پاکستان: کیا پاگلوں کا ملک ہے؟

اشرف قریشیAshraf q

مجھے سخت حیرت ہوتی ہے کہ پاکستان میں جو شخص کوئی منفی بات کرنا جانتا ہو، میڈیا اسے سر پر اٹھا لیتا ہے، اس کی واہی تباہی کے لئے کوئی رپورٹر، کوئی اینکر پرسن، کوئی دانشور، کوئی تجزیہ کار یہ تک نہیں پوچھتا کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے وہ کتنا صحیح اور کتنا غلط ہے؟ مثلاً عمران خان نے کہا ہے کہ مذاکرات کا وقت گزر گیا ہے،اب وزیراعظم استعفا دیں اور نئے انتخابات کرا دیں“۔ اول تو پوچھنے کی بات یہ ہے کہ عمران خان کے کہنے پر وزیراعظم کیوں استعفا دیں۔ کل کلاں اگر عمران خان وزیراعظم بن گئے اور کوئی اور سر پھرا یہ مطالبہ عمران خان سے کرے، تو کیا وہ تسلیم کر لیں گے؟ وزیراعظم کے استعفے کے لئے کوئی طریق کار، کوئی آئین، کوئی قانون بھی ہے یا بس کسی نے کہہ دیا اور وزیراعظم مستعفی ہو گئے، پھر وزیراعظم سے نئے انتخابات کرانے کے لئے بھی کہا جا رہا ہے۔ اگر یہ کہا جاتا کہ ”وزیراعظم مستعفی ہو جائیں یا نئے انتخابات کرا دیں“۔ تو نامعقول بات ہونے کے باوجود بہرحال سمجھ میں آنے والی بات تو تھی، لیکن وزیراعظم مستعفی ہو کر کس طرح انتخابات کرائیں اور مذاکرات کا وقت ختم ہو چکا ہے، تو انتخابات کرانے کے لئے نگران حکومت کا تقرر کیسے ہو؟

اگر عمران خان کو پیپلزپارٹی کے کرائے ہوئے انتخابات سے اس قدر شکایت ہے کہ وہ وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں، تو اب اگر وزیراعظم یا مسلم لیگ (ن) انتخابات کرائے، تو اس کے لئے کیا صورت حال ہو گی؟ یقینا اس کے لئے پہلے سے وضع کردہ طریق کار کے اندر رہتے ہوئے عمران خان کی تسلی کے لئے کچھ بہتری لائی جائے گی، لیکن یہ بہتری کیسے آئے گی، جبکہ مذاکرات کا وقت تو گزر چکا ہے اور اب وزیراعظم کے استعفے کے علاوہ کوئی حسرت باقی نہیں بچی۔ کسی رپورٹر یا اینکر پرسن نے عمران خان سے سوال پوچھا کہ جناب آپ کا خیال بے حد مبارک ہے، لیکن استعفے کا اختیار بہرحال وزیراعظم کے پاس ہے۔ اگر وہ مستعفی نہ ہوں، تو پھر کیا کِیا جائے اور اگر وہ ازراہ مہربانی عمران خان کی بات مانتے ہوئے مستعفی ہو جائیں، تو پھر کیا آپ اسی پارلیمنٹ کے ذریعے نیا وزیراعظم لانے کی بات کر رہے ہیں، جو ساری کی ساری دھاندلی کی پیداوار ہے؟
گویا آپ کو انتخابی دھاندلی اور دھاندلی کی پیداوار پارلیمنٹ پر کوئی اعتراض نہیں، حتیٰ کہ اگر وزیراعظم مستعفی ہو جائیں اور مسلم لیگ (ن) اپنی اکثریت کی بدولت کسی دوسرے کو وزیراعظم منتخب کر لے، خواہ وہ شہباز شریف ہوں، چودھری نثار علی خان ہوں، اسحاق ڈار ہوں یا عابد شیر علی ہوں، آپ کا مسئلہ اور پاکستان کا مسئلہ صرف نواز شریف کے استعفے سے حل ہو جائے گا۔ کسی نے دریافت کیا ہے کہ اگر عمران خان کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں نواز شریف کی شکل پسند نہیں، مسلم لیگ(ن) کا کوئی دوسرا شخص وزیراعظم بن جائے، تو وہ خوش ان کا خدا خوش۔اگر یہ بھی نہیں تو پھر کیا وہ فوج کو آئین شکنی کی دعوت دے رہے ہیں....ایسا لگتا ہے پاکستان پاگلوں کا ملک ہے، جہاں جو کوئی کچھ بھی کہہ دے، نہ کہنے والے کو سوچنے اور روکنے کی ضرورت ہے، نہ سننے اور آگے بڑھانے والوں کو سوچنے اور تولنے کی فرصت ہے۔ حالت یہ ہے کہ نیو یارک میںعمران خان کے چاہنے والے یہ بات کہتے پھر رہے ہیں کہ عمران خان کو فوج نے اشارہ دے دیا ہے۔ مجھے معلوم نہیں یہ عمران خان کے بہی خواہ ہیں یا بد خواہ ہیں، خود عمران خان کو بھی اس کا علم نہیں ہے۔

چلئے عمران خان کو تو رہنے دیجئے کہ وہ بہرحال قومی سیاست کا حصہ ہیں۔ ایک صوبے میں ان کی حکومت بھی ہے۔ یہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کیا ہیں۔ ایسے لوگ درخوراعتنا نہیں ہوتے۔امریکہ میں 30،35 سال سے مَیں ایک شخص کو جانتا ہوں۔ یہ ہر بار صدارتی امیدوار بھی ہوتے ہیں۔ ان کی کئی پیشگوئیاں درست بھی ثابت ہوئی ہیں۔ بُش باپ بیٹوں نے جس طرح پراپرٹی کے بخار کے ذریعے معیشت کا گراف اٹھا رکھا تھا، لاروش ہمیشہ اسے معاشی بلبلہ قرار دیتا تھا۔ یہ بات بعد میں صحیح ثابت ہوئی۔ اس کی تفصیل کی ضرورت نہیں، لیکن آج بھی میڈیا میں لاروش کو کوئی مُنہ نہیں لگاتا۔ موصوف ان دنوں صدر بارک اوباما سے ناراض ہیں کہ وہ روس کے مقابلے میں یوکرائن کی حمایت کیوں کرتے ہیں۔ انہوں نے صدر بارک اوباما کے مواخذے کی مہم چلا رکھی ہے، سڑکوں پر اُن کے لوگ کھڑے ہو کر کتابچے تقسیم کرتے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود کبھی کسی میڈیا حتیٰ کہ اوباما مخالف ”فاکس نیوز“ نے بھی کبھی لاروش کو گھاس نہیں ڈالی۔
قادری صاحب انقلاب لانے کے لئے کینیڈا سے تشریف لاتے ہیں۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ جناب کینیڈا چلے کیوں گئے تو آپ نے جن خطرات کے پیش نظر کینیڈا میں سیاسی پناہ لی تھی، وہ ختم ہو گئے ہیں یا باقی ہیں؟ وہ انقلاب ہے کیا؟ وہ کس طرح آئے گا ۔ رپورٹر اُن سے یہ اصرار تو کرتے ہیں کہ ”انقلاب کی تاریخ دیں“۔ یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ یہ انقلاب خودبخود کیسے برپا ہو جائے گا؟ اگر آپ پارلیمنٹ وغیرہ پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ انقلاب نہیں، بغاوت ہے؟ انقلاب اور بغاوت میں آپ کیا فرق روا رکھتے ہیں؟ اگر آپ کا انقلاب ناکام ہو گیا۔ آپ کے لائے ہوئے انقلابی نااہل ثابت ہوئے اور امور حکومت کو سنبھال نہ سکے تو پھر کیا ہو گا؟ کیا آپ ملک کی سلامتی کی قیمت پر انقلاب لانا چاہتے ہیں؟

ہے کوئی جو اُن سے پوچھے کہ آپ اپنے جن 14مرنے والوں کے قصاص کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن تحقیقاتی کمیشن کے سامنے جانے کو تیار نہیں۔ آپ نے منہاج القرآن کے مرکز سے وقوعہ کی شہادتیں مٹا دی ہیں۔ قصاص کے لئے کوئی ذمہ دار حاکم یا کوئی ادارہ بھی ہونا چاہئے یا آپ فرمان جاری کریں اور جن پر انگلی رکھ دیں، وہ قصاص میں اپنے سر ہتھیلی پر رکھ کر حاضر ہو جائیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب تو قرآن میں آیات ِ قصاص کو مسلمانوں کے لئے تسلیم ہی نہیں کرتے۔ قصاص کا تذکرہ تو سابق اُمتوں کے سلسلے میں ہے، اسلام میں اس کے فرض ہونے کا کہیں حکم نہیں ہے۔ مغرب کو خوش کرنے کے لئے وہ یہ نظریہ بیان کرتے ر ہے ہیں، اب خود انتقام کے جوش میں ”قصاص“ پر بضد ہیں، لیکن کیا یہ نہیں پوچھا جا سکتا کہ قصاص کون طلب کر سکتا ہے۔ قصاص کے دعوے کا حق دار کون ہو سکتا ہے اور دعوے کے ثبوت کے بغیر، جس شخص کا چاہے نام لے لو، اس سے قصاص لیا جا سکتا ہے؟ یہ قصاص ہے یا اندھیر ہے، اگر اس اصول کے تحت راولپنڈی میں ڈاکٹر طاہر القادری کے انقلابی لشکر کے کیلوں والے ڈنڈوں سے لیس بہادروں کے ہاتھوں، ہاتھ پاﺅں تڑوانے والے پولیس کے اہلکار ان صاحب کی ذات سے قصاص لینے کا مطالبہ کرنے لگیں، تو قادری صاحب کے انقلابی جسم و جاں کا ایک پرزہ بھی سلامت نہ رہے۔
لیکن یہ سب پوچھے گا کون؟ اخبارات تو پھر بھی اپنے اداریوں میں کبھی نہ کبھی یہ سوالات اٹھائیں گے، لیکن الیکٹرانک میڈیا میں تو خبر اڑانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ اینکر پرسن جب تک اپنے نمائندے سے یہ نہ کہلوا لے کہ ”مرنے والے کے لواحقین پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے اور وہ اپنے مرنے والے کے لئے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں“۔ اینکر بے چارے کی تشفی نہیںہوتی۔ ہم نے خبر بننے کے ایک ہی سنہری اصول کو حرز جاں بنا لیا ہے کہ انسان کتے کو کاٹے تب خبر بنتی ہے اور ہمارا میڈیا شب و روز انسانوں سے کتوں کو کٹوا رہا ہے۔ شیخ سعدی نے کہا تھا کہ اگر کتا مجھے کاٹ لے تو میرا یہ منصب نہیں کہ مَیں بھی کتے کو کاٹوں۔ ظاہر ہے کتے کو کاٹنے کے لئے انسانیت کے مرتبے سے گرنا پڑے گا۔ کتے کے پاﺅں پر جھکے بغیر کتے کو کاٹا نہیں جا سکتا۔ ہمارے میڈیا نے سارے پاکستان کو کتے کے پاﺅں پر جھکا دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان پاگلوں کا ملک ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *