’’قابل رحم‘‘ طبقے!

Photo Attaul Haq qasmi sb

ایک بات میں نے پہلے ہی کہی تھی چونکہ مزیدار ہے اس لئے قندمکرر کے طور پر دہرارہا ہوں۔ جب مجھے ناروے میں پاکستان کے سفیرکے طور پر بھیجا جارہا تھا، ایک بیوروکریٹ دوست سے میں نے رہنمائی طلب کی تو اس نے کہا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ وہاں تمہاری شخصیت غیرمتنازع رہے تو صرف ایک کام کرنا..... اوروہ یہ کہ کوئی کام نہ کرنا.....گو میںاپنے دوست کے مشورے پر عمل نہ کرسکا، مگر بات اس نے پتے کی کی تھی۔ میرے ایک شاعر دوست برسہا برس تک پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کے چیئرمین رہے مگر انہوں نےایک بار بھی اکیڈمی کی سالانہ ادبی کانفرنس منعقد نہیں کی جس میں ہر سال سینکڑوں ادیب ملک کے طول و عرض سے شریک ہوتے تھے۔ میرے اس دوست کا کہنا تھا کہ میں پاگل ہوں جو کانفرنس کرائوں۔ اس میں دو سو ادیبوں کو مدعو کروں اور اس کے ’’عوض‘‘ دو ہزار ادیبوں کو ناراض کر بیٹھوں۔ بات اس کی بظاہر ٹھیک تھی کیونکہ زمینی حقیقت یہی ہے کہ جب آپ میرٹ پر کام کرتے ہیں تو ان ہزاروں افراد کو ناراض ہی نہیں بلکہ ان سے ذاتی دشمنی پال لیتے ہیں جو میرٹ پر نہیں آتے تھے تاہم یہ دشمنیاں کسی کو تو مول لینا ہی ہوتی ہیں ورنہ ملک جنگل میں تبدیل ہو جاتے ہیں!
ہمارے ہاں ایک بہت بڑی خرابی یہ ہے کہ جو شخص جس شعبے میں بھی ہے وہ خود کو اس شعبے کا میرکارواں سمجھتا ہے اور اس کے ہم جولی اس کو یقین بھی دلاتے رہتے ہیں بلکہ اکساتے بھی رہتے ہیں کہ اس سے کم پر’’راضی‘‘نہ ہونا، چنانچہ آپ کسی بھی ادارے میں چلے جائیں وہاں آپ کو بے شماراس طرح کے ’’مایوس مریض‘‘ ملیں گے جو زمانے کی ناقدری پر شکوہ کناں نظر آئیں گے۔ مجھے دو چار ایسے مواقع ملے ہیں جب میں نے انہیں اپنی بے پناہ تعریف کرتے دیکھا۔ اگراس موقع پر کوئی مجھ ایسا ناقدر شناس ان کی ہاں میں ہاں نہ ملائے اور انہیں ان کا ’’مقام‘‘ یاد دلانے میں مددگار ثابت نہ ہو تو پھر اس کی لاش کو ’’مچھیاں‘‘ ہی کھاتی ہیں۔ گالی گلوچ، دشنام تراشی اورالزام تراشی، سب کچھ اس کا مقدر بنتا ہے۔ میں نے الحمرا آرٹس کونسل کی سربراہی کے دوران شاعری ،افسانہ نگاری، مصوری اور اداکاری کے شعبوں پر سالانہ گرانقد ایوارڈز کا اعلان کیا۔ اداکاری کا ایوارڈ قوی خان کو ملا۔ فکشن پر اب مجھے یاد نہیں عبداللہ حسین اور انتظارحسین میں سے کسی ایک کو اورمصوری میں خالد اقبال کو ملا۔ مگر اس پر بھی شور اٹھا چنانچہ اگلے سال ایوارڈز کا یہ سلسلہ بند کرنا پڑا۔ یوم پاکستان کےموقع پر صدرمملکت کی طرف سے زندگی کے تمام شعبوں کے نمایاں افراد کو ایوارڈز دیئے جاتے ہیں۔ اس پر بھی ہر سال قیامت برپا ہو تی ہے۔ دفتروں میں پرائز پوسٹوں پر تعیناتی فساد برپا کردیتی ہے کہ ہر ایک نےیہ طے کیا ہوتاہے کہ اپنی قابلیت کا فیصلہ اس نے خود کرنا ہے!
اب ایک نظر میڈیا پر بھی ڈال لیں۔ ہمارے ٹی وی چینلز کے بعض اینکر روزانہ شام کو سات بجے سے رات کے بارہ بجے تک ملک و قوم کے حوالے سے حتمی فیصلے کرتے نظر آتے ہیں۔ ان میں سے بعض سیاست دانوں اور حکمرانوں کو ڈکٹیشن دینے کی کوشش بھی کرتے ہیں جو ان کی ڈکٹیشن پر مکمل عمل کرے اس کا قصیدہ ورنہ ہجو توبہرحال تیار رہتی ہے۔ میرے یہ دوست پالیسی سازوں کو رتی بھر اختیار دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ یہ بات کرتے ہیں تو ان کے منہ سے بچھو جھڑتے ہیں۔ ان کا سارا نزلہ آ جاکر جمہوریت ہی پر گرتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بات کرنا پڑے تو یہ چپ کا روزہ رکھ لیتےہیں۔ یہ لوگ جمہوریت کے خلاف زہر عوام سے ہمدردی کی آڑ میں بولتے ہیں مگر عوام ہر بارانتخابات کے موقع پر ان کی نافرمانی پر اتر آتے ہیں ۔ ان کی پیش گوئیاں ردّی کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں، مگر اس سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کا روٹی پانی تو بہرحال چلتے ہی رہنا ہوتا ہے۔
اب دوبارہ اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں یعنی پیپرمارکنگ میں اپنے نمبر خود لگانا یعنی سو میں سے سو نمبر لینا..... اپنے عمران خان کا مسئلہ کیا ہے؟ یہی تو ہے انہیں یہ بات سمجھ ہی نہیں آتی اور وہ اس پر یقین کرنے کوتیار ہی نہیں ہیں کہ وزارت ِ عظمیٰ کا ان سے زیادہ حقدار کوئی اور بھی ہوسکتا ہے ۔ دوسری طرف عوام ہیں کہ 2013 کے انتخابات سے لےکر آج تک جتنے بھی انتخابات ہوئے ہیں،وہ انہیں مسلسل رد کر رہے ہیں۔ ان کے بعد عمران خان کے پاس اور کیا چارہ رہ جاتا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے چاہے ان کا تسلیم کردہ جوڈیشل کمیشن ہی ان انتخابات کو شفاف اور غیرجانبدارانہ ہی کیوں نہ قرار دے ڈالے۔ وہ سب لوگ جو زندگی کے کسی شعبے سے وابستہ ہیں اور کسی دوسرے کی جائز برتری ماننے پر تیار نہیں وہ ملک و قوم ہی نہیں اپنے ساتھ بھی زیادتی کرتے ہیں کہ ہر وقت جلتے بھنتے رہنے کی بجائے ان کے جسم کی کیمسٹری تبدیل ہونے لگتی ہے اور ان کی شخصیت مسخ ہوکررہ جاتی ہے۔ ملک و قوم اور خود کو اذیت دےکر اللہ جانے انہیں کیا ملتاہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *