تیسرے دن میچ کا پورا نقشہ بدل گیا!

  • یونس خان نے 218 رنز کی اننگز کھیلی

سال 1987 سے 1996 تک دورۂ انگلینڈ کے دوران پاکستان کی جانب سے ایک طرح کا رجحان دیکھنے میں آیا۔

اس دوان تین سیریز میں پاکستانی ٹیم اپنے میزبان پر حاوی رہی جس میں بیٹنگ میں بہت زیادہ رنز بنائے اور پھر فاسٹ بولنگ اور سپن کے اٹیک سے میزبان ٹیم کی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کر دیا۔

* انگلینڈ کی بیٹنگ ڈگمگا گئی، یاسر شاہ کی عمدہ بولنگ

* اوول ٹیسٹ میں پاکستان اننگز کی تصاویر

یہ رجحان 2001 میں قدرے اس وقت تبدیل ہوا جب دو میچوں کی سیریز بے نتیجہ رہی۔ پھر 2006 میں پاکستان انگلینڈ کے دورے پر پہنچی تو اس وقت اس کا بولنگ اٹیک زیادہ اچھا نہیں تھا اور یہ دورہ اوول ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی جانب سے کھیلنے سے انکار اور بعد میں انگلینڈ کو فاتح قرار دینے کے ایک بڑے تنازع پر اختتام پذیر ہوا۔

لیکن 2010 کا دورہ سب سے زیادہ متنازع ثابت ہوا اور اسی طرح گذشتہ 20 برسوں میں انگلینڈ میں کوئی سیریز جیتنے میں ناکام رہے جس میں آخری دو میں بری طرح سے ناکامی کا سامنا رہا۔

یاسر شاہ نے انگلینڈ کی دوسری اننگز میں گرنے والی چار میں سے تین وکٹیں حاصل کیں

موجودہ دورے کے آخری دو میچوں کو دیکھ کر لگتا تھا کہ پاکستان کا مقدر یہ ہی ہو گا۔

جس میں تین ایک شکست اور یہ 2006 کی سیریز سے بہتر کارکردگی ہوتی۔

گذشتہ رات نئی گیند کے ساتھ وکٹوں کے گرنے سے لگتا تھا کہ یہ مقدر مہر بند ہونے جا رہا ہے۔ اس کے بجائے پاکستان نے سنیچر کا دن ایسا گزارا ہے جس سے لگتا ہے کہ وہ اس ملینیئم میں انگلینڈ کا دورہ کرنے والی بہترین ٹیم ہے اور بہت عرصے بعد انگلینڈ کے دورہ پر آنے والے سب سے بہترین مہمان ہیں۔

سنیچر کو ٹیم میں بلے بازوں کی آخری جوڑی نے کھیل کا آغاز کیا اور پاکستان پر اعتماد لگ رہا تھا۔ یونس خان اور سرفراز دونوں نے جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کیا۔ وکٹ کیپئر سرفراز اس وقت تک آف سائیڈ پر شاندار شارٹس کھیلتے ہوئے بولرز کو غصہ دلاتے رہے جب تک انگلینڈ نے اس سائیڈ پر فیلڈنگ کا حصار بڑھا نہیں دیا۔

اس کے بعد یونس خان آگے بڑھے اور سنچری سکور کی۔ جب سرفراز آؤٹ ہوئے تو وہاب ریاض کریز پر آئے اور اس وقت انگلینڈ پر حاصل برتری بہت معمولی تھی اور وہ وکٹ پر زیادہ دیر ٹھہرنے کی بجائے آؤٹ ہو گئے۔

پاکستانی بیٹنگ لائن میں ٹیل اینڈرز یا آخر میں بیٹنگ کرنے والے بلے باز کئی برسوں سے غیر موثر ثابت ہوتے آئے ہیں اور اس موقعے پر بہت کم امیدیں ان سے وابستہ تھیں۔

انگلینڈ کی امید کے مرکز جو روٹ بھی یاسر شاہ کا شکار بن گئے

لیکن اس کے برعکس میچ کا پورا نقشہ بدل گیا۔ محمد عامر دیر تک وکٹ پر جمے رہے اور یونس خان جارحانہ انداز میں نظر آ رہے تھے اور سکور کرنا شروع کیا اور یہ میچ میں ایک پرجوش واپسی تھی اور جس وقت پاکستان کی اننگز کا اختتام ہوا تو اسے ایک بڑی برتری حاصل ہو چکی تھی۔

انگلینڈ نے اپنی دوسری اننگز کا آغاز اسی جارحانہ انداز میں کیا جیسا کہ اس پوری سیریز کے دوران کرتا چلا آ رہا ہے لیکن زیادہ برتری حاصل ہونے کی وجہ سے پاکستانی بولرز بہت مختلف دکھائی دے رہے تھے اور اسی طرح سے انگلینڈ کے بلے باز بھی۔

عامر اور سہیل نے بلے بازوں کو باندھ کر رکھا جس میں خاص کر عامر نے ایلسٹر کک کو کھل کر کھیلنے نہیں دیا۔ وہاب ریاض نے انگلش کپتان کو آؤٹ کیا لیکن عامر کی بولنگ کے اعداد و شمار ان کی بہترین بولنگ کی عکاسی نہیں کرتے تھے۔ اس کے بعد یاسر شاہ کا شو شروع ہوا۔

وہاب ریاض نے پاکستان کو پہلی کامیابی دلائی

انھوں نے اپنی بولنگ کا آغاز کرتے ہوئے ایلکس ہیلز کو پویلین کی راہ دکھائی جنھوں نے میچ میں یاسر پر فقرے کسے تھے۔

یاسر نے ہیلز کے بعد ونس کو آوٹ کیا اور بعد میں انگلش ٹیم کی امیدوں کے مرکز جو روٹ کو جھانسہ دے کر پویلین کی راہ دکھائی۔

یہ لیگ سپنر کی شاندار کارکردگی تھی جو آخر کار ایک ایسی صورتحال میں بولنگ کرا رہے ہیں جس میں اس پر پریشر کم ہے۔

تیسرے دن پاکستانی ٹیم حاوی رہی اور ایک طویل عرصے بعد انگلینڈ میں کھیلتے ہوئے پاکستانی ٹیم نے ایسی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

اگر چیزیں توقع کے مطابق ہوئیں تو ان کے پاس سیریز کے وہ نتائج ہوں گے جو حقیقی طور پر دہائیوں میں کسی سے بھی بہترین ہوں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *