پاکستان کے نظام کا عکس

Zubaidaزبیدہ مصطفیٰ

10برس قبل، جب میں نے اپنا طرز زندگی تبدیل کیا اورایک علیحدہ گھر سے ایک فلیٹ میں منتقل ہوئی تو مجھے ایک دوست نے متنبہ تھا کہ مجھے اس تبدیلی سے قبل دو بار سوچ لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہرفلیٹ کا رہائشی ، جسے وہ جانتی ہیں، وہ رہائشیوں کے عدم تعاون کے سبب پیدا ہونے والی مشکلات کی مستقل شکایت کر رہا تھا۔
میں نے ان کی نصیحت پر توجہ نہ دی کیونکہ میرا خیال تھا کہ کراچی میں رہائش میں مسائل رہتے ہی تھے چاہے آپایک محل میں رہتے یا ایک محلے کے کسی گھر میںیا ایک پلازے میں بنے ہوئے ایک فلیٹ میں۔بس آپ کو مشکلات سے مقابلہ کرنے کا طریقہ آنا چاہئے۔
ماضی کو دیکھتے ہوئے، میں محسوس کرتی ہوں کہ فلیٹ میں رہنا پاکستان میں حقیقی زندگی کاعکس صغیر ہے ۔۔۔ اورفلیٹوں کا علاقہ دھوکوں سے بھرپور ہوتا ہے۔جب میں فلیٹ میں منتقل ہوئی تو مجھے بہت زیادہ خوشی ہوئی کیونکہ جب میں اپنے علیحدہ گھر میں رہا کرتی تھی تو اس وقت میرے گھر پر دو بار مسلح ڈاکو حملہ آور ہوئے تھے۔ لہٰذا فلیٹ میں منتقل ہونے پر میں نے ایک طویل عرصہ بعد خود کو محفوظ محسوس کیا۔ یہ فلیٹ روشن اور ہوادارتھا اوراس سے سمندر بھی دکھائی دیتا تھا۔
میں تسلیم کرتی ہوں کہ فلیٹ کی زندگی کے نقصانات بھی تھے لیکن آپ کوئی نہ کوئی بندوبست کرکے ان کے ساتھ گزارا کر سکتے ہیں۔ ان کا ٹھیکے دار ایک ملنسار اور شریف انسان تھا جو اسی پلازے میں رہتا تھااوررضاکارانہ طور پر کام کرنے والے ایک سپروائزر کی مدد سے رہائشیوں کی ایسوسی ایشن کے معاملات چلایا کرتا تھا۔ کسی نے کبھی یہ پوچھنے کی پروا نہیں کی تھی کہ وہ ہم پر یہ مہربانی کیوں کر رہا تھا۔جیسا کہ توقع بھی یہی ہوتی تھی، سوپر وائزردفتر کے باقاعدہ اوقات میں باقاعدگی سے نہ آتا تھا اور جب کبھی ہم اس کے متعلق پوچھتے تو ہمیں بتایا جاتا کہ وہ بینک گیا ہوا ہے۔شاید یہ اس کی ترجیحی سرگرمی تھی۔ کافی بعد میں مجھے پتہ چلاکہ وہ ٹھیکے دار کے نئے منصوبے کی تعمیر کی نگرانی کررہا تھا۔
ہمیں مینٹننس کے ماہانہ پیسے ادا کرنے پڑتے تھے۔۔۔ شاید جتنے دیگر عمارتوں کے رہائشی ادا کرتے تھے، ان سے کہیں زیادہ۔ ان پیسوں کا کوئی حساب کتاب نہ رکھا جاتا تھا اور نہ دکھایا جاتا تھا۔میرے اصرار پر سوپر وائزر مجھے آمدن اور اخراجات کی ایک رف شیٹ ہر مہینے دکھا دیا کرتا تھا۔سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہوتی تھی کہ یہ حساب کتاب ہمیشہ خسارے پر مبنی ہوتا، سینکڑوں، ہزاروں روپوں کا خسارا دکھایا گیا ہوتا جو مسلسل بڑھتا جا رہا ہوتا۔ مجھے بتایا جاتا کہ خسارے کی اس رقم میں سے زیادہ تر پانی کے بل ہوتے تھے۔
گزرتے ہوئے سالوں کے ساتھ ساتھ، فراہم کی جانے والی سروسز کا معیار گرتا گیا۔ گارڈوں کی حالت ابتر نظر آنے لگی کیونکہ کبھی انہیں نئے یونیفارم نہیں لے کر دئیے گئے تھے۔ سکیورٹی کا نظام تباہ ہوتا گیا اور اجنبی بلا روک ٹوک عمارت میں داخل ہونے لگے۔لفٹوں نے بھی اس طرح کام کرنا چھوڑ دیا جس طرح وہ پہلے کبھی کیا کرتی تھیں۔ایک توپکی پکی خراب ہو گئی مگر اس کی دیکھ بھال کے چارجز مستقل طور پر اکاؤنٹس میں نمودار ہوتے رہے۔پانی، اگرچہ کھارا تھالیکن سارادن ایک ٹینکر کے ذریعے فراہم کیا جاتاتھا۔تاہم آخر کا ر ایک وقت آیا کہ جب ٹونٹیا ں مستقل طور پر خشک رہنے لگیں اورجنریٹربھی نہ چلایا جاتا کیونکہ ایندھن کے لئے پیسے نہیں تھے۔مشترکہ جگہوں پر قبضے کئے جانے لگے اور وہ لوگ از خودیعنی تنہا فیصلے کرنے لگے جو اس قدر مضبوط تھے، یا خود کو اس قدر مضبوط سمجھتے تھے کہ وہ دوسروں پر اپنے فیصلے مسلط کر سکیں۔
پھر ایک وقت آیا جب معمار/ٹھیکے دار نے خاموشی سے اپنا فلیٹ فروخت کر دیا اور کسی کو بتائے بغیر سوپر وائزر کے ساتھ دو فلیٹوں میں منتقل ہو گیا۔انتظامیہ کے تباہ ہونے سے قبل، ہم میں سے چند ایک نے رہائشیوں کو جھنجھوڑا اور چند اصلاحی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ یہ آسان نہیں تھا۔و ہ لوگ جنہوں نے اپنے فلیٹوں کے اندرونی حصوں پرلاکھوں روپے لگائے تھے، عام جگہوں کو نظر اندازکرنے کے عادی ہو گئے تھے۔ انہیں ان جگہوں کے مالک ہونے کا احساس تک نہیں تھا، جو سب کی مشترکہ ملکیت تھیں۔لہٰذا ان کی ذمہ داری لینے پر کوئی بھی رازی نہ ہو رہا تھا۔
لیکن ہم میں سے چند ایک ڈٹے رہے اور لوگوں کی ایک قابل لحاظ جماعت کو اس بات پر متفق کر لیا کہ طے شدہ داخلی قوانین کی مدد سے کوئی پکا بندوبست کریں۔امید موجود تھی۔ بجٹ کو متوازن کرنے کے لئے بے ایمانی کا خاتمہ کرنا ضروری تھا۔ہم نے اس چوکیدار کو معزول کر دیا جس پر ہمیں شک تھا کہ وہ واٹر مافیا کے ساتھ ملا ہوا تھا۔اس کے بارے میں معروف تھا کہ وہ سیکریٹری کے پسندیدہ لوگوں کی فہرست میں شامل تھا۔وہ آخری تنکا ثابت ہوا۔ تصادم شروع ہو گیا اور اصلاات پسپا ہو گئیں کیونکہ ان کو کوئی تحفظ حاصل نہ تھا۔ ایک روز جب میں نے اس بلڈنگ کو خیر باد کہا تو وہ دوبارہ اسی مقام پر پہنچ چکی تھی ، جہاں سے ہم نے اصلاحات شروع کی تھیں۔اب میں سنتی ہوں کہ معاملات پہلے سے بھی بدتر ہو چکے ہیں۔لیکن ہر طرف ایک ’’بہرا‘‘ کر دینے والی خاموشی کا راج ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *