ایک بونے کی کہانی!

Photo Attaul Haq qasmi sb

سڑک پر چلتے چلتے کوئی چیز میرے پائوں کے ساتھ ٹکرائی پیشتر اس کے کہ میرا پائوں اس پر آتا، مجھے ایک مہین سی آواز سنائی دی ’’بچائو بچائو‘‘ یہ آواز میرے پائوں کے قریب سے آرہی تھی۔ میں نے جھک کردیکھا ایک تیرہ انچ کا بونا زمین پر پڑا درد سے کراہ رہا تھا، میں نے اسے اٹھایا اور اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر کھڑا کردیا۔ میرے پائوں سے ٹکرانے کی وجہ سے اس کے ماتھے سے خون بہہ رہا تھا، میں اسے اپنے گھر لے آیا اور اس کی مرہم پٹی کی ۔ کچھ ہی دیر بعد وہ بھلا چنگا ہوگیا۔ اس کے چہرے پر ممنونیت کے آثار تھے۔ میرے ٹخنوں کے ساتھ لگا ہونے کی وجہ سے وہ اظہار تشکر کے لئے میرے پائوں کو بوسہ دینا چاہتا تھا مگر میں نے اسے سختی سے منع کردیا اور کہا ’’یہ چیز شرف انسانیت کے منافی ہے‘‘ یہ سن کر اس نے اپنے ننھے منے ہاتھ اپنے ’’سینے‘‘ پر باندھے اوربولا ’’میرے آقا آپ صحیح فرماتے ہیں لیکن خود میرا قدوقامت بھی تو شرف انسانیت کے منافی ہے‘‘ اس پر میںنے اسے پیار سے ڈانٹتے ہوئے کہا ’’پہلی بات تو یہ ہے کہ میں تمہارا ٓقا نہیں دوست ہوں لہٰذا آئندہ مجھے کبھی آقا نہ کہنا اور نہ سمجھنا، دوسری بات یہ کہ قد کے چھوٹے یا بڑے ہونے کا کسی شخص کے بڑے یا چھوٹے ہونے کا پیمانہ نہیں یہ اس کا کردار ہے جو اسے چھوٹا یا بڑا بناتا ہے لہٰذا آئندہ اپنے قد کو صرف اپنے کردار کے حوالے سے ماپنا۔‘‘
میں نے محسوس کیا کہ اس نے میری بات سن تو لی ہے مگراسے یقین نہیں آیا کہ کوئی شخص چھوٹا ہوتے ہوئے بھی بڑا ہوسکتا ہے۔ اس کی اس سوچ کا عملی مشاہدہ میں نے آنے والے دنوںمیں کیا۔ وہ شدید احساس کمتری میں مبتلا تھا بلکہ لگتا تھا اس میں سے نکلنا شاید اس کے لئے ممکن نہیں۔ وہ مجھے دیکھتے ہی جھک جاتا جس سے وہ تیرہ انچ کی بجائے چھ انچ کا رہ جاتا۔ میں نے اسے بتایا کہ جھکنے سے گریز کیا کرے لیکن یہ غالباً اس کے بس میں نہیں تھا کیونکہ جونہی اس کی نظر مجھ پر پڑتی وہ کمان کی طرح دہرا ہو جاتا، اس کے علاوہ مجھے خوش کرنے کے لئے میری ہاں میں ہاں ملانے میں لگارہتا۔ بعض اوقات میں نے اپنی کسی رائے کے اظہار کے لئے ابھی پہلا جملہ ہی بولا ہوتا کہ وہ بول اٹھتا ’’سر آپ صحیح کہتے ہیں‘‘ اور اسے ٹوکتا’’اگر تم خوشامد سے باز رہ ہی نہیں سکتے تو کم از کم مجھے اپنا جملہ تو مکمل کر لینے دیا کرو‘‘۔ مجھے اس کی ضرورت اس لئے بھی محسوس ہوئی تھی کہ ایک روز میں نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ ’’میں گدھا ہوں‘‘ تو اس نے کورنش بجا لاتے ہوئے کہا ’’سر آپ صحیح کہتے ہیں‘‘ حالانکہ میں کہنا کچھ اور چاہتا تھا بہرحال میں نے محسوس کیا کہ اس تیرہ انچ کے بونے کے دل سے احساس کمتری کو کھرچ کھرچ کر نکالنا پڑے گا کیونکہ احساس برتری یا احساس کمتری یہ دونوں انسان کو دیمک کی طرح چاٹ جاتے ہیں۔ انسان تو انسان ہی ہوتا ہے چاہے وہ بارہ انچ کا ہو یا چھ فٹ کا ہو۔
چنانچہ میں نے اپنے ایک ماہر نفسیات دوست سے مشورہ کیا کہ اس بونے کو احساس کمتری سے کیسے نجات دلائی جائے۔ وہ اس سلسلے میں خود ہی کنفیوژڈ نظر آیا تاہم اس نے مجھے دو تین مشورہ دیئے ان میں سےایک یہ تھا کہ تم اس کے ساتھ بے تکلف ہو جائو اور اتنے بے تکلف ہو جائو کہ وہ اپنی قدوقامت بھول کر خود کو تمہارا دوست سمجھنا شروع کردے۔ مجھے اس کا یہ مشورہ پسند آیا چنانچہ میں نے اس سے اگلے دن ہی اس مشورے پر عمل شروع کردیا وہ جب آدھا چمچ چائے اور ایک سلائس کے چھٹے حصے کے ناشتے سے فارغ ہوا تومیں نے اسے مخاطب کیا اور کہا ’’سنائو بھئی شہزادے رات کیسی گزری؟‘‘ وہ میرے اس دوستانہ انداز گفتگو سے پریشان ہوگیا اور ہکلاتے ہوئے بولا ’’سر.... سر..... سر‘‘ اس سے آگے اس سے کچھ نہ کہا گیا۔ میں نے اس کے کاندھے پر پیار سے تھپکی دی اور کہا ’’یار یہ تم مجھے سر سر نہ کہا کرو ہم اللہ کی مخلوق ہیں اور یوں ہم مرتبہ ہیں‘‘۔ مگر اسے میری بات پر یقین نہ آیا چنانچہ اگلے دن میں نے اسے پہلے کی طرح مودب بلکہ سہما سہما سا پایا تاہم میں نے حوصلہ ہارنے کی بجائے اپنی بے تکلفی میں اضافہ کردیا۔ ایک دن میں نے اپنی ایک آنکھ میچ کر کہا ’’شہزادے کیا چکر ہے! آج کل بہت بنے ٹھنے رہتے ہو؟‘‘ میں نے محسوس کیا میرے حوالے سے اس کی جھجک میں کمی آگئی ہے۔ اس نے شرما کر نظریں نیچی کرلیں میں نے اپنی انگلی سے اس کی ٹھوڑی کو اوپر اٹھایا اور مسکرا کر پوچھا ’’کہیں دل ول تو نہیں دے بیٹھے؟‘‘ اس پر وہ ہولے سے بولا ’’جی سر‘‘ میں نے کہا ’’میرا نام سر نہیں عطا ہے آئندہ تم مجھے عطا ہی کہا کرو گے‘‘۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے ان لفظوں سے اس میں اعتماد سا پیدا ہوا ہے۔ میں نے پوچھا ’’کون ہے وہ؟‘‘ اس نے جواب دینے کی بجائے جیب میں سے ایک تصویر نکالی یہ مادھوری ڈکشٹ کی تھی۔ اس پر میں نے اس کا کاندھا تھپتھپایا اور کہا ’’واہ استاد، لمبا ہی ہاتھ مارا ہے‘‘۔ یہ سن کر وہ پہلی دفعہ میرے سامنے کھلکھلا کر ہنسا اور بولا ’’بس اب آپ دعا کریں اللہ کامیابی عطا فرمائے‘‘۔ مجھے اس کے اعتماد کی خوشی ہوئی تھی مگر اس کی اس بات پر میں نے محسوس کیا کہ یہ شخص خاصا بیو قوف ہے مگر فی الحال مجھے اس کی عقل نہیںاس کا اعتماد بحال کرنا تھا چنانچہ میں نے دونوں ہاتھ فضا میں بلند کر کے اسکے عشق کی کامیابی کیلئے باقاعدہ دعا کی۔ میں نے غور سے سنا وہ پورے خضوع و خشوع سے آمین آمین کہہ رہا تھا۔
اب اس کا اعتماد واقعی بحال ہونا شروع ہوگیا تھا بلکہ ایک عجیب و غریب چیز میں نے محسوس کی اور وہ یہ اس کے قد میں تبدیلی آنا شروع ہوگئی تھی یعنی اس میں بتدریج اضافہ ہورہا تھا۔ تیرہ انچ سے وہ چودہ انچ پھر پندرہ انچ اور کچھ ماہ کے بعد میں نے اسے دیکھا وہ میرے قد کے برابر ہو چکا تھا۔ یہ دیکھ کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی اس پر مستزاد یہ مسرت کہ اب وہ مجھ سے اتنا بے تکلف ہو جاتا تھا۔جس سے آگے جانا ممکن نہیں تھا تاہم ایک تبدیلی اس میں یہ آئی کہ صرف میرے ساتھ نہیں بلکہ محلے کے دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی اس کی بے تکلفی عجیب رخ اختیار کر چکی تھی۔
وہ کسی کالے شخص کو دیکھتا تو اسے ’’بٹ صاحب‘‘ کہہ کر مخاطب ہوتا کسی لمبے شخص کو دیکھتا تو کہتا ’’تم بطور سیڑھی کرائے پر چلا کرو، کافی پیسے کما لو گے‘‘۔ اپنے سے چھوٹے قد والے لوگوں کا بھی مذاق اڑاتا تاہم آہستہ آہستہ اس کی بے تکلفی کا سب سے زیادہ نشانہ خود میں بننا شروع ہوگیا۔ اب وہ مجھے تم کہہ کر مخاطب ہوتا بلکہ وہ اکثر اوقات ’’تو‘‘ ہی سے کام چلانے کی کوشش کرتا۔ میں نے اسے ’’سر‘‘ کہنے سے روکا تھا اور کہا تھا کہ مجھے عطاء کہا کرو لیکن اب وہ مجھے ’’طاوئو‘‘ کہنے لگا تھا صرف یہی نہیں بلکہ ایک دن وہ اپنے جیسے لوگوں کے درمیان بیٹھا کہہ رہا تھا ’’ایک وقت تھا کہ یہ طاوئو میرے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا ہوتا تھا، اب یہ میرے برابر میں بیٹھنے کی کوشش کرتا ہے‘‘۔
میں نے اس کی یہ حالت دیکھی تو ایک دفعہ پھر اپنے ماہر نفسیات دوست کے پاس گیا اور اسے اس سابقہ بونے کی بابت ساری تفصیل بیان کی۔ اس نے میری بات سنی تو ہنسا اور بولا ’’میرے پاس کیا لینے آئے ہو اب بھگتو‘‘۔ میں نے کہا ’’تم عجیب آدمی ہو تم ہی نے تو کہا تھا اس میں اعتماد پیدا کرنے کے لئے اس کے ساتھ بے تکلفی کا رویہ اختیار کرو‘‘! دوست نے کہا ’’مگر تمہیں اس میں رونما ہونے والی جسمانی تبدیلیوں اور بدلی ہوئی گفتگو سے شروع ہی میں اس کے ظرف کا اندازہ ہو جانا چاہئے تھا۔ حضرت عیسیٰ جن مردوں کو زندہ کرتے تھے وہ زندہ ہوتے ہی اس کے بیری ہو جایا کرتے تھے‘‘۔
یہ سارا واقعہ جو میں نے ابھی بیان کیایہ دس سال پہلے کا ہے کل بازار سے گزرتے ہوئے ایک بار پھر میرا پائوں کسی چیز سے ٹکرایا، میں نے جھک کر دیکھا تو یہ وہی تیرہ انچ کا بونا تھا جو پورے قد کا ہونے کے بعد سے سب کو بونا سمجھنے لگا تھا۔ اس نے میرے پائوں پکڑ لئے مگر میں نے اسے اٹھایا اورگھر لے آیا۔ ان دنوں میں دوبارہ اس کا اعتماد بحال کرنے میں لگا ہوا ہوں۔ (قند مکرر)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *