ہاتھ میں پکڑی ،جس کی نیڈل پر انجکشن والی شیشی اٹکی ہوئی تھی اور دوسرے ہاتھ سے موبائل دیکھا ۔میسج میں شائد کوئی لطیفہ تھا۔وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔میں نے نرس کے پاس ہو کر دھیرے سے کہا:ذرا مجھے بھی دکھایئے ۔نرس نے غصے سے مجھے کھورا اور نفرت سے ناک چڑھا کر انجکشن بھرنے لگی۔انجکشن سے بیگم کی طبیعت قدرے سنبھلی۔اس کے بعد کوئی آدھ گھنٹے تک ہمارے لئے کسی ڈاکٹر کے پاس کوئی وقت نہیں تھا۔پھر اُسی ملازم سے رابطہ کیا گیا۔وہ بے چارہ پھرخود آیا اور اپنے سامنے سارے کاغذات بنوا کربیگم کو ICU میں داخل کروا دیا۔
آئی سی یو میں ڈاکٹروں نے باقاعدہ علاج شروع کیااور مجھے کچھ رقم ہسپتال کے خزانے میں داخل کروانے کے بارے میں کہا گیا۔میں نے رقم جمع کروا دی۔کئی ادویات اور انجکشن دیئے گئے۔شام کو ڈاکٹر صاحب نے تجویز کیا کہ اینجو گرافی کرائیں گے تو پتہ چلے گا کہ کیا معاملہ ہے۔اینجو گرافی کے لئے کوئی چھ مہنے کا وقت دیا جا رہا تھا۔اب پھر وہی محسن کام آیا۔اُس نے بتایا کہ یہ وقت عام مریضوں کے لئے ہے ۔اگر آپ بیس ہزار روپے جمع کروا دیں تو میں صبح کا وقت لے دیتا ہوں۔میں نے بیس ہزار جمع کروانے کی حامی بھری اور واقعی صبح کا وقت مل گیا۔آئی سی یو کا ماحول تو قدرے پر سکون تھالیکن پاس رکھی ہوئی ڈولیوں میں بے شمار ننھے منے کاکروچ دھندناتے پھرتے تھے۔کئی حشرات الارض تو میں نے اُس روز پہلی بار دیکھے تھے۔وہ رات میری بیٹی زیست سعید نے ماما کے پاس بینچ پر لیٹ کر کجھلی کرتے ہوئے گزاری جبکہ میں نے وارڈ کے باہر سو روپے دے کر گزاری۔صبح میں نے زیست سعید سے کہا کہ میں وارڈ کے باہر رکھی گئی تاثرات کی کتاب میں یہ ضرور لکھوں گا کہ مریضوں سے پہلے ہسپتال کے کاکروچوں کا علاج کیا جائے۔زیست سعیدکہنے لگی:نہ پا پا نہ ۔۔۔یہ ساتھ والے بتا رہے تھے کہ ایک روز کسی نے کتاب میں کچھ لکھ دیا تھا۔ہسپتال والوں نے کتاب کا وہ صفحہ ہی پھاڑ دیا اور مریض کو بغیر علاج کے ڈسچارج کر دیا۔
سہ پہر کے وقت بیگم کو آپریشن تھیٹر میں لے گئے۔تھوڑی دیر بعد کسی نے آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھولا اور پکارا :مسز سعید کے ساتھ کون ہے؟میں نے دھڑکتے دل کے ساتھ مجرموں کی طرح اقرار کیا:جی میں ہوں۔اتنے میں ڈاکٹر صاحب گاؤن پہنے دروازے میں نمودار ہوئے۔فرمانے لگے:سٹنٹ ڈالنے کا وقت گزر چکا ہے ۔ایک والو تو بالکل بند ہے دوسرا آدھا کھلا ہے ۔آپ کو اب بائی پاس کے بارے میں سوچنا پڑے گا۔اب میں وین بند کر دوں ناں۔میں نے جواب دیا:ظاہر ہے ڈاکٹر صاحب شریان کھلی تو نہیں رکھ سکتے !مجھے عجیب سا محسوس ہوا۔بیگم کی طبیعت سے لگتا نہیں تھاکہ معاملہ اس حد تک بگڑ چکا ہے۔تھوڑی دیر بعد بیگم کو یہ کہہ کر ڈسچارج کر دیا گیا کہ ہم سوچ لیں۔میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ جب تشخیص ہو چکی تو پھر سوچنے والی کون سی بات ہے؟ اس موقع پر پھر وہی محسن کام آیا:کہنے لگا۔آپریشن پر تین چار لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔بہتر ہے آپ بیس،پچیس ہزار روپے اور خرچ کریں ۔آپ سی ڈی لے جائیں اور آٹھ دس ڈاکٹروں سے مشورہ کر لیں۔ہو سکتا ہے کوئی بہتر راستہ نکل آئے۔
اُس کی بات میری سمجھ میں آ گئی تھی۔لاہور والے جانتے ہیں کہ نہر کے کنارے دل کا ایک بڑا ہسپتال ہے۔ سب سے پہلے میں موٹر سائیکل پر اُس ہسپتال پہنچا۔ساتھ زیست سعید بھی تھی۔ڈاکٹر کی مشورہ فیس ایک ہزار پانچ سو روپے تھی۔انہوں نے جلدی سے سی ڈی لگا کر دیکھی اور فرمانے لگے ۔:بائی پاس کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔آپ دیر مت کریں، مین وال بند ہو چکا ہے ۔کسی بھی وقت کچھ ہو سکتا ہے۔میں نے ڈرتے ڈرتے کہا :ڈاکٹر صاحب ہم ذرا سفید پوش لوگ ہیں۔براہ مہربانی اس آپریشن کے چارجز کیا ہوں گے؟ڈاکٹر نے جلدی سے کہا:ہمارا ایک پیکج چھے ساڑھے لاکھ ہے جبکہ دوسراکوئی ساڑھے چار پانچ لاکھ روپے کا ہے۔ہم پانچ دن مریض کو ہسپتال میں رکھتے ہیں۔میں نے پھر جھجکتے ہوئے کہا:سر اس میں فرق کیا ہے ؟کیا سستے پیکج میں آپریشن آپ نہیں کریں گے؟ڈاکٹر ہنس دیا :آپریشن تو میں ہی کروں گا۔ایک پیکج میں وارڈ میں بیڈ ملے گا جبکہ دوسرے کے لئے الگ کمرہ مختص ہو گا۔میں نے حساب لگایا:ڈاکٹر صاحب پانچ دن کے دولاکھ روپے۔اتنا مہنگا کمرہ تو شائد پی سی میں بھی نہ ہو۔۔۔کیا میں آپ کے ہسپتال کا وارڈ دیکھ سکتا ہوں۔اور کیا اس پیکج میں کچھ رعایت ہو سکتی ہے؟ڈاکٹر نے کمرے میں لگے کلاک پر نظر ڈالی : آپ کتنے پیسے دے سکتے ہیں؟
میں نے ڈرتے درتے کہا:یہی کوئی اڑھائی، تین لاکھ روپے۔۔۔!مجھے خوف تھا کہ ڈاکٹر ناراض ہو جائے گا۔مگر وہ ناراض نہیں ہوا ۔ٹھیک ہے تین لاکھ میں بھی کام ہو جائے گا۔کوئی پچاس ہزار روپے اضافی رکھ لیں ۔ہو سکتا ہے مریض کو آئی سی یو میں ایک دن اور رکھنا پڑے۔ہمارے آئی سی یو کے چارجز چالیس ہزار روپے روزانہ ہیں۔میں نے پھر سوال کیا:ڈاکٹر صاحب میں آپ کے قیمتی وقت کا خیال کرتے ہوئے آخری بات پوچھنا چاہتا ہوں۔یہ تین لاکھ والے پیکج میں فرق کیا ہے؟
ڈاکٹر اُکتا گیا تھا۔کہنے لگا:ہسپتال کے چارجز تو آپ کے ساڑھے چار لاکھ ہی بنیں گے۔باقی کے پیسے ہم زکواۃ میں سے ادا کریں گے ۔اس کے لئے آپ کو فارم بھرنا ہو گا کہ آپ بہت غریب آدمی ہیں ۔مجھے قدرے عجیب سا لگا:ڈاکٹر صاحب کیا میں ساڑھے تین لاکھ روپے خرچ کر کے بھی غریب ہی شمار ہوں گا؟ڈاکٹر کو بھی غصہ آ گیا تھا:آپ کا کیا مطلب ہے !ساڑھے تین لاکھ روپے والا رئیس ہوتا ہے۔اس سے قبل کہ میں کوئی اور سوال کرتا ڈاکٹر نے بیل بجا دی۔میں نے اپنی سی ڈی پکڑی اور عجیب سے تاثرات لے کر باہر آ گیا۔
کمرے کے باہر کوئی کمپوڈر نما لڑکا ہمارا منتظر تھا:ہاں جی آ پریشن کروانا ہے ۔میں نے اکتا کر کہا:نہیں جی فی الحال ہمارا اردہ نہیں ہے ۔وہ کہنے لگا :ڈاکٹر صاحب اس ملک کے نامور سرجن ہیں ۔ان سے وقت بڑی مشکل سے ملتا ہے۔آپ شکر کریں آج کل ان کے پاس آپریشن زیادہ نہیں ہیں ۔بس دو تین دن میں آپ کی باری آ جائے گی۔زیست سعید کہنے لگی :پاپا۔۔۔ہم ذرا وارڈ نہ دیکھ لیں ۔۔۔!مجھ سے پہلے ہی سبز گاؤن والا کمپاؤ ڈر بولا :جی جی سسٹر کیوں نہیں۔۔۔!
یہ کو ئی دس بائی دس فٹ کا کمرہ تھا جس میں پردے لگا کر تین بیڈ لگائے ہوئے تھے۔درمیان میں بیٹھنے کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی۔باتھ روم کا پانی بھی باہر بہہ رہا تھا۔بستروں پر مفلوک الحال سے مریض پڑے تھے۔ایک بزرگ نے دھوتی باندھی ہوئی تھی اور نیم غنودہ سا خراٹے لے رہا تھا۔میں جلدی سے وارڈ سے باہر آ گیا۔ہسپتال کے استقبالیہ پر ہمیں چند برشر دیئے گئے جن پر مختلف فیسیں درج تھیں۔استقبالیہ پر موجود کلرک نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب بہت مصروف ہیں۔یہ روزانہ تین آپریشن کرتے ہیں۔پہلے صبح صبح دو آپریشن اس ہسپتال میں کرتے ہیں۔پھر دو گھنٹے مریض دیکھتے ہیں۔سہ پہر کو آرام کرنے کے بعد گلبرگ کے ایک ہسپتال میں شام کو مریض چیک کرتے ہیں۔پھر رات گئے گلبرگ میں ایک آپریشن کرتے ہیں۔
شام کو ہم نے کارڈیالوجی سینٹر کے ایک معروف ڈاکٹر سے وقت لینے کی کوشش کی تو معلوم ہوا ڈاکٹر صاحب ایک ہفتے بعد چیک کریں گے۔میں نے اصرار کیا تو ان کا بکی (اس کے علاوہ کوئی مناسب لفظ نہیں مل رہا)کہنے لگا:آپ آ جائیں۔میں کوشش کروں گا کہ چانس پر آ کو دکھا دوں۔زیست سعید اور میں اینجو گرافی کی سی ڈی لے کر ہسپتال پہنچے۔خوش قسمتی سے چانس پر ہمارا نام درج کر لیا گیا۔البتہ یہ چانس ہمیں سب سے آخر میں ملا ۔اس دوان میں مریضوں سے ڈسکس ہو تی رہی۔سب کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر صاحب بہت سمجھدار ہیں۔ہم ڈاکٹر کے کمرے میں پہنچ کر بیٹھ گئے اور انتظار کرنے لگے۔ ڈاکٹر صاحب ہم سے پہلے ایک مریض کا چیک اپ کر رہے تھے۔وہ مریض سے فارغ ہوئے اور اُٹھ کر مریض کو دروازے تک چھوڑنے گئے۔اس دوران میں ہم سامنے بیٹھ چکے تھے۔ڈاکٹر صاحب آئے تو ہم نے سی ڈی آگے بڑھا دی ۔انہوں نے سی ڈی کمپوٹر میں لگا کر دیکھی اور بلڈ پریشر چیک کرنے والا اپریٹس میری طرف برھا دیا۔میں نے مسکرا کر ڈاکٹر صاحب کو بتا یا کہ میں مریض نہیں ہوں۔انہوں نے میرے موٹاپے اور چہرے کے خدوخال کو دیکھا اور مسکرا پڑے ۔نہایت ہی دھیمی آواز میں بولے:حیرت ہے آپ مریض نہیں ہیں۔
:جی میں مریض نہیں ہوں بلکہ مریضہ کا شوہر ہوں۔ڈاکٹر صاحب میری بات سن کر پھر متبسم ہوئے۔
(جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *