’اتحاد، یقین محکم اور تنظیم‘!

پاکستان نح سیریز دو دو سے برابر کر دی

اگر قائداعظم محمد علی جناح بابائے قوم ہیں تو ہمیں اپنے’والد صاحب‘ کے بارے میں زیادہ اچھی طرح سے جاننے کو نہیں ملا۔

ان کا انتقال اس قوم کے وجود میں آتے ساتھ ہی ہو گیا اور اگرچہ ان کی تصاویر کئی مقامات پر نظر آتی ہیں لیکن جو ہم دیکھتے اور سنتے ہیں تو اس میں ان کی سوچ کے بارے میں کم ہی جاننے کو ملتا ہے۔

٭اوول ٹیسٹ پاکستان کے نام

٭یونس کی محنت کام آ گئی

٭ ’پاکستان آخر پاکستان ہی ہے‘

جناح کا تصور اور خاص کر 11 اگست کی تقریر، ایک ایسے ملک میں سننے کے لیے تگ و دوکرنا پڑتی ہے جسے انھوں نے بنایا تھا۔

ان کے بارے میں جو سب سے زیادہ یاد رکھا جاتا ہے وہ ان کے رہنما فرمان ہیں جو ملک کے کئی امتیازی مقامات اور علامتوں پر کنندہ ہیں۔

اتحاد، یقین محکم اور تنظیم

اوول میں پاکستان نے انگلینڈ کو دس وکٹوں سے شکست دی

یہ ایک پیغام ہے جس کو پاکستان کے سب سے مقبول ادارے نے بڑی پھرتی سے اپنایا اور یہ کہ اکثر لگا کہ ستم ظریفی نے قوم کی پیدائشی تنوع کو یک نکاتی شناختوں تک محدود کر دیا ہے۔لیکن اب بھی کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جس میں ان جملوں میں دانائی نظر آتی ہے۔

پاکستان کے برطانیہ سے 69ویں یوم آزادی کے موقعے پر، پاکستانی کرکٹ ٹیم نے لندن کے اوول گراؤنڈ میں انگلینڈ کو شکست دے کر نہ صرف چار میچوں کی سیریز برابر کر دی بلکہ چھ برس قبل کے ڈراؤنےخواب سے چھٹکارا حاصل کر لیا۔

اتحاد

پاکستانی ٹیم ایک یونٹ کی طرح نظر آئی

اتحاد کبھی بھی پاکستانی ٹیم کی خاصیت نہیں رہا یا پاکستانی کرکٹ بے شمار خفیہ منصوبہ بندیوں اور سازشوں کا گھر رہی ہے۔

سال 2010 میں اس نے پورا ایک برس اپنی بچ شدید اور کرکٹ بورڈ کے ساتھ شدید لڑائی میں گزارا اور دورے کا اختتام اس انجام پر ہوا کہ اس کے تین کھلاڑی گرفتار ہو چکے تھے۔

2010 سے مصابح الحق کی قیادت میں ٹیسٹ ٹیم وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ باصلاحیت، طاقتور ہوتی گئی اور بجا طور پر اتحاد کی بنیاد پر ایسا ہوا۔

بڑی ناموں اور انا پرستی کے بغیر مسقتل مزاج رہی اور بتدریج آگے بڑھتی رہی جس میں نئے کھلاڑی مخصوص مزاج میں شامل ہوتے گئے۔

سیریز میں دو ایک کے خسارے کے ساتھ واپس آنا غیر معمولی چیز ہے لیکن یہ سب اسی ٹیم نے کیا جو اس دہائی میں ایک ساتھ جمع ہوئے۔ حالیہ یادداشت میں اس سے پہلے کبھی منظم ٹیم نظر نہیں آئی۔

یقین محکم

پاکستان کی ایک عرصے بعد بہترین کارکردگی رہی ہے

انگلینڈ کی اننگز میں ایک وقت میں عظیم مائیکل ہولڈنگ نے کمنٹری باکس میں بیٹھ کر کہا تھا کہ کسی کو مصباح کو بتانے کی ضرورت ہے کہ سکور موثر طور پر’ چھ پر منفی پانچ‘ ہے۔ ہولڈنگ انگلینڈ کی ٹیم کے خلاف منفی حکمت عملی کے بارے میں شکوہ کر رہے تھے۔

اس کے ساتھ تقریباً اگلی گیند پر، اس سے اگلی گیند پر دو وکٹیں گر گئیں اور اس نے میچ کو ختم کر دیا۔ پاکستان کی موجودہ ٹیم وہ ہے جو صبر کے ساتھ شکار کرتی ہے اور اس حریف ٹیم میں اگر کوئی کمزوری ہے تو اس پر نظر رکھتی ہے۔

وہ بظاہر دفاعی فیلڈنگ کھڑی کرتے ہیں تاکہ چوکوں، چھکوں کو روکا جا سکے اور چنانچہ اسی وجہ سے حریف ٹیم کے بلے باز غلطیاں کر جاتے ہیں۔

اور یہ کرکٹ کی روایتی عقلمندی کے خلاف جاتا ہے اور یہ اگر اس میں معاملات الٹ ہو جائیں جیسا کہ گذشتہ میچ میں ہوا تو اس میں بے حد یقین کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اس میچ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک یا دو میچوں میں ناکامی یقین ڈگمگانے کا سبب نہیں بن سکتی ہے۔

تنظیم

انگلینڈ اپنے ہوم گراؤنڈ میں ایک مضبوط ٹیم تصور کی جاتی ہے

یہ سیریز پاکستان کے مادی نظم و ضبط کے جشن کا سبب بن گئی ہے جس کے دوران کھلاڑیوں نے ڈنڈ لگائے، ابتدا میں یہ پاکستانی فوج کے ٹرینرز کو خراج تحسین پیش کیا اور آخر میں یہ فتح کا جشن منانے کا انداز بن گیا۔

لیکن قطعی طور پر پاکستان نے جو حکمت عملی اور سٹائل اپنایا وہ ان کے کرکٹ میں نظم و ضبط کی عکاسی ہے۔

بیٹنگ بار ہا توقعات پر پورا نہیں اتر سکی جبکہ ایک بالکل ناتجربہ کار بولنگ کو اٹیک کو اندازہ ہوا کہ گھوڑا کی بجائے کچھوا بننا بہتر ہے۔

کرکٹ کی دنیا میں کچھ ٹیمیں ہی اپنے میدانوں میں اتنی مضبوط ہوں گی جتنا کہ انگلینڈ ہے اور کچھ ٹیمیں ان کا مہمان بنی اور بری طرح سے شکست کھائی۔

2010 میں پاکستانی پرچم سکینڈل سے سر نگوں ہوا لیکن چھ برس بعد ملک بھر میں لہرایا اور اس کے ساتھ دنیائے کرکٹ کی چوٹی پر۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *