دس روپوں کا فسوں ۔۔۔

razia syed

گذرا ہوا بچپن نجانے کیوں ذہن کے دریچوں پر پھر سے دستک دینے لگتا ہے ۔ مٹی کے کھلونوں سے کھیلنا ، اماں ابا کے بازار جانے کے بعد بڑی بے صبری سے ان کی واپسی کا انتظار کرنا ، روز سکول جاتے ہوئے منہ بسورنا ۔ غرض میں جب بھی اپنی یادوں کے صفحات کھنگالتی ہوں بچپن ایک نئے انداز سے میری نگاہوں کے سامنے آجاتا ہے ۔

ان بہت سی یادوں کے بیچ ایک  قصہ دس روپوں کا بھی ہے جس کا فسوں اب تک ختم نہیں ہوا ، ان دس روپوں کی خوشبو اب تک مجھے اپنی شخصیت میں محسوس ہوتی ہے ۔ دنیا میں کسی چیز سے آپ کی محبت کی وجہ اصل میں اس چیز کے دینے والے سے آپ کا لگائو اور محبت ہوتی ہے ۔ جیسے آپ کی والدہ نے بچپن میں خود سی کر کوئی جوڑا آپ کو پہنایا ہو ، بڑے بھائی نے کوئی کھلونا لے کر دیا ہو یا کسی استاد نے کامیابی پر کتاب کا تحفہ دیا ہو ۔

غرض کہ یہ چیزیں ان سے وابستہ افراد کے خلوص اور محبت کی یاد دلاتی ہیں ۔بس قارئین آج آپ کو اسی منزل تک لانا تھا ، میری زندگی میں بھی ان دس روپوں کا قصہ بہت اہم ہے اگرچہ کہ دس روپے کی نہ تو آج بہت اہمیت ہے نہ ہی کچھ عرصہ قبل اتنی وقعت تھی۔ اپنی والدہ کی وفات کے بعد  میں نے نیا نیا کالج جانا شروع کیا تھا ایک نیا ماحول ، نئے اساتذہ اور نئی ساتھی طالبات ۔۔

اتنے بڑے سانحے کے بعد سنبھلنا بہت مشکل اور اذیت ناک بھی تھا ۔ بچوں کی نفسیات پر میں نے کافی کام کیا ہے ایسے بچے جو بے حد لاڈلے اور ذہین ہوں انھیں دنیا میں مشکلات کا سامنا کرنے میں بہت دقت پیش آتی ہے ۔ایک ایسا بچہ جسے اسکی ماں میڑک تک پیار کر کے سکول روانہ کرتی ہو وہ یقیننا کالج جاتے ہوئے بھی اسکی عدم موجودگی کو محسوس کرتا ہے اور ماں کو نہ پانے کی صورت میں توجہ حاصل کرنے کے لئے شور شرابا اور اوٹ پٹانگ حرکتیں کرتا ہے ۔

سو میں بھی کون سا باقی بچوں سے مختلف تھی ؟ میں بھی کالج نہ جانے کے سو بہانے ڈھونڈ لیتی  میرے روز روز کے بہانوں سے میری دونوں بہنیں بہت پریشان تھیں اور اکثر ڈانٹ بھی پلا دیتی تھیں ۔ خیر ایک دن بڑی بہن نے مجھے کہا کہ’’ تم ذہین ہونے کے باوجود اگر لاپرواہی کرو گی تو زندگی کی جنگ کبھی نہیں جیت سکو گی ۔ اچھا تم یوں کرو کہ تم روز کالج جائو میں تمھیں روز کے دس روپے بطور انعام دوں گی‘‘ ، میں نے انکار کیا کیونکہ مجھے جیب خرچ بھی ملا کرتا تھا۔

تو انھوں نے کہا کہ’’ تم فکر نہ  کرو جب تم بڑی ہوجائو گی تو میں تم سے یہ سب رقم لے لوں گی لیکن ابھی تم نے کوئی گڑبڑ نہیں کرنی‘‘ ۔ اصل میں میں  یہی توجہ چاہتی تھی ، خیر آپی کے دس روپے دینے کا سلسلہ فرسٹ ائیر سے ایم اے فائنل تک چلتا رہا میرے پاس جیب خرچ بھی ہوتا لیکن ان دس روپوں کو کھانے میں جو مزہ آتا وہ بیان نہیں ہو سکتا ۔

کبھی کبھی کوئی ایک اچھا رویہ آپ کی پوری زندگی کو بدل کر رکھ دیتا ہے ۔ میں اب بر سر روزگار ہوں لیکن ان دس روپوں کو بہت یاد کرتی ہوں وہ دس روپے جن میں خلوص اور محبت کی چاشنی تھی ۔ جن دس روپوں میں چاہے جانے اور اہمیت دلا ئے جانے  کا احساس بھی تھا ۔ سچ پوچھئیے تو میں ان دس روپوں کے حصار سے کبھی نکل نہیں پائوں گی  کیونکہ میں زندگی بھر اس بے غرض محبت کو خود سے الگ نہیں کرنا چاہتی  ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *