تکمیل آزادی

 جویریہ سعیداعوان 
14th
                   عشق و آزادی     بہارزیست کا سامان ہے
                   عشق میری جان      آزادی میرا ایمان ہے
                   عشق پر کر دوں فدا میں اپنی ساری ذندگی
                    لیکن آزادی پہ میرا   عشق بھی قربان ہے
                                                                 (مولانا نصراللہ خان  )
14 اگست ہماری آزادی کا دن ، برصغیر کے مسلمانوں کی ہندوؤں اور انگریزوں کی غلامی سے آزادی کا دن ، جسے ملک بھر میں بڑے جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے ۔ ملک عزیز میں ایک الگ ہی منظر دیکھنے کو نظر آتا ہے۔
رنگا رنگ تقریبات کو منعقد کر کے،سبز اور سفید کپڑے پہن کر ،ہر جگہ ہری جھنڈیاں لگا کر، شہروں اور گاؤں میں چراغاں کر کے،قومی پرچم کو ہر گھر کی چھت پر آویزاں کرکے ، بے دریغ پیسے کا ضیاع   کر کے  ہم  " جشن آزادی " منا کر وطن سے بھرپور محبت کا اظہار کرتے ہیں۔
اور یہ جوش و جذبہ ، وطن سے محبت (باتوں کی حد تک) صرف ایک ہی دن پر محیط ہوتاہے۔
اس سے اگلے دن وہی سبز ہلالی پرچم سڑکوں پر پڑے اپنی حالت زار پر ماتم کناں ہوتے ہیں۔ اور جو دل 14 اگست کو پاکستانی ہونے کا رگ الاپنے میں مصروف ہوتا ہے وہی اگلے دن انڈیا کے ڈرامے دیکھنے میں مصروف ہوتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے دل فکروعمل سے خالی ہو چکے ہیں۔ ہم ذہنی طورپر تو آزاد ہیں مگر ہمارے ذہن اغیار کے غلام بن چکے ہیں۔ ہم آذادی کے اصل معانی و مفہوم سے ناآشنا ہو چکے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے آباء و اجداد نے کیسی کیسی قربانیاں دے کر اور کس مقصد کیلئے اس وطن کو حاصل کیا تھا۔
صرف 14 اگست کو ہی سبز ہلالی پرچم لہرا کر ، اپنے گھروں کو جھنڈیوں سے سجا کر ،ملی نغمے گا کر ہم سمجھتے ہیں کے ہم نے وطن سے محبت کا حق ادا کر دیا ہے ۔
اگر حقیقی جشن آذادی منانی ہے اگر واقعی میں سبز ہلالی پرچم کو بلند اور عظیم رکھنا ہے ، قائد اعظم کے فرمودات کو ذہن میں رکھنا چاہیے ۔ کے ان کا پاکستان بنانے کا مقصد کیا تھا؟؟؟ ۔ ہمارے آباء و اجداد  نے کس مقصد کو حاصل کرنے کے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا؟؟؟
1946 میں اسلامیہ کالج کے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے  قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا!
    " ہم نے صرف پاکستان کا مطالبہ نہیں کیا ہے جو کہ صرف ایک زمین کا ٹکڑا ہےبلکہ
              ہم نے تو صرف ایسی ریاست کو چاہا ہے جہاں ہم اسلامی اصولوں کے
                مطابق زندگی گزار سکیں"۔
 پاکستان کا مطلب ہی  " لَا إِلٰهَ إِلَّا الله مُحَمَّدٌ رَسُولُ الله " ہے اورمقصد صرف ایسے خطہ چاہیے تھا جہاں ہم اسلام کے اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکیں ۔
آئیے اور اپنا محاسبہ کریں کہ ہم کون ہیں ؟؟؟ اور کہاں جا رہے ہیں؟؟؟؟
کیا ہم نے جس مقصد کے لئے پاکستان حاصل کیا تھا اس مقصد کو پورا کر دکھایا ہے کہ نہیں؟؟؟
اگر دل میں وطن سے محبت کا حقیقی جذبہ موجود ہے تو ایک کام کرو وطن کے لئے کچھ کر کے دکھاؤ ۔  اور ملک پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کر کے دکھاؤ ۔وطن عزیز کو ایسی " جشن آزادی " سے کچھ حاصل نہیں ہوتا اگر حقیقی جشن آزادی منانی ہی ہے تو تم ایک اور قائد اعظم ،عبدالستارایدھی، ڈاکٹر عبدالقدیرخان بن جاؤ تم اقبال کا شاہین بن کر وطن عزیز کی ترقی کے لئے کوشںں ہو جاؤ۔۔۔۔۔
تعلیم کو عام کر دو ۔ اپنے اندر احساس ذمہ داری پیدا کرو ۔ تعمیر آزادی کا جذبہ پیدا کرو اور بانی قائد کے فرمان ( کام ، کام اور بس کام ) پر عمل پیرا ہو جاؤ ۔ اور پاکستان کا اصل مقصد حیات ذہن میں رکھ کر اپنی زندگی
کو آگے بڑھاؤ۔
انشاءاللہ ملک عزیز عظمت کی بلندیوں کو چھوئے گا۔ اور جشن آزادی کا حق بھی پورا ہو جائے گا۔ شکریہ
              خدا کرے  میری    ارض پاک  پر اُترے
              وہ فصل گُل جسے     اندیشہ زوال نہ ہو
              خداکرے میرےاک بھی ہم وطن کے لئے
             حیات جُرم نہ ہو         ذندگی وبال نہ ہو
اللہ رب العزت پاکستان کا حامی وناصر ہو۔۔۔۔۔۔۔آمین۔۔۔۔۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *