گوشت اگانے والی مشینیں!

berqآپ کو تو ہم نے پہلے بھی بتایا ہے کہ آج کل ہماری دل چسپی اور توجہ اخبارات میں خاص خاص تصویروں اور خبروں کی طرف کچھ زیادہ ہو گئی ہے۔ ویسے بھی یہ عام اور بڑی بڑی سرخیوں والی خبروں میں ہوتا ہی کیا ہے۔ نواز شریف استعفے دیں، عمران خان اینڈ کمپنی۔ دھرنوں سے کچھ بھی ہونے والا نہیں، نواز شریف اینڈ پارٹی۔  ہم نے کرپشن کو ختم کر دیا ہے، پرویز خٹک اینڈ ہمنوا … اوپر سے غضب یہ ہے کہ ان صفحات پر جو تصاویر ہوتی ہیں ان کو دیکھنے سے تو بہتر ہے کہ آدمی سو ہی جائے، ہم بھی فوراً صفحہ پلٹ کر ان خبروں اور تصویروں پر آجاتے ہیں جو اخبار والوںاور فوٹو گرافروں کا اپنا ’’نتیجہ فکر‘‘ ہوتی ہیں، اس سلسلے میں آج کل گوشت اگانے کی خبریں تواتر سے آرہی ہیں جو نہ صرف ہمارے لیے بلکہ دنیا بھر کے ’’پیٹوؤں‘‘ کے لیے نہایت ہی خوش ذائقہ ، خوش آیند اور خوش خبر بلکہ ’’خوش شکم‘‘ تفصیلات بڑی اشتہاء انگیز ہوتی ہیں۔

ان خبروں میں بتایا گیا ہے کہ امریکا اور یورپ والے گوشت اگانے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور اب گوشت بھی جانوروں کے  بجائے مشینیں پیدا کریں گی، اس میں ہمارے لیے حیرت کی بات یہ ہے کہ اس مرتبہ اس سلسلے میں امریکا کے ساتھ ساتھ اس ’’تلمذ خاص‘‘بلکہ لے پالک بلکہ بغل بچے اسرائیل کا نام بھی اچھا خاصا ابھر رہا ہے، اس میں حیرت کی بات یہ ہے جیسے سعودی عرب والے ’’مصنوعی کھجور‘‘ افغانستان والے مصنوعی انار اور ہندوستان والے مصنوعی ناریل پر تجربات کریں کیونکہ اسرائیل کم از کم گوشت میں تو یقیناً ’’خود کفیل‘‘ ہے، اس کے پہلو میں فسلطینیوں کا گوشت وافر مقدار میں دستیاب ہے اور سستا بھی ہے اور حیرت انگیز طور پر بے حد خرچ ہونے کے باوجود بھی ’’فلسطینی‘‘ کم نہیں ہو رہے ہیں یعنی ’’گوشت‘‘ کی قلت کا خطرہ کم از کم اسرائیل کو تو بالکل بھی نہیں ہے۔ایک بات ہے کہ امریکا وغیرہ کو اپنی اس مرغوب خوراک کے لیے خرچہ بہت کرنا پڑتا ہے، ہر ملک و قوم میں لاشوں کی فصلیں اگانے کے لیے کچھ نہ کچھ خرچہ تو کرنا ہی پڑتا ہے، حکومتوں کو ڈالروں کے ذریعے راضی کیا جاتا ہے،  معمولی باتوں سے بڑی بڑی جنگیں بنانے والے لیڈروں کو پالنا پڑتا ہے، اس لیے وہاں کے سائنس دانوں کو دور دراز سے خوراک مہیا کرنے کے گراں قیمت مشغلے کا متبادل مہیا کرنے کے لیے کہا گیا ہو، چنانچہ خبروں میں کہا گیا ہے کہ ایک مائیکرو اوون جیسی مشین میں ایک چھوٹا سا کیپسول رکھ کر تھوڑی دیر بعد چکن بریسٹ برآمد کر لیجیے۔ ہمیں معلوم ہے کہ امریکا اور اسرائیل والے اپنی اس کامیابی پر پھولے نہیں سما رہے ہوں گے لیکن ان کی اطلاع کے لیے عرض کر دیں کہ تمہارے لیے یہ کام نیا ہو تو ہو کم از کم ہم پاکستان والوں کے لیے اس میں کوئی نئی بات نہیں، جو مشین وہ آج سامنے لا رہے ہیں، ہم پاکستانی جو ہر ہر کام ہر ہر مقام اور ہر ہر میدان میں ’’نمبر ون‘‘ کا خطاب رکھتے ہیں اس کام میں پیچھے کیسے رہ سکتے تھے۔ ہمارے سائنس دان ستر سال پہلے ہی اس کام میں اپنا نام روشن بلکہ ’’گوشن‘‘ کر چکے ہیں۔گوشت پیدا کرنے والی مشین جو پاکستان نے ایجاد کی ہوئی ہیں، یہ خصوصیت بھی رکھتی ہیں کہ موبائل اور خود کار بھی ہیں ان پر خود ہی گوشت چڑھتا رہتا ہے نہ صرف گوشت بلکہ کھال بھی، یہ لوگ تو اب کہیں جا کر یہ مشینیں بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں اور یہ نہیں بتایا جا سکتا ہے کہ کب بازار میں عام دستیاب ہوں گے، وہ کیپسول نہ جانے کتنا مہنگا پڑے گا کیوں کہ کہا جاتا ہے کہ اس کیپسول کو جانوروں کے ٹشوز یا خون سے تیار کیا جائے گا اور پیداوار بھی صرف چکن چیسٹ یا گوشت جب کہ ہماری پاکستانی مشین نہ صرف سستی بلکہ تقریباً مفت دستیاب ہیں اور صرف گوشت ہی پیدا نہیں کرتیں بلکہ اور بھی بہت کچھ پیدا کرتی ہیں، اس موقع پر شاید آپ کا خیال ان لوگوں یا مشینوں کی طرف جائے جو انسانی شکل و صورت کی ہوتی ہیں اور ان کے ہر حصہ جسم پر گوشت کے ڈھیر ہوتے ہیں جو شیپ میں تقریباًگولائی لیے ہوئے ہوتے ہیں اور درمیان کا حصہ خاص طور پر اتنا زیادہ ابھرا ہوتا ہے کہ اگر کرتا پہنے ہوئے ہوں تو کرتے کا دامن ان سے تین فٹ آگے چلتا ہے، لیکن اپنے اس خیال کو یہیں پر بریک لگا دیئجے بے شک یہ بھی گوشت کی مشینیں ہیں لیکن بڑی گراں قیمت ہیں، ان کا کھاجا مختلف رنگوں کے نوٹ ہوتے ہیں۔

نوٹوں کے بارے میں ان کا نظریہ وہی ہے جو غالب کا آموں کے بارے میں تھا اور ان کی یہ خوراک بھی سرکاری تعاون کے بغیر نہیں حاصل ہوتی، ویسے تجربات میں دیکھا گیا ہے کہ نوٹ یا خوراک جتنی زیادہ حرام کی ہوتی ہے، اتنی ہی ان میں تیزی سے بڑھوتری ہوتی ہے لیکن ہم اس چلتی پھرتی میٹ مشینوں کی بات اس لیے نہیں کر رہے ہیں کہ ان کا گوشت انسان کے کسی کام کا نہیں ہوتا، صرف زیر زمین حشرات ہی کے لیے یہ گوشت پیدا کرتے ہیں جو ایک طرف سے ثواب دارین ہے کہ حشرات کا پیٹ پال کر ثواب بھی کماتے ہیں اور پھر ان حشرات سے زمین کی زرخیزی بڑھتی ہے اور جن مشینوں کی ہم بات کر رہے ہیں، وہ یہیں سے یعنی زمین کی پیداوار پر پلتی ہیں۔ یوں کہیے کہ یہ دونوں اقسام کی مشینیں ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کرتی ہیں جن مشینوں کی طرف ہمارا اشارہ ہے، انھیں عرف عام میں ’’کالانعام‘‘ کہا جاتا ہے یعنی جانوروں جیسا … اور یہ صد فی صد صحیح نام ہے، ان کی سب سے بڑی پیداوار تو ان کا دودھ ہے جسے دوہنے کے لیے جو مشینیں استعمال ہوتی ہیں، انھیں سرکاری محکمے کہتے ہیں جن میں نہایت تجربہ کار آپریٹر ہوتے ہیں جو جانور کے تھنوں سے آخری قطرہ تک نچوڑنے کے ماہر ہوتے ہیں۔

یہی دودھ ہی اول الذکر میٹ مشینوں کی خوراک اور بڑھوتری میں استعمال ہوتا ہے،دوسری پیداوار ان جانوروں کی وہ حیران کن کھال ہے جسے سرکاری ماہرین بڑی صفائی سے اتار لیتے ہیں اور جیسے ہی کھال اترتی ہے یہ جانور دوسری کھال اپنے اوپر اگا چکے ہوتے ہیں جو دوسرے محکمے کی اترائی کے لیے بالکل تیار ہوتی ہے، اس لحاظ سے گویا ہمیں ان امریکی اور اسرائیلی ماہرین پر برتری حاصل ہو چکی ہے کہ ان کے پیدا کردہ گوشت پر کھال ہوتی ہی نہیں اور اگر ہوتی بھی ہو تو وہ صرف ایک ہی مرتبہ اتاری جانے والی کھال ہو گی جب کہ ہماری مشینیں نئی کھال اتنی تیزی سے اگاتی ہیں جتنی تیزی سے ان کے دودھ کے اوپر بالائی آتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *