اکیسویں صدی کے تعلیمی چیلنج

Afshan Huma

کل اسلام آباد کے ایک سکول میں انتہائی اہم مو ضوع زیر بحث تھا۔ مجھے ان اساتذہ اور پرنسپل صاحبان سے ان کو درپیش مسائل پر گفتگو کرنا تھی۔ ایک بات جو میں نے گفتگو کے آغاز ہی میں بیان کر دی وہ یہ تھی کہ ہم اکیسویں صدی کے مسائل کو گزشتہ صدی کی کاوشوں سے الگ رکھ کر نہیں دیکھ سکتے۔ بیسویں صدی کے اوائل تک تعلیم ہر بچے کا حق نہیں سمجھا جاتا تھا۔ یہ ایلیٹ کلاس کے لئے مہیا کی جانے والی ایک ایلیٹ سروس تھی، غریب علاقوں میں یہ سہولت نہیں برائے نام کیا جانے والا ایک تکلف تھا۔ یہ ۱۹۵۷-۵۸ کا دور تھا جب امریکہ میں بلیک اور وائیٹ سکولوں کو یکجا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ معاشرتی اقدار کو ایک کھلا چیلنج تھا۔ وہ تمام تاریخی واقعات جو ہم نےتعلیمی  دنیا میں اس کے بعد دیکھے انہوں نے اکیسویں صدی  کے آتے آتےجہاں "تعلیم سب کے لئے" عام کر دی وہاں ان سکولوں کو ایک چیلنج بھی دیا۔وہ یہ کہ آج کمرہ جماعت میں مختلف طبقات اور علاقوں سے آنے والے بچے موجود ہیں۔ پاکستان کہ کہانی کچھ حد تک اس تاریخ سے ملتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ ایک طرف تو ہم نکلے تھے تعلیم کو بنیادی حق قرار دے کر سب کے لیے یہ سہولیات ممکن کرنے لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ  ہم نے پاکستان میں گزشتہ دس سے پندرہ سالوں میں پرائیویٹ سکولوں کو جس تعداد سے بڑھتے دیکھا ہے یہ اس سے پہلے کبھی سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔

سوال یہ ہے کہ ان سکولوں نے ہمیں تعلیمی مسائل کا حل دیا ہے یا ان میں مزید اضافہ کر ڈالا ہے۔ یہ پرائیویٹ ادارے اپنے تئیں تین درجات میں بٹے ہوئے ہیں۔ ایک وہ ادارے جو گلی محلوں میں موجود ہیں جن میں سے کئی ایک تو مکانوں میں کیا دکانوں میں بھی قائم ہیں، اور دوسرے وہ جو درمیانے درجے کے عوامی سکول کہلائے جانے چاہئیں۔ یہ اکثر کو ٹھیوں میں کھولے جاتے ہیں، حسب توفیق تعلیم و تدریس کی سہولیات سے مزین ہیں اور کچھ نہ کچھ حد تک استعمال بھی کرتے ہیں۔ اس کے بعد اول درجے کے وہ ادارے ہیں جو نہ صرف ایک معیاری نصاب کو انتخاب کرتے ہیں بلکہ تمام بینالاقوامی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ایسی تعمیرات بھی کرتے ہیں جو خصوصا" تعلیم ضروریات کو مد نظر رکھ کر ڈیزائن کی گئی ہوں۔ سرکاری سکول ان سب سے الگ اپنی ایک داستان رکھتے ہیں اور انہیں بھی کم و بیش ایسی ہی درجہ بندی میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

ان تمام اداروں کے ہوتے ہوئے سوال یہ ہے کہ آج بھی ہم سو فیصد بچوں کو تعلیم ی سہولیات مہیا نہیں کر پائے۔ آج بھی مختلف ذرائع کے مطابق کم از کم تیس سے چالیس فیصد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ اکیسویں صدی میں ہم ان چند ممالک میں ہیں جو اب بھی اس کوشش میں ہیں کہ کس طرح بنیادی تعلیم لازمی کی جائے۔ یہ ممکن بھی کس طرح ہو۔میں اسلام آباد کے جس علاقے میں مقیم ہوں یہاں سامنے ہی ایک کچی بستی ہے، یہاں پیدا ہونے والا ہر بچہ ایک عجیب و غریب تقدیر لے کر آتا ہے۔ پانچ سال تک تو آدھے ادھورے کپڑے پہنے گلی محلوں میں بے وجہ گھومتا ملتا ہے کیونکہ اس کے والدین کہیں نہ کہیں کام کی غرض سے مصروف ہوتے ہیں اور بچے پیدا کرنے سے پہلے سوچنا پسند نہیں کرتے کہ اس انسانی زندگی کو دنیا میں لانے کا کیا فائدہ کیا نقصان۔ اس کے بعد یہ بچے مختلف چوک میں گاڑیاں صاف کرتے، بھیک مانگتے اور کیا کیا کرتے دکھائی نہیں دیتے۔

اب آتے ہیں ان بچوں کی طرف جو سکولوں میں موجود ہیں۔ ٹیچرز اور اساتزہ کے مطابق ان کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہر بچے کے والدین صرف یہی چاہتے ہیں کہ ان کے بچے کا اے گریڈ آنا چاہئے، وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نصابی سرگرمیوں اور مختلف خواص میں ان کا بچہ دوسرے بچوں سے بھی بہتر ہے لیکن ان کو صرف اور صرف گریڈز سے غرض رہتی ہے۔ ہم اگر زرا غور کریں تو یہ روش بھی ہم نے خود ہی ڈال رکھی ہے۔ ہر سال میٹرک اور او لیولز کے رزلٹ پر ان اداروں کے باہر بینر لگائے جاتے ہیں کہ کتنے بچوں نے اے گریڈ لیا، ان بچوں کی تصاویر اور نام بھی نمایاں کیے جاتے ہیں۔ کیا ہم نے کبھی کسی سکول کے باہر ان بچوں کے بینر دیکھے ہیں جنہوں نے غیر نصابی یا ہم نصابی سرگرمیوں میں نمایاں کار کردگی دکھائی ہو۔ کیا ہم نے کبھی داخلے کے وقت یہ اشتہار لگا دیکھا کہ اس سکول میں آپ کا بچہ زمہ دار شہری بننا سیکھے گا یا بہتر زندگی گزارنے کے ہنر سے آراستہ کیا جائے گا۔ شاید اسی لئے سر کین رابن سن کہتے ہیں "سکول تخلیقی ہنر کو مار دیتے ہیں" کیونکہ در حقیقت سکول صرف اور صرف نصابی روبوٹ پیدا کر رہے ہیں۔

مجھے لگتا ہے کہ ہم اکیسویں صدی تک تو پہنچ ہی پا رہے۔ ہمیں تو ابھی تک اس بات پر ہی یقین نہیں آ رہا کہ آنے والے سالوں میں تعلیم زیادہ سے زیادہ ٹیکنالوجی پرشفٹ ہو جائے گی۔ کتاب، قلم، کاغذ اکیسویں صدی کے مسائل نہی ہیں۔ بہترین تعلیمی وسائل آج ایک کلک پر موجود ہیں لیکن ہم اپنے بچوں کو انٹرنیٹ سے دور رکھنے کے طریقے سوچ رہے ہیں۔ تعلیمی سہولیات کے لئے سکول تعمیر کرنے کی بجائے ہم یہ سوچتے ہی نہیں کہ تعلیم بچوں کے گھروں میں پہنچ چکی ہے۔ ہم ابھی بھی نصابی کتب کو صوبائی سطح پر پلان کرنے کے لئے سوچتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ کیوں نہ سکولوں میں مہیا کرنے کے لئے ایک سے زائد کتابی و غیر کتابی زرائع دینے کا کیا طریقہ ہو گا۔ ہمارے ہاں اب تک یہ مسئلہ درپیش ہے کہ تعلیم اردو میں دی جائے کہ انگریزی میں۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ گلوبل ولیج کے شہری کو بہتر کمیونیکیشن سکلز کیسے دی جائیں۔ آزادانہ سوچ اور تنقیدی تجزیہ کے الفاظ ہمیں بے حد پسند ہیں لیکن تنقید تو دور کی بات ہم کسی کے سوال اٹھانے پر ہی اس کو بد اخلاق قرار دے دیتے ہیں اور اگر کوئی ٹیچر ایسا کر گزرے تو وہ شاید غدار، بے دین اور ایجنٹ قرار پائے۔

ہمیں ضرورت ہے یہ سمجھ لینے کی کہ آنے والے دور میں خاندانی اور گروہی ترتیب بدلنے والی ہے۔ بچوں کے دوست سمندر پار بھی ہوں گے اور وہ شاید ساتھ والے گھر کے افراد کے نام بھی نہ جانتے ہوں۔ ایسے دور میں تین طرح کی تعلیمی ضروریات  پوری کرنا ہمارا کام ہے۔ ایک وہ جو بچے کیذاتی زندگی کے لئے معلولمات اور ہنر مہیا کریں، دوسری وہ جو اسے اپنے ملک اور قوم کے لئے کار آمد بنائیں اور تیسری وہ جو اسے بین القوامی سطح پر بھی زمہ دارشہری ہونے میں معاون ثابت ہوں۔ نہ صرف اپنے جیسے لوگوں کے لئے بلکہ وہ اپنے سے مختلف لوگوں کے لئے بھی وہی محبت اور انسانیت کا جزبہ رکھے۔ وہ ایسے ہنر لے کر تعلیم مکمل کرے کہ وہ نوکری ڈھونڈنے والا نہیں بلکہ کام کرنے والا زمہ دار شہری بن سکتا ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *