انصاف ۔ ۔ ۔ لیکن موت سے پہلے

shahid nazir choudhri

کورٹ کچہریوں میں ساری زندگی تباہ کرنے والوں کے دکھوں کا آسمان بڑا بے درد ہے۔کوئی ان کے نالے سنے،تودم بخود رہ جاتاہے، جب کبھی خود اس پر تھانے کچہری میں جانے کی افتاد پڑے تو وہ ہزار بار سوچتاہے ، پاکستان میں انصاف کے حصول کی جنگ لڑنے والے شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہوجاتے ہیں ، عادی اور پیشہ ورسائلین کی تو بات اور ہے لیکن عام لوگ جو پہلی دوسری بار کچہری اور عدالت میں جاتے اور دیوانی و فوجداری ،عائلی اور کارپوریٹ مقدمات میں درپیش مصائب کا سامنا کرتے ہیں تو انکے لئے دنیا ہی جہنم کا نقشہ پیش کرنے لگتی ہے۔ایک بڑے شہر میں جہاں سول و سیشن اور ہائی کورٹ سمیت دوسری عدالتیں بھی موجود ہوتی ہیں،اسکے شہریوں کو بھی مقدمات کے دوران سکھ نصیب نہیں ہوتا، دوردراز شہروں سے حصول انصاف کے لئے آنے والوں کاتو اس سے  بھی بدتر حال ہوتا ہے۔

ہم فی الحال پنجاب کی بات کرتے ہیں، دس کروڑ سے زائد آبادی اور وسائل و مصائب کے حوالے سے یہ صوبہ پچک رہا ہے ،  صرف اس ایک صوبے میں مقدمات کا حجم دوسرے صوبوں کے مجموعی مقدمات کے برابر ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ سے لیکر ضلعی عدالتوں تک تقریباً 17 لاکھ سے زائد مقدمات التوا میں پڑے ہیں۔تین سال پہلے قومی اسمبلی کو بتایا گیا تھا کہ صرف پنجاب کی ڈسٹرکٹ کورٹس میں ایک ملین مقدمات پڑے ہیں،جبکہ لاہور ہائی کورٹ میں پونے دولاکھ مقدمات التوا کا شکار ہیں،دوسرے صوبوں میں بھی عدالتوں کی کارکردگی کی حالت پتلی دکھائی گئی لیکن پنجاب کی صورتحال نے اس تشویش کو ہوا دی کہ اگر عدالتوں پر کام کا بوجھ بڑھتا چلا گیا تو انجام کار معاشرہ خود انصافی اور بدعنوانی کی لت میں بری طرح مبتلا ہوجائے گا۔ پنجاب میں اگر کسی کو  حصول انصاف کے لئے ہائی کورٹ جانے کے لئے سینکڑوں میل کا سفر کرکے لاہور،ملتان،بہاولپور،راولپنڈی یااسلام آباد جاناپڑجائے تو صرف ایک تاریخ پر اسکے گھر اور کاروبار کا سارا نظام تلپٹ ہوجاتا ہے ،روپیہ پیسہ الگ سے برباد ہوتا ہے اور یہ ضمانت تو اسکو کوئی نہیں دے سکتا کہ اُس تاریخ پر اسکے مقدر کا فیصلہ ہوگا ، یا تاریخ پڑے گی ، جج صاحب چھٹی پر ہوں گے یا وکیلوں کے احتجاج کی وجہ سے وہ نامراد ہوکر واپس لوٹے گا یاوہیں کہیں ہوٹل یا کسی رشتہ دار کے پاس اگلے دن کی پیشی کے  انتظار میں پڑا رہے گا۔عدالتوں میں رُلنے والوں کی آہ و زاریوں سے اس پیشے کا کلیجہ نہیں پگھلتا، اس صورتحال کو ختم یا کم کرنے کے لئے برسوں سے انصاف دہلیز پر پہنچانے کے وعدے کئے جارہے ہیں لیکن ان وعدوں میں کئی مدعی اور سائل بابوں کی نسلیں لاہور آتے جاتے جوانیاں برباد کربیٹھی ہیں۔

اگرچہ پچھلی ایک دو دہائی سے عدالتی نظام کی بہتری اور اسکو دہلیز تک پہنچانے کے لئے کچھ اچھے فیصلے بھی ہوئے ہیں لیکن اس ایک اہم اقدام کی ضرورت اپنی جگہ موجود رہی ہے کہ پنجاب کی حدود میں اسلام آباد ہائی کورٹ ،لاہورہائی کورٹ کے علاوہ دوسرے بڑے اوردورافتادہ شہروں میں بھی ہائی کورٹس قائم کردی جاتیں تو انصاف کے تقاضے عملی طور پر پورے ہوسکتے تھے ، اگرچہ ان حالات میں 60 ججوں پر مشتمل لاہور ہائی کورٹ کے 3  بینچ راولپنڈی،ملتان اور بہاولپور میں قائم ہیں لیکن مقدمات کا بوجھ پھر بھی کم نہیں ہوپارہا۔مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کی وجوہات ایسی ہیں جنہیں ججز اور وکلاءحضرات بخوبی جانتے ہیں لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے بعض وکلاءبھائی نظام عدل کو آئیڈل اور گھر کی دہلیز تک پہنچانے میں مزاحمت بھی کرتے ہیں ، انکے تحفظات کا سوال اپنی جگہ لیکن زمانہ جس تیزی سے بدل رہا ہے کرائم اور کرپشن کی وجہ سے معاشرے میں گھٹن اور تلخی بھی اسی قدر بڑھ چکی ہے۔معاشرے میں عدم انصاف کی صورت جو تصادم پیدا ہوتا ہے اسکا ذمہ دار ناقص عدالتی نظام کو ٹھہرایا جاتاہے،  اس صورتحال پر حکومت اور عدلیہ کو باور کرایا جارہا ہے کہ اگر عوام کو انصاف دینے میں تاخیرا ور ذلالت کا سامنا یونہی برقرار رہا تو مقدس ادارے زیادہ دیر تک کھڑے نہیں رہ سکتے۔اس ساری صورتحال  کو مد نظر رکھتے  ہوئے لاہورہائی کورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے لاہورہائی کورٹ کا دائرہ کارپنجاب کی باقی پانچ ڈویژنوں ساہوال،گوجرانوالہ،فیصل آباد ،سرگودھا اور ڈی جی خان تک بڑھانے کے لئے ڈویژنل سپیشل بنچ تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے اور حکومت کی جانب سے اس میں پیش رفت بھی ہوچکی ہے مگر یہ بات ہمارے بعض وکلا بھائیوں کو پسند نہیں آئی،انکے اختلاف کرنے کی ایک وجہ تو بڑی معقول ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ڈی جی خان میں بھی ہائی کورٹ کا خصوصی بنچ قائم ہو ۔

انکے مطابق ڈی جی خان کی بجائے یہ خصوصی بینچ ملتان میں ہی بنایا جارہا ہے جس سے ڈی جی خان ڈویژن والوں کوریلیف نہیں ملے گا ۔ملتان اور ڈی جی خان کے درمیان ایک سو دوکلومیٹر کا فاصلہ ہے ،غالباً اسی وجہ سے یہ بنچ الگ تشکیل دینے کی بجائے ملتان میں ہی قائم کرنے کا اشارہ دیا گیا ہے ،اسکی وجہ انتظامی اور مالی معالات قرار دئیے جاتے ہیں ۔لیکن فاصلوں کی بنیاد پر کسی شہر کو حقوق سے محروم کرنا بڑا عجیب لگتا ہے،اسطرح تو لاہور سے گوجرانوالہ کا فاصلہ ستر کلومیٹر اور فیصل آباد سے سرگودھا کا فاصلہ بانوے کلومیٹر ہے ،یہاں بھی تویہ بینچ قائم کئے جارہے ہیں، اسطرح تو ڈی جی خان والوں کے دل میں محرومی پیدا ہوگی ، جہاں تک وکلا کے دیگر تحفظات کا تعلق ہے تو وکلا کا بڑا طبقہ اس حق میں ہے کہ ہر ڈویژن میں لاہورہائی کورٹ کے بینچ قائم کرنے سے سائلین اور وکلاءکا ڈپریشن لیول کم ہوجائے گا۔

میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ منظم عادلانہ نظام کے حامی ہیں اور پنجاب کی کل 9 ڈویژنوں میں ہائی کورٹ کے خصوصی بینچ فعال دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ ان ڈویژن کے مقدمات لاہور کی بجائے وہیں پر سنے جائیں اور فی زمانہ یہی آئیڈیل کام ہوسکتا ہے۔سید منصور علی شاہ کووکالت کے میدان میں وسیع تجربہ حاصل ہے ،ویسے بھی وہ جس لاءفرم کے پارٹنر رہے ہیں اسکے باقی دو پارٹنر یحیٰی آفریدی پشاور ہائی کورٹ اور اطہر من اللہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزز جسٹس بن چکے ہیں۔ گزشتہ چند سال کے دوران ان تینوں احباب نے وکلا کی سیاست اور عدالتی نظام کو جس نظر سے دیکھا ہے، اسے اب بدلنے کی فطری اور انقلابی خواہش رکھتے ہیں۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصورعلی شاہ کے حالیہ فیصلوں میں مستقبل کے ایک موثر ترین چیف کا عکس نظر آتا ہے اور ابھی انکے پاس کام کرنے کے لئے چھ سال باقی ہیں۔

انہوں نے ماضی میں ایسے مجاہدانہ کام کئے تھے جو انکے عزائم اور راست گوئی کی گواہی دیتے ہیں لہذاچیف جسٹس بننے کے بعدبھی انہوں نے کئی اہم انتظامی فیصلے کئے ہیں جوبسااوقات وکلا ءحضرات کو کھلتے بھی ہیں۔وہ بار اور کورٹ کے درمیان ڈسپلن اور پروٹوکول کو قائم رکھنے بالخصوص معزز جج صاحبان کے ساتھ کسی وکیل کی بدتمیزی اور کسی کمزور اور بدعنوان جج کو برداشت کرنا سسٹم کی کمر میں چھرا گھونپنے کے مترادف سمجھتے ہیں،  اسی وجہ سے انہوں نے ججوں کی مانیٹرنگ کا نظام بھی سخت کردیا ہے اور بار کو باور کرارہے ہیں کہ ان کا اصل کام کیا ہے ۔چیف جسٹس سید منصور علی شاہ سے امید کی جاسکتی ہے کہ سائلین کو اپنے شہروں کے قریب ترین انصاف مہیاہوگاتوانہیں ذلیل و خوارہونے سے نجات مل جائے گی،ان کی نسلیں جوانی میں ہی عدل حاصل کرسکیں گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *