پراعتماد عمران خان

بدھ کے روز چھپا کالم پڑھنے کے بعد میرے چند دوستوں نے فون پر رابطہ کیا۔حالیہ دنوں میں ان کی وزیر اعظم صاحب سے ون آن ون یا گروپس کی صورت ملاقاتیں ہوئی ہیں۔عمران حکومت کے طاقت ور شمار ہوتے وزراء کے ساتھ بھی وہ مسلسل رابطے میں ہیں۔ ان سب دوستوں نے میری اس رائے سے اتفاق کیا کہ اکتوبر کا مہینہ وطنِ عزیز میں ہلچل مچاتا نظر آرہا ہے۔حیران مگر وہ اس بات پر تھے کہ عمران خان صاحب اس کی بابت قطعاََ پریشان نظر نہیں آرہے۔ان دنوں بلکہ قابل رشک حد تک پراعتماد اور مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔یہ اطلاع دینے کے بعد وہ جاننا چاہ رہے تھے کہ عمران خان صاحب کے بے پناہ اعتماد کا سبب کیا ہوسکتا ہے۔کونے میں بیٹھ کر دہی کھانے والے ریٹائر رپورٹر کے لئے اس سوال کا جواب فراہم کرنا ممکن نہیں تھا۔ یہ کالم لکھتے ہوئے مگر ’’ٹیوے‘‘ لگانے کو جی مچل گیا۔

فوری بات ذہن میں یہ آئی ہے کہ اگر میں بھی عمران خان صاحب کی جگہ ان دنوں وزیر اعظم کے منصب پر بیٹھا ہوتا تو 20ستمبر 2020کے دن ہوئی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد بہت مطمئن ہوجاتا۔طویل خاموشی کے بعد نواز شریف صاحب نے اس کانفرنس سے یقینا ’’کشتیاں جلانے‘‘ والا خطاب فرمایا تھا۔ سوال مگر یہ اٹھتا ہے کہ انہوں نے جو ’’کشتیاں‘‘ جلائی ہیں وہ انہیں یاان کی جماعت کو عمران خان صاحب سے رابطے میں تو نہیں لاتی تھیں۔ ’’مک مکا‘‘ ان کی ذات کو درمیان میں لائے بغیر ہی ہوجاتا تھا۔ اے پی سی کے بعد عمران خان صاحب کو یقینا خوش ہونا چاہیے کہ اب ’’وہ دروازہ‘‘ بھی بند ہوا۔ نواز شریف نے بلکہ واضح الفاظ میں اعلان کردیا ہے کہ ان کی ’’لڑائی‘‘ عمران خان صاحب سے نہیں۔معاملات بلکہ’’انہیں لانے والوں‘‘ کے ساتھ بگڑ گئے ہیں۔ عمران خان صاحب کو اس ضمن میں اگر ’’فریق‘‘ ہی تصور نہیں کیا جارہا تو وزیر اعظم اس کے بارے میں پریشان کیوں ہوں ؟

نواز شریف کے خطاب کے بعد انہیں مزید مطمئن اس لئے بھی ہوجانا چاہیے کہ مذکورہ خطاب کے حوالے دیتے ہوئے یوٹیوب پر چھائے محبانِ وطن اس ’’خودکش تقریر‘‘ کو یاد کرنا شروع ہوگئے ہیں جو ایک جماعت کے ’’بانی‘‘ نے آج سے چند سال قبل فرمائی تھی۔ اس تقریر کے نتیجے میں 1988سے کراچی کی بے تاج بادشاہ تصور ہوتی ایم کیو ایم تتربتر ہوگئی۔ اس میں سے ’’پاکستان‘‘ کے لاحقے والا ورژن برآمد ہوا۔یہ ورژن ان دنوں عمران حکومت کا اتحادی ہے۔اس کے کوٹے سے فروغ نسیم صاحب ہمارے ملک کے وزیر قانون ہیں۔ جب بھی کسی ’’مشکل‘‘ قانون کو پاس کروانے کے لئے اپوزیشن کی معاونت درکار ہوتی ہے تو فروغ نسیم صاحب خواجہ آصف صاحب جیسے بلندآہنگ اپوزیشن رہ نما کو بھی ’’پرانے تعلقات کے حوالے‘‘دیتے ہوئے چکنی چپڑی باتوں سے رام کرلیتے ہیں۔

امید اب یہ باندھی جارہی ہے کہ ’’اداروں کو للکارنے‘‘ کے بعد نواز شریف صاحب نے بھی اپنی جماعت میں موجود ممکنہ ’’فروغ نسیموں‘‘کو ’’ذہنی غلامی‘‘ سے نجات کی راہ دکھادی ہے۔’’نون‘‘ میں سے ’’شین‘‘ برآمد کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ شہباز شریف بلکہ نیب کی تحویل میں جاچکے ہیں۔اب ان کی اہلیہ اور دختر کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ بھی جاری ہوگئے۔شریف خاندان کا نظربظاہر یہ گماں ’’بے نقاب‘‘ ہوا کہ شہر لاہور ان کا ’’ناقابلِ تسخیر‘‘ قلعہ ہے۔

’’تخت لہور‘‘ پر ویسے بھی ڈیرہ غازی خان کی ایک پسماندہ تحصیل سے ابھرے عثمان بزدار صاحب گزشتہ دو برس سے براجمان ہیں۔اس شہر پر ان کے مکمل کنٹرول کو یقینی بنانے کے لئے رحیم یار خان کو تحصیل خان پور سے عمر شیخ صاحب بھی دریافت ہوچکے ہیں۔لاہور پولیس کی کمان سنبھالنے کے بعد وہ مسلسل دعویٰ کررہے ہیں کہ آئندہ تین ماہ میں اس شہر کا ہر شخص پکاراُٹھے گا کہ یہ شہر ’’بدل‘‘ گیا ہے۔

عمران خان صاحب کے آبائی میانوالی کے نواح میں واقعہ کالاباغ سے 1960کے ابتدائی ایام میں نواب امیر محمد خان نمودار ہوئے تھے۔ انہوں نے لاہور پولیس کی کمان بھکر سے ابھرے اصغر خان کے سپرد کی تھی۔ ان کے ہوتے ہوئے جماعتِ اسلامی جیسی منظم جماعت مولانا مودودی کی قیادت میں لاہور میں اپنا ’’سالانہ کنونشن‘‘ منعقد کرتے ہوئے شدید پریشان ہوئی۔بھاٹی دروازے کے باہر ایک چھوٹے سے باغ میں انہیں سالانہ اجتماع کی اجازت ملی۔اس اجتماع میں لیکن لائوڈسپیکر کے استعمال کی اجازت نہیں تھی۔ مولانا نے دھیمی آواز میں لکھی ہوئی تقریر پڑھی۔ اس تقریر کو فاصلے پر لگائی میزوں پر کھڑے ہوکر چند کارکن بلند آواز میں دہراتے ہوئے اپنے ’’امیر‘‘ کا پیغام آگے بڑھاتے رہے۔بھٹو حکومت کے ابتدائی ایام میں بھی استاد دامن جیسے درویش شاعر کی کوٹھڑی سے لاہور پولیس ہی نے ’’بم‘‘ برآمد کیا تھا۔اسی شہر کی پولیس نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف احمد رضاقصوری کے والد نواب احمد رضا قصوری کے قتل کی ایف آئی آر کاٹی تھی۔ اس ایف آئی آر کی بنیاد پر ہی اپریل 1979میں وہ پھانسی لگائے گئے۔ شریف خاندان کو ان کی ’’اوقات‘‘ میں رکھتے ہوئے عمر شیخ صاحب میری دانست میں لہذا کوئی نیا ’’معجزہ‘‘ برپا نہیں کریں گے۔ بڑھک لگانے میں اگرچہ کوئی حرج نہیں ہے۔

بہرحال عمران خان صاحب کے اعتماد کی جانب لوٹتے ہیں۔اکتوبر2020فقط اپوزیشن کے لئے ہی نہیں بلکہ وزیر اعظم کے لئے بھی بہت اہم ہے۔ محض چارہفتے گزرجانے کے بعد3نومبر کو امریکی صدارتی انتخاب ہونا ہے۔ ٹرمپ اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لئے بے چین ہے کہ افغانستان میں 18برس سے جاری ’’لاحاصل جنگ‘‘ کے خاتمے کا اعلان ہوجائے۔ مذکورہ ہدف کے حصول کے لئے دوحہ میں مذاکرات جاری ہیں۔طالبان کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے کے لئے پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

حال ہی میں عمران خان صاحب نے مشہور امریکی اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ کے لئے ایک مضمون لکھا ہے۔ اس مضمون میں انہوں نے انکشاف کیاکہ دستمبر2018میں انہیں امریکی صدر نے ایک چٹھی لکھی تھی۔اس کے ذریعے درخواست ہوئی کہ طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کیا جائے۔عمران خان صاحب کے علاوہ کوئی اور پاکستانی سیاست دان اس تناظر میں کامیاب نہیں ہوسکتا تھا۔وزیراعظم کی اس ضمن میں Edgeیہ تھی کہ وہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے افغانستان میں جاری جنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے رہے ہیں۔ان کے رویے کی وجہ سے ’’امریکی ڈالروں‘‘ پر مبینہ طورپر پلنے والی NGOsمیں بیٹھے ’’دیسی مگر خونی لبرلز‘‘ انہیں ’’طالبان خان‘‘ ہونے کے طعنے دیتے رہے۔خان صاحب مگر ڈٹے رہے۔

افغانستان کے بارے میں ٹرمپ کے خیالات بھی ہمارے وزیر اعظم جیسے ہیں۔اسی باعث جولائی 2019میں ان کا وائٹ ہائوس میں گرم جوشی سے خیرمقدم ہوا۔ٹرمپ کی اہلیہ جو اپنے شوہر کاہاتھ بھی اکثر ٹی وی کیمروں کے سامنے جھٹک دیتی ہے عمران خان صاحب کے ساتھ سیلفی بنانے کو مجبور ہوئی۔ٹرمپ نے اپنے ’’دوست‘‘ کو مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش بھی کردی۔ کشمیر پر اس ملاقات کے بعد اگرچہ مودی نے قیامت برپا کردی۔ طالبان کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے کے لئے ہمارا تعاون مگر جاری رہا۔ اکتوبر2020کے وسط تک دوحہ میں جاری مذاکرات کے نتیجے میں افغانستان میں جنگ کا خاتمہ کرتا کوئی اعلان ہوگیا تو ٹرمپ کی بلے بلے ہوجائے گی۔ وہ الیکشن جیت گیا تو عمران خان صاحب اس کے ’’حقیقی دوست‘‘ نظر آئیں گے۔یہ الگ بات ہے کہ جبلی طورپر وہ شکر گزار انسان نہیں ہے ۔ اپنا کام نکلوالینے کے بعد آنکھیں ماتھے پر رکھ لینے کا عادی ہے۔اس مرحلے تک پہنچنے میں لیکن کافی وقت درکار ہے۔ فی الحال تو عمران خان اور ٹرمپ ایک دوسرے کے ’’جگری یار‘‘ ہی نظر آئیں گے۔

ہمارے ہاں حکومتوں کے آنے اور جانے میں امریکہ بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ ٹرمپ کے ہوتے ہوئے وہ عمران حکومت کے خلاف کوئی گیم لگانے کو تیار نہیں ہوگا۔ خان صاحب کو لہذا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔اے پی سی والے تو اکتوبر سے جلسے جلوس کرنے کے چکر میں ہیں۔عمران حکومت مگر خاموشی سے تیاری کررہی ہے کہ نومبر میں بلائے گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخاب سے قبل اس ’’حساس‘‘ خطے کو پاکستان کا باقاعدہ صوبہ بنادیا جائے۔اس کے لئے آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی۔بنیادی طورپر ’’وہ ملاقات‘‘اپوزیشن جماعتوں سے آئینی ترمیم کے لئے تعاون طلب کرنے کے لئے ہی ہوئی تھی۔ مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی اس ترمیم کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کرتی نظر آئیں تو گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کو نومبر کے انتخاب کی بدولت تقریباََ واک اوورمل جائے گا۔وہ دوتہائی اکثریت بھی حاصل کرسکتی ہے۔

گلگت بلتستان میں نومبر میں ہونے والا انتخاب تحریک انصاف نے ’’بھاری اکثریت‘‘ سے جیت لیا تو اپوزیشن والے کس منہ سے بقیہ ملک میں’’نئے انتخاب‘‘ کا مطالبہ کریں گے۔یہ سوچتے ہوئے عمران خان صاحب کو لہذا مطمئن اور پراعتماد ہی محسوس کرنا چاہیے۔