آستینوں کے سانپ

Photo Engineer Iftikhar ch

میاں منیر لاہور والے کمال کے بندے ہیں جن دنوں اے پی ڈی ایک کی سربراہی محمود اچکزئی کر رہے تھے غالبا ۲۰۰۷ کی بات ہے کہنے لگے لیڈر کو باز رکھو اور اسے کہو جو شخص نائی کی چادر لے کر بھاگ گیا ہو وہ قوم کی کشتی کنارے نہیں لگا سکے گا۔خیر یہ تو مزاحیہ بات تھی لیکن آج جب اس شخص کو فوج کے خلاف زہر اگلتے دیکھا تو مجھے یاد آیا چھوٹے لوگ ہمیشہ چھوٹی بات کرتے ہیں۔
موصوف کہتے ہیں کہ میں میاں نواز شریف کے ساتھ بغیر کسی غرض اور غائت کے ہوں اور مزید زہر اگلتے ہوئے کہا کہ میں کیسے پاک سر زمین کو شاد باد کہہ سکتا ہوں گویا قومی ترانہ بھی نہیں مانتا۔کوئٹہ دھماکے میں ۹۰ شہید ہو گئے پوری قوم دکھی ہے مگر اس حادثے کے بعد جو سانحہ ہوا ہے وہ یہ ہے کہ پاکستانی ایجنسیز پر وار کر دیا ہے اور محمود اچکزئی جیسے لوگ اس خون کو ایک خاص طبقے کے ساتھ زیادتی قرار دے رہے ہیں۔
شیخ رشید نے سچ کہا تھا کہ پاکستان کا ایک بہت بڑا شخص ہے جس کی یہ عادت ہے کہ وہ سامنے آ کر کبھی بات نہیں کرتا وہ پیچھے سے وار کرتا ہے اور جو خود کہنا ہوتا ہے کسی اور کے منہ سے کہلواتا ہے۔یہی کچھ ہوا محمود اچکزئی فوج پر چڑھ دوڑا۔میرا سوال ہے کہ کیا پاکستان میں پہلی مرتبہ ہوا کہ سو کے قریب لوگ مارے گئے اور بلوچستان میں مارے جانے والے افراد کی موت کی تحقیقات جب بھی ہوئیں اس کے پیچھے انڈیا کا ہاتھ نکلا ابھی کل ہی کی بات ہے کلبھوشن کو وہاں سے زندہ پکڑا گیا۔
قارئین بات صرف بلوچستان کی نہیں پاکستان تو بنتے ہی دشمنوں کی سازشوں کا شکار چلاآیا ہے۔بانی ء پاکستان غیر طبعی موت مرے فاطمہ جناح کی موت بھی شکوک شبہات کے پردے میں رہی لیاقت علی خان کو ایک بد بخت افغانی نے سر عام مار دیا۔بعد میں دیکھ لیں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں کیا اودھم مچا رہا ضیاء دور آئے روز بم دھماکے آئے روز لاشیں کیا اس دور میں بھی ایجینسیاں کرتی رہیں کیا اس دور میں بھی آئی ایس آئی کا ہاتھ تھا اس سیاہ دور مین ایک انڈین سپانسرڈ چینیل تو آئی ایس آئی چیف کے لتے لیتا رہا۔مگر ایک بات یاد رکھئے ضیاء مرد تھا اس نے کسی دلیر ماں کا دودھ پیا تھا ۹۰ ادھر مرتے تھے ۱۰۰ انڈیا میں جاتے تھے۔جب تک دشمن کو آگ نہ سینکنی پڑی آپ کو دھواں سونگنا پڑے گا۔
آپ کا ازلی دشمن روز آپ کو مار جاتا ہے اور حکمران اس کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر پھرتے ہیں۔پاکستان کو اپنے دشمن کو نظر میں رکھنا ہو گا یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ جب تک آپ اپنی مرضی کے محاذوں پر نہیں کھیلیں گے وہ آپ کو امن کے نام پر ایسے ہی نچاتا رہے گا۔ان کی ایک ایجینسی کے ذمہ دار نے کہا تھا کہ وہ لاہو داتا صاحب میں جاسوسی کرتا رہا اور اس نے ایک نیٹ ورک تخلیق کیا۔جناب اچکزئی صاحب آپ کا مشن ایک پختونستان ہے آپ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ ہیں جو اس خطے میں پختون ریاست کے لئے کام کر رہی ہے۔ویسے آپ کو تکلیف تو اس لئے بھی ہے کہ پختون پختون آپ اور اسفند یار کرتے رہے اور میلہ لوٹ گیا میانوالی کا پٹھان جسے پشتو بھی نہیں آتی۔
آپ فوج کے اس لئے خلاف ہیں کہ وہ فاٹا میں جو زہر آپ نے گھولا تھا اسے شہد میں بدل رہی ہے اسکول بن رہے ہیں سڑکیں تعمیر ہو رہی ہیں اور وہاں پاکستان کے قوانین نافذ ہو رہے ہیں جو پی ٹی آئی کر کے چھوڑے گی۔آپ کو عمران خان سے شائد اسی لئے دشمنی ہو گئی ہے کہ اس کی حکومت نے فوج کے ساتھ مکمل تعاون کیا ہے۔
آپ کھائیں گے پاکستان کا اور اس کی تھالی میں چھید بھی کریں گے اس لئے کہ لاہور آپ کے اوپر ہاتھ رکھے ہوئے ہے۔ہمارے حکمران اس لکیر کو عارضی سمجھتے ہیں ان کا خیال ہے کہ بھارتی جس رب کو پوجتے ہیں ہم بھی اسے پوجتے ہیں۔احمقوں کی جنت کے بسنیک لوگوں کو نہیں پتہ کہ اگست ۴۷ میں بننے والا پاکستان لاکھوں شہداء کی قربانیوں کے سلسلے میں بنا ہے۔پاکستان سر زمین شاد باد آپ نہیں کہتے جائین بھاڑ میں اس ملک کے کروڑوں لوگ جن میں پختون بھی شامل ہیں وہ اپنے خون سے لکھ رہے ہیں پاک سر زمین شاد باد کشور حسین شاد باد۔کبھی ان کی تحریر پڑھی ہے میں تو آج بھی پڑھ کر آیا ہوں ایک جنازہ اپنے عزیز کا کہ جس نے علی الصبح اس ملک کے دفاع کے لئے جان دی سمگلروں کے ہاتھوں مارا گیا ہمیں خون دے کر کشور حسین کو شاد باد کہنا آتا ہے۔(شکیل گجر آف نلہ )
آپ کو اس پاکستان نے بہت کچھ دیا مگر افسوس کے آپ اسے کچھ نہیں دے رہے کتنے لوگ ہیں تمہارے گھر کے جنہوں نے اقتتدار کو چوم رکھا ہے۔کتنے لوگ ہیں آپ کے گھرانے کے جنہوں نے مادر وطن کے لئے قربانی دی ہے۔شائد ایک بھی نہیں امید ہے آپ کا مکہ دہلی نہیں مکہ مکرمہ ہی ہو گا
مجھے انتہائی افسوس ہے کہ آپ نفرت کے بیج بو رہے ہیں کوئٹہ کے شہداء پشاور اسکول کے شہید داتا صاحب لاہور میں مرنے والے شہداء میں فرق ہی کیا ہے کراچی لاہور کوئٹہ پشاور کامونکی مریدکے شیخوپورہ میں بہنے والا پخون پاکستان کا خون ہے۔
جناب آپ سمجھتے ہیں شائد پختونوں کے نام پر کوئی الگ ملک بنا لیں گے یہ آپ کو پاکستان کے بیس کروڑ لوگوں کی لاشوں پر سے گزر کر بنانا ہوگا۔زور لگا لیں جتنا لگانا ہے ۔یہ میاں نواز شریف ہی تھے جنہوں نے اس زہریلے بیج کو پانی دیا اور خیبر پختونخوا کا نام دیا۔میں سمجھتا ہوں زبان کے نام پر بننے والے صوبے پاکستان کی بنیا کو کھوکھلا کر دیں گے۔روک لیں اب سرائکستان اور اردو دیش۔اسی وجہ سے نئے نئے فتنے سر اٹھا رہے ہیں۔اللہ نے اس ملک کو اسلام کے نام پر دیا اللہ ہی اسے قائم رکھے گا۔کسی محمود اچکزئی کے بس کی بات نہیں کہ وہ اس پاک سر زمین کو ناشاد باد کر سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *