دہشت گر دی کے بیا نیے میں کمانڈ کو تبدیل کر نا ہو گا

asghar khan askari

قیام پا کستان کے بعدسے بلو چستان میں فوجی آپریشن کا آغاز کیا گیا ۔جمہوری دور ہو یا فوجی امر کا ہر کسی کے دور حکومت میں یہ فوجی کارروائیاں جاری رہی ہیں،جو اب تک جاری ہے جبکہ ان فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں کبھی بھی بلوچستان میں امن قا ئم نہیں ہو ا ۔اسی طر ح کر اچی میں بھی امن کے قیام کے لئے گز شتہ 25 سالوں سے رینجر ز مو جو د ہے، لیکن وہاں بھی انسانوں کی آنکھیں امن دیکھنے کے لئے تر س رہی ہیں۔سوات میں جب مو لا فضل اللہ نے طا قت حا صل کی، تو اس کو بھی قوت کے زریعے ختم کر نے کے لئے فوجی آپر یشن کا سہارا لیا گیا۔فوج اب بھی سوات میں مو جود ہے۔ بظاہر لگ رہا ہے کہ امن قائم ہوا ہے ،لیکن پھر بھی دہشت گر د جب چا ہتے ہیں سیکورٹی اہلکار یا کسی اہم رہنما کو نشا نہ بنا سکتے ہیں جو امن کی نشا نی نہیں ہے ۔قبائلی علا قوں میں جب کا لعدم تحریک طالبان کی کا رروائیاں بڑھ گئی تو وہاں بھی بے شمار فوجی کارروئیاں کی گئی جو اب تک جاری ہیں جبکہ یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ کارروئیاں کب تک جاری رہیں گی۔اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے،کہ آخر کیا وجو ہات ہیں کہ فوج پا کستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد علیحد گی پسندوں، دہشت گر دوں اور بیرونی ملکوں کے ایجنٹوں کے خلاف بر سر پیکار ہے پھر بھی اندرونی دہشت گر دی کے خلاف جاری اس جنگ میں کا میابی حا صل نہیں ہو رہی ہے؟آئیے اس سوال کا جواب تلا ش کر تے ہیں کہ ایسا کیوں ہے؟یہ بات تو پوری طرح واضح ہے کہ ملک کی اندرونی سیکورٹی کی ذمہ دار پو لیس کا محکمہ ہو تا ہے۔اس میں بھی کو ئی شک نہیں کہ ملک کی سرحدوں کی حفا ظت فوج کی ذمہ داری ہے۔فوج سے مراد یہ ہے کہ ہو ائی سرحدوں کی نگرانی فضا ئیہ کر یگی۔ سمندری حدود کی حفا ظت بحریہ کی ذمہ دار ی ہو گی۔ زمینی سر حدوں کی حفا ظت کے لئے بری فوج ہو تی ہے۔دنیا میں کسی بھی ملک کی حفا ظت کا یہ وہ آئیڈیل نظام ہے کہ جس کے نٖفاذ سے کسی بھی ملک میں اندرونی بد امنی کا کا میا بی کے ساتھ مقا بلہ کیا جا سکتا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ پا کستان گز شتہ6 عشروں سے دہشت گر دوں کے خلاف لڑ رہا ہے لیکن پھر بھی مطلو بہ نتا ئج حا صل نہیں ہو رہے ہیں۔اس سوال کا جواب ایک ہی ہے کہ پا کستان میں پو لیس کے نظام کو مضبو ط نہیں ہو نے دیا گیا۔ضلعی انتظامیہ کو ہمیشہ سے مفلوج رکھنے کی کو شش کی گئی۔یہی وہ دو بنیادی وجو ہا ت ہیں کہ جس کی وجہ سے ملک میں امن کا قیام ممکن نہیں ہو رہا ۔آپ بلو چستان کی مثال لے لیں۔فوج وہاں قیام پا کستان کے بعد کسی نہ کسی صورت میں مو جود ہے۔پھر بھی حا لات قا بو میں نہیں آرہے ہیں۔وجہ صاف ظاہر ہے کہ اندرونی دشمن کو زیر کر نے کے لئے ان کو پہچا ننا ضروری ہے۔فوج کے اہلکاروں کا چونکہ عوام کے ساتھ براہ راست رابطہ بہت کم ہو تا ہے۔ اس لئے ان کے لئے اندرونی دشمن کو پہچا ننا مشکل ہو تا ہے۔ اس کے بر عکس پو لیس کاکام عوام ہی میں رہنا ہو تا ہے، چوکی کے ایس ایچ او(SHO )اور دیگر پو لیس اہلکاروں کو اپنے تھا نے کی حدود میں بسنے والے زیادہ تر گرو ہوں کے بارے میں معلوما ت ہو تی ہیں۔پو لیس اہلکارچونکہ دکا نوں، کھیل کے میدانوں ، معززین علا قہ کے ڈیروں اور عوامی مقا مات میں آزادی سے جا تے ہیں اس لئے ان کے پا س اپنے علا قے کے بارے میں معلومات زیادہ ہو تی ہیں۔فوجی اہلکاروں کا ان مقا مات میں جانا پو لیس کے مقا بلے میں کم ہو تا ہے اس لئے ان کے ساتھ کسی بھی علا قے کے بارے میں پو لیس کی طر ح معلو مات نہیں ہو تی۔کر ا چی کی صورت حال بھی یہی ہے۔رینجرز مو جو د ہیں۔ پھر بھی ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری میں کمی نہیں ہو رہی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ رینجرز کی جا سوسی کا نظام اسی طر ح مر بوط نہیں ہے جس طر ح پو لیس کا ہو تا ہے۔سوات میں بھی یہی صورت حال ہے کہ جس بندے کو پکڑنے کے لئے ایک پو لیس اہلکار کا فی تھا، اس کی گر فتاری کے لئے ریاست کی فوج کو بے دردی سے استعمال کیا گیا۔فضل اللہ سوات میں طاقت ور کیسے ہوا؟ اس لئے کہ پو لیس اور ضلعی انتظامیہ کو ان کے سامنے بے بس کیا گیا تھا۔اگر پو لیس اور ضلعی انتظامیہ کو صو بائی اور مر کزی حکومت طا قت ور بنا دیتی تو سوات میں نہ مو لا فضل اللہ کو عروج ملتا اور نہ ہی فو جی آپریشن کی نو بت پیش آتی۔بلو چستان، کر اچی ،سوات اورقبا ئلی علا قوں میں فوجی کارروائیوں کی وجہ سے وہا ں کے لوگوں کے ذہنو ں میں فوج کے خلاف شکو ک و شبہات بھی پیدا ہو ئے،جو اب بھی مو جود ہے۔اس کے بر عکس پنجاب جہاں پر فوجی کا رروائیاں نہیں کی گئی ہیں۔ وہاں فوج کے بارے میں لو گوں کی رائے ان علا قوں کے لو گوں سے با لکل مختلف ہے جہا ں فو ج نے کا رروائیاں کی ہیں۔اب اگر ریا ست چا ہتی ہے کہ ملک سے دہشت گر دی کا خا تمہ ہو۔ فوج پر عوام کا اعتماد بحال ہو،تو ان کو چا ہئے کہ دہشت گر دی کے خلاف جار ی اس جنگ کے بیانیے میں کما نڈ کو تبدیل کر یں۔کما نڈ کی تبد یلی سے مراد یہ ہے کہ اندرونی دہشت گر دی اور دہشت گر دوں کو قا بو کر نے کے لئے پو لیس اور ضلعی انتظامیہ کے نظام کو تر قی یا فتہ ملکوں کی طر ح فعال کر یں۔جب ہم پو لیس کی بات کر تے ہیں۔ تو کہا جا تا ہے کہ یہ محکمہ کر پٹ ہے۔پو لیس کے محکمے میں یہ صلا حیت ہی مو جو د نہیں کہ وہ دہشت گر دوں کا مقا بلہ کر یں اس لئے کہ ان کے پا س وسا ئل نہیں ہیں۔میر ے خیال میں یہ سب مفروضے ہیں،جبکہ پو لیس اور ضلعی انتظا میہ کے خلاف ایک گہر ی سا زش بھی۔اس کا آسان حل مو جو د ہے۔وفاقی حکومت کو چا ہئے کہ وہ خیبر پختون خوا اور بلو چستان میں ہنگا می بنیا دوں پر پو لیس میں اصلا حات کر یں۔با لکل اسی طر ح جس طر ح لندن اور نیو یا رک کی پو لیس ہے۔میرے خیا ل میں اگراندرونی دہشت گردی کے خلاف جاری اس جنگ کی کما نڈفوج سے لے کر پو لیس کے حوالے نہیں کیا گیاتو ہمارے گلی اور محلو ں میں چھپے ہو ئے دہشت گردوں کو آسانی کے ساتھ شکست دینا ممکن دکھا ئی نہیں دے رہا ہے ،اس لئے کہ گلی اور محلوں میں چھپے ہو ئے دہشت گر دوں کوڈھونڈ کر نکا لنا پو لیس اچھی طر ح جا نتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *