صدیوں کا سفر

Afshan Huma

میں نے گزشتہ ایک ہفتہ اپنی دوستوں کے ہمراہ یورپ میں گزارا ۔ مجھے سفر کرنا اور نئی جگہیں دیکھنا اچھا لگتا ہے۔، اس بار یہ سفر کرنے کی وجہ پاکستان سے کچھ دن کے لئے باہر رہنے کی اشد ضرورت تھی۔ اس ضرورت کی وجوہات میں سڑکوں، دفاتر اور گلی کوچوں میں لوگوں کا ناروا رویہ، اور گندگی سر فہرست ہے۔ چند سال پاکستان سے باہر گزارنے کے بعد مجھے شدت سے یہ رویے پریشان کرتے ہیں۔  میں پاکستان میں پیدا ہوئی اور میں نے پاکستان کو دل و جان سے چاہا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ میں جہاں بھی جائوں یہی سوچ کر جاتی ہوں کہ مجھے واپس پاکستان ہی آنا ہے۔ ابھی تک مجھے کوئی اس بات پر آما دہ نہیں کر پایا کہ میں کسی اور ملک میں جا بسوں۔ میرے خاندان کے بیشتر افراد بیرون ملک سکونت اختیار کر چکے ہیں اور جب بھی ان سے ملاقات ہوتی ہے وہ یہی مشورہ دیتے ہیں کہ مجھے بھی جلد از جلد یہ ملک چھوڑ دینا چاہئیے۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے میں چند سالوں میں یہ فیصلہ کر ہی ڈالوں گی۔ اس کی وجہ ما سوا اس کے کوئی اور نہیں کہ انسان بہتر زندگی کی تلاش میں رہتا ہے اور مجھے اپنی زندگی آنے والے سالوں میں پاکستان میں کسی صورت بہتر نظر نہیں آتی۔ کیونکہ میں ایک مڈل کلاس، پڑھی لکھی، خود مختار،غیر شادی شدہ عورت ہوں۔

 علی الصبح میں جب پاکستان پہنچی تو میرے دل سے پاکستان کے لئے خصوصی دعائیں نکل رہی تھی۔ میں دیکھنا چاہتی تھی کہ اسلام آباد ائر پورٹ پر جشن آزادی کے لئے کیسے انتظامات ہوں گے۔ پہنچتے ہی شدید مایوسی ہوئی کیونکہ دارلحکومت کے ائر پورٹ پر تو لگتا ہی نہیں تھا کہ آج یوم آزادی ہے۔ میری دوست نے بڑی حسرت سے کہا کسی بھی غیر ملکی صدر کی آمد پر ہم سارے راستے سجا دیتے ہیں تو آج کیوں نہیں سجایا؟ ہم میں سے کسی کے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا۔ ہم تقریبا" تین بجے کے قریب ائر پورٹ سے نکلے۔ میری دوست نے  ڈرائیور سے کہا کہ کسی ایسے راستے سے لے جانا جہاں چراغاں ہو۔ ڈرائیور نے صاف منع کر دیا اور کہا باجی ان راستوں پر بہت رش ہے گاڑی چلانا محال ہے۔ میں نے بھی تائید کی اور کہا رات کے اس پہر ہائی وے ہی لینا تا کہ ہم سیدھے گھر پہنچ جائیں۔ راستے میں ہم نے ہائی وے پر پر جوش نو جوانوں کو جشن آزادی مناتے ہوئے دیکھا۔ خدا جانے کس طرح ان کے دماغوں سے اس سوچ کو نکالنا ہو گا کہ موٹر بائیک کا سائلینسر اتارنا اور بے ہنگم ڈرائیونگ یا وہیلنگ کسی طور بھی جشن منانے کے طریق نہیں ہیں۔

آج ہم نے شام کو چراغاں دیکھنے کا پروگرام بنایا ہے لیکن ہم یہ کام کسی مرد کے ساتھ ہی کر سکتے ہیں۔ ہم تین خواتین گزشتہ ایک ہفتہ یورپ میں اکیلے گھوم رہے تھے۔ ہم نے پراگ، ویانا، وینس، میلان، زیورخ اور پیرس میں ایک ایک دن  گزارا ؛ ہم نے مزے سے ٹرین کے سفر کیے، پیدل پھرتے رہے، ہوٹلوں میں ٹھہرے اور ایک بار بھی ہمیں یہ پریشانی نہیں ہوئی کہ ہم خواتین ہیں اور یہاں وہاں نہیں جا سکتی۔ آج میں نے مارکیٹ میں پاکستان کے جھنڈے لیے نو جوان لڑکوں کو جس طرح اپنی طرف دیکھتے دیکھا تو مجھے لگا کہ کل رات میں نے کئی صدیوں کا سفر کر ڈالا ہے مگر آگے کی طرف نہیں پیچھے کی طرف۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *