بھارت سے غداری، ایمنسٹی انٹرنیشنل کے خلاف مقدمہ درج

انڈیا میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اس کے سیمینار میں مبینہ طور پر انڈیا مخالف نعرے لگانے والوں کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ سیمینار کرناٹک کی ریاست بنگلور میں ہوا تھا اور پولیس نے بی جے پی کے نظریات کی حامل طلبہ تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے کارکنوں کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی۔ شکایت میں’بروکن فیملیز‘ کے عنوان کے تحت منعقدہ سیمینار میں منتظمین اور شرکت کرنے والوں پر غداری کے نعرے لگانے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

بنگلور پولیس کے ایڈیشنل کمشنر (قانون اور نظام) چرن ریڈی کے مطابق ’شکایت کی بنیاد پر تعزیرات ہند کی دفعہ 124 اور 154 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ہم نے منتظمین یا اس میں شامل افراد میں سے کسی شخص کو نامزد نہیں کیا، لیکن تفتیش مکمل کرنے کے بعد یہ کارروائی ہوگی۔‘

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اکبر پٹیل نے کہا: ’اب آئین اور اس کے اقدار کی حفاظت کرنے والے پروگراموں کو بھی انڈیا مخالف اور مجرمانہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پولیس بھی وہاں مدعو تھی۔ ہمارے خلاف شکایت درج کرنا اور غداری کا مقدمہ درج کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان میں بنیادی حقوق اور آزادی میں یقین کی کمی ہے۔‘ ہفتےکو بنگلور میں منعقدہ ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے ایک پروگرام میں کئی کشمیری خاندانوں کو بلایا گیا تھا۔ تنازع اس وقت طول پکڑنے لگا جب اس پروگرام میں شریک کشمیری خاندانوں نے کشمیر میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی بات کی اور الزام لگایا کہ بھارتی فوج وہاں کے لوگوں کو تنگ کرتی ہے۔ جبکہ بحث کے دوران پروگرام میں موجود کشمیری پنڈتوں کی ایک تنظیم نے فوج کی حمایت کی۔

حالات اس وقت زیادہ کشیدہ ہو گئے جب مبینہ طور پر ہندوستان کے خلاف اور کشمیر کی آزادی کے نعرے لگنے لگے۔ اسی وقت وہاں موجود دوسری تنظیموں نے ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے بلند کیے۔ تشدد اور ماحول بگڑنے کے خوف سے پولیس نے بر وقت پروگرام بند کروا دیا۔ دوسری طرف ریاست کرناٹک میں بی جے پی صدر بی ایس یدورپّا نے ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے نام اپنے ایک خط میں لکھا: ’پروگرام میں ’بھارتی فوج مردہ باد،‘ ’بھارتی فوج واپس جاؤ،‘ ’لیں گے، لیں گے بھارت سے آزادی لیں گے‘ جیسے نعرے لگے ایسے ملک مخالف پروگرام کے منتظمین کے خلاف ایکشن لیا جانا چاہیے۔‘یدیورپّا نے مزید کہا: ’یہاں بالکل ویسا ہوا جیسا جے این یو میں ہوا تھا۔‘ خیال رہے کہ رواں سال کے اوائل میں کشمیر رہنما افضل گورو کی پھانسی کی برسی پر دارالحکومت دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ایک پروگرام میں مبینہ انڈیا مخالف نعروں کے بعد کئی طلبہ کو حراست میں لیا گیا تھا اور یہ معاملہ عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا تھا :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *