کلدیپ نئیرکا خواب

rakhshanda Jalil

6دہائیوں پر مشتمل اپنے صحافت کے کیریر میں کلدیپ نئیر نے بہت سے ایونٹ کور کیے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر کی بہت سی اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں، ان کے انٹرویوز لیے اور ان کے بارے میں تحاریر لکھیں۔ جن رہنماؤں کے متعلق انہوں نے سب سے زیادہ معلومات فراہم کیں ان میں اندرا گاندھی، لال بہادر شاستری، جے پرکاش نارائن، مجیب الرحمٰن، ضیا الحق، ذوالفقار علی بھٹو، اور عبد القدیر خان شامل ہیں۔ مکمل فہرست کا احاطہ ناممکن ہے۔جب وہ صحافت کے میدان میں نئے تھے اور دہلی کے ایک اردو اخبار "انجام " میں گاندھی کی ۱۹۴۸ میں ہونے والی قتل کی واردات پر لکھنے کا کہا گیا۔ اس واقعہ کی افسوس ناک صورتحال نے کلدیپ نئیر کی نفسیات پر گہرا اثر ڈالا۔ صرف تین ماہ ایک صحافی کی حیثیت سے کام کر کے انہوں نے تاریخ کو مکمل کھول کر دیکھ لیا تھا۔ انہوں نے خود اعتراف کیا کہ وہ بے شرمی سے رونے لگے۔ انہیں اب بھی گاندھی کے الفاظ یاد ہیں جو گاندھی نے ایک پبلک پریئر سروس میں اپنی موت سے کچھ دن پہلے کہے تھے: تب کلدیپ نئیر اس تقریب میں موجود تھے۔ گاندھی نے کہا تھا: ہندو اور مسلمان میری دو آنکھوں کی طرح ہیں۔ ایک کتاب 'دو شہروں کی کہانی' جو کلدیپ نے پاکستانی صحافی آصف نورانی کے تعاون سے تحریر کی تھی میں نائر نے تقسیم ہند کے بارے میں پوری وضاحت اور تفصیل سے لکھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کیسے تقسیم کی بدولت لاکھوں زندگیاں بدل گئیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ ضروری تھی؟ کیا یہ خون بہانے کا عمل بھارت کو تقسیم کیے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا تھا؟ جناح اور نہرو کو اس تقسیم کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کلدیپ نئیر نے لکھا کہ تقسیم ہند لازمی نہیں تھی۔ کیبنٹ مشن نے تمام مسائل کے حل کا وعدہ کیا تھا لیکن حالات کچھ ایسے ہو گئے کہ نہرو اور جناح اپنی ضد پر اڑے رہے اور تقسیم ایک لازمی امر بن گئی۔ انہوں نے لکھا کہ ایک دن پورا جنوبی ایشیا ایک ہی ریاست کہلائے گا۔ ایک ہی ویزا اور ایک ہی کرنسی ہو گی۔ ہر آدمی کو سوچنے کام کرنے اور سفر کرنے کی آزادی ہو گی۔

زخم، خون اور تباہی دیکھنے کے باوجود انہوں نے دوسرا طریقہ کیوں اختیار نہیں کیا؟ بہت سے لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ رائٹ ونگ آرگنائزیشن جو بارڈر کی دونوں اطراف میں موجود تھیں ایسا ہی کیا۔ نئیر نے بتایا کہ انہوں نے یہ سارا صدمہ بھرا دور دیکھا اس لیے ان کے دماغ میں پلورلزم کا خیال پکا ہو گیا۔ انہوں نے سیکھا کہ ایک انسان کو اس کے سوچ اور کمٹمنٹ سے جج کیا جاتا ہے نہ کہ اس کے مذہب سے۔

نئیر کو اردو زبان سے بہت پیار تھا۔ وہ اپنی جوانی میں شاعری لکھا کرتے تھے۔ حسرت موہانی نے انہیں بتایا کہ شاعری پر وقت ضائع نہ کرو کیونکہ تمہارے اشعار کا کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود اردو ، نئیر کا پہلا پیار تھا۔ اور نئیر اردو کے ایک چمپئین تھے۔ بھارت میں اردو کو نظر انداز کیے جانے کے بارے میں وہ کیا کہتے ہیں؟ جب بھی اردو کا کوئی پروگرام ہوتا ہے تو سامعین کی تعداد اتنی کم کیوں ہوتی ہے اور صرف گرے بالوں والے لوگ ہی اردو کو کیوں پسند کرتے ہیں؟ بھارتی مسلمانوں کی شکایت کے اردو کو بے حسی نے بھارت سے ختم کیا ہے کے بارے میں نئیر کیا سوچتے ہیں؟ اردو کو تقسیم ہند کا سب سے بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے نئیر تمام سیاسی پارٹیوں کو خصوصا کانگریس کو اردو کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ اپنے خاص انداز میں نئیر لکھتے ہیں: بی جے پی کی طرف سے اردو کو نظر انداز کرنے کی وجہ سمجھ آتی ہے لیکن کانگریس اردو کے ساتھ ایسا رویہ کیسے اپنا سکتی ہے؟ 1992 میں کلدیپ نئیر نے 14 اور 15 اگست کی رات انڈیا اور پاکستان کے بارڈر پر کینڈل لائٹ نگرانی کا کام شروع کیا۔ جب وہ موم بتی لیکر کر نکلے تو بہت سے لوگ ان کے ساتھ ہو لیے اور اٹاری سٹیشن کی طرف مارچ کرنے لگے۔ دوسری طرف سے بھی کارکنان، مصنفین، شعرا اور دوسرے لوگوں کا ایک بڑا ہجوم نکل پڑا۔ بہت سے سیاستدان اس کاوش کا مذاق اڑاتے ہوئے دکھائی دیے ہیں کیونکہ یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا جب پاک بھارت تعلقات بہت ٹھنڈے پڑ چکے تھے۔ لیکن یہ کوئی نہیں سوچتا کہ 88 سالہ شخص کو اتنا بڑا قدم اٹھانے پر کس چیز نےمجبور کیا ہے کہ وہ پہلے ریل گاڑی پر دہلی پہنچیں، پھر کار پر امرتسر جائیں اور وہاں سے پیدل سفر شروع کریں وہ بھی آدھی رات کے وقت۔ وہ بھی پاکستان ہندوستان دوستی زندہ باد کے نعرہ کے ساتھ؟ وہ کہتے تھے کہ میں ایک آپٹمسٹ نہیں ہوں۔ ایک دن آئے گا جب پورا جنوبی ایشیا ایک ملک کہلائے گا۔ ایک کرنسی اور ایک ویزا ہوگا۔ ہر شخص کو سوچنے کرنے اور سفر کرنے کی آزادی ہو گی۔ ہم اپنی گفتگو ان کے فیض احمد فیض کے شعر کے حوالہ سے ختم کریں گے۔

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے۔

یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی کوئی بات نہیں

یہی نہ ختم ہونے والا عقیدہ ہی نائر کی خصوصی پہچان ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *