جیت کے بعد مصری پہلوان کا اسرائیلی حریف سے ہاتھ ملانے سے انکار


ریو ڈی جنیرو -مصر کے جوڈو فائٹر اسلام الشھابی نے ریو اولمپکس میں اسرائیلی حریف أور ساسون سے شکست کے بعد ہاتھ ملانے سے انکار کردیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کے اورساسون نے اسلام الشھابی کو پہلے مرحلے میں دودفعہ گراتے ہوئے شکست دی تھی، جس کے بعد اسرائیلی فائٹر نے ان سے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو انھوں نے ہاتھ ملانے سے انکار کیا۔ اورساسن مقابلے کے بعد اسلام الشھابی سے ہاتھ ملانے کے لیے آگے بڑھے لیکن مصری فائٹر ہاتھ ملانے سے انکار کرتے ہوئے پیچھے ہٹتے چلے گئے۔ مصری فائٹر کے اس عمل پر وہاں پر موجود تماشائیوں نے بلند آواز میں ناپسندیدگی کااظہار کیا۔ واضح رہے جاپانی مارشل آرٹ میں جوڈو کے میچ سے قبل اور مقابلے کے اختتام پر کھلاڑی ایک دوسرے کے سامنے سرجھکاتے ہیں یا ہاتھ ملاتے ہیں۔ اسلام الشھابی کو ریفری نے جگہ پر واپس آنے کے لیے بلایا مگر انھوں نے سرہلا کر جواب دے دیا۔

اس واقعہ پر انٹرنیشنل جوڈو فیڈریشن نے جاری اعلامیے میں کہا کہ ان دونوں ایتھیلیٹس کے درمیان مقابلہ ہوا، جو درحقیقت ایک خوش کن تھا۔ فیڈریشن کے ترجمان نیکولس میسنرکا کہنا تھا کہ 'یہ بذات خود ایک بڑی کامیابی ہے کہ ایک عرب ملک نے اسرائیلی ایتھلیٹ سے مقابلہ تسلیم کیا'۔ ان کا کہنا تھا کہ ہاتھ نہ ملانا کوئی حرج نہیں ہے ، لیکن مقابلے سے قبل اور بعد میں سرجھکانا ضروری ہے۔ میسنر نے کہا کہ اگر اسلام الشھابی سرجھکا بھی لیتے تو بھی مقابلے کے بعد ان کے رویئے کا جائزہ لیا جائے گا کہ اس پر کیا کارروائی کی جائے' :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *