مرد مومن مرد حق۔۔۔۔

khurrum butt

گہری نیند سونے کامزا تو اپنی جگہ لیکن صبح آنکھ کھلنے کے باوجود آنکھیں بند کر کے بستر پر کسمسانے کا جو مزہ ہے میرے نزدیک اسکا شاید ہی کوئی اور نعم البدل ہو ۔ایسا اب سے نہیں بچپن میں امی جی اور بڑی بہنیں مجھے جگانے کے لیے میرے سر کے بالوں میں انگلیاں پھیرا کرتی تھیں۔ لیکن بیگم صاحبہ نے آن کر کچھ ماہ بعد ہی یہ آسان طریقہ ڈھونڈ نکالا کہ صبح جب جگانا مقصود ہو میرے سرہانے تازہ اخبار رکھ کر صرف یہ فرما دیتی ہیں کہ اخبار آ گیا ہے ۔ اور میں جھٹ سے آنکھیں کھول دیتا ہوں ۔اور متوقع خیالی مسنگ کا خوف دل میں لیے اخبار کی ورق گردانی میں مصروف ہوجاتا ہوں۔ آج بھی یہی عمل جاری تھا کہ کہ اچانک اخبار کے ایک صفحہ پر شائع رنگین اشتہار پر نگاہ مرکوز ہو گئی۔اگرچہ اشہتارات کا اخبارات میں چھپنا کوئی غیر معمولی بات نہیں لیکن یہ اشتہار مجھے غیر معمولی لگا۔ اور اسکی بنیادی وجہ یہ تھی کہ کہ اس بڑے سائز کے رنگین اشتہار کو شائع کروانے والے کا نام درج نہیں تھا۔عام طور پر اس قسم کے اشتہاروں کے پیچھے مقصد موضو ع کے ساتھ ساتھ زاتی تشہیر بھی ہوتا ہے۔لیکن اس اشتہار میں منجانب نام کی کوئی شے نہیں تھی۔کوارٹر صفحہ کے اس اشہتار میں ایک بڑی سی سابق صدر پاکستان جنرل ضاء الحق کی تصویر تھی۔اوپر لکھا تھا سترہ اگست یوم شہدائے بہاولپور۔ بعد نماز عصر شہید صدر محمد جنرل ضیاء الحق کے مزار پر قرآن خوانی۔اور اجتماعی دعا۔۔نیچے لکھا تھا جنرل محمد ضا ء الحق شہید کا مشن ہر پاکستانی کا مشن۔۔اس کے نیچے فیصل مسجد کی تصویر تھی اور ساتھ عوام کا جم غفیر۔ اگرچہ یہ ایک عام سا اشتہار تھا لیکن کسی بھی برسی کے اشتہار کے نیچے پس ماندگان کا نام یا سوگواران کا نام درج ہونا فطری سی بات ہے لیکن یہ اشتہار ان ناموں سے عاری تھا۔ حتی کہ محبان ضیا ء الحق جیسا بھی کوئی لفظ نہ درج تھا جس سے یہ آگاہی ہو جاتی کہ در اصل مشتہر کون ہے اور یہی وہ وجہ تھی کہ میری نظریں اس اشتہار پر ٹک گئیں اور میرے زہن میں ماضی کی گویا ایک فلم سی چلنے لگی۔
جنرل ضیا الحق کی صدارت کا دور تھا ۔ پرائیمری کی طالب علمی کے اس دور میں ہم راولپنڈی لالکڑتی جسکا نام بعد میں طارق آباد رکھ دیا گیا پر واقع فیڈرل سکول سے گھر آتے ہوئے سی ایم ایچ کے اندر سے گزرت ہوئے بائیس نمبر چوک پر آ نکلتے تھے ۔سی ایم ایچ کے بیرون گیٹ پر سیکیورٹی کے فرائض کی ادائیگی کے لیے بہت بڑی مونچھوں والا باوردی فوجی تن کر کھڑا ہوتا تھا۔ تیل لگی اسکی مونچھیں دھوپ میں لشکارے مارا کرتی ۔اس دور میں ہسپتال کے مختلف بڑے دروازوں پر ایسی ہی بڑی مونچھوں والے فوجی ہی تعینات ہوتے تھے۔۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کچھ شرارتی بچے گیٹ کراس کرنے کے بعد زور سے نعرہ لگاتے۔۔۔ڈنگی مچھ تے کانڑی اکھ۔۔۔ اور بھاگ کھڑے ہوتے۔۔مونچھوں والا فوجی انکو ڈرانے کی غرض سے ناگواری میں چند قدم انکے پیچھے بھاگتا اور پھر واپس ہو لیتا۔۔اسکی خراب ہوئے موڈ کے پیش نظر پیچھے آنے والے بچے اسکی متوقع ڈانٹ سے بچنے کے لیے با آواز بلند نعرہ بلند کرتے ۔۔۔مرد مومن مرد حق ۔۔۔ضیا اء لحق ضا ء الحق۔۔۔یہ نعرہ سن کر وہ فوجی مسکرانے لگتا اور ۔۔اور ہم پیچھے رہ جانے والے بچے فخریہ انداز میں بیرونی گیٹ پار کر لیتے۔۔۔یہ تقریبن روزانہ کا ہی معمول تھا۔ اب میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ وہ منفی نعرہ لگانے والے بچوں کا تعلق شاید پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے گھرانوں سے ہو گا ۔ وقت کا پہیہ چلتا رہا اور ایک دن اٹھارہ انچ کے رنگین ٹی وی کے گرد ہم بہن بھائی جمع تھے ۔ ٹی وی کی سکرین پر ہزاروں افراد کا جلوس ایک میت اٹھائے جا رہا تھا۔اورصدا بلند ہو رہی تھی ۔۔پڑھو لا الہ الاللہ۔۔۔پڑھو ۔۔لا الہ الاللہ۔۔۔۔یہ جنرل ضیا الحق کا جنازہ تھا۔ بہت بڑا مجمع تھا کہ تل دھرنے کو جگہ نہ تھی ۔اظہر لودھی کی رندھی ہوئی آواز نے ہم سب پر رقعت طاری کر رکھی تھی۔ کم سنی کا دور تھا میں مجھ سے بڑا بھائی ارشد اور بڑی دو بہنیں آنکھوں میں آنسو لیے وہ مناظر دیکھ رہے تھے جبکہ امی کچن میں مصروف تھیں۔ اظہر لودھی کے نوحے کلیجہ پھاڑ رہے تھے ۔کم سنی کے اس دور میں پرایا جنازہ دیکھ کر شاید میں پہلی مرتبہ رویا تھا۔ اور اسکی وجہ جنازہ سے زیادہ اظہر لودھی کی وہ رندھی ہوئی آواز میں وہ مرثیے تھے جن میں وہ جنرل ضیا کو اسلام کا ایک سپاہی اور اسلامی جمہوریہ پاکستان اور مسلم امہ کا ایک عظیم سپوت قرار دے رہے تھے۔میرے کچے زہن پر بھی اسلام کے اس عظیم سپوت کی ناگہانی شہادت کے اس سرکاری و عوامی جنازے نے گہرا اثر ڈالا تھا۔ ایسے میں امی نے کچن سے جھانکتے ہوئے کہا تھا کہ کیوں رو رہے ہو ایک دن سب کو مرنا ہے اس نے بھی بھٹو کو پھانسی لگوایا تھا۔۔لیکن ہماری آنکھیں نم ہی رہیں ،،ہم نے بھٹو کا صرف نام ہی سنا تھا ۔۔کہا جاتا ہے کہ جنرل ضیاء کا جنازہ پاکستان کی تاریخ کا ایک بڑا جنازہ تھا جس میں لاکھوں افراد شریک ہوئے تھے۔ ۔وقت کا پہیہ چلتا رہا
تعلیم کے دوران ہی میں نے فوٹو گرافی سیکھنے کی غرض سے مغل فوٹو سٹوڈیو جوائن کر لیا اور پھر اتفاق سے 1995میں ایک اردو اخبار میں بطور فوٹو گرافر نوکری بھی مل گئی ۔یہ وہ دور تھا جب اگست کا مہینہ نزدیک آتے ہی پورے شہر میں ضاء الحق کے پوسٹر اور انکی برسی کے حوالے سے بینرز آویزاں ہو جاتے تھے۔ سترہ اگست کو راولپنڈی سے مسلم لیگ ن کا ایک بہت بڑا جلوس اسلام آباد روانہ ہوتا۔جس کے انتظامات میں سینٹر چوہدری تنویر ،شیخ رشید احمد سمیت مسلم لیگ کی قیادت بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھی۔ہر مسلم لیگی رہنما حصہ بقدر جثہ راولپنڈی سے اسلام آباد تک کے جلوس کے راستوں میں ضیا ء الحق سے اپنی محبت کے والہانہ اظہار کے لیے بینر پوسٹر لگواتا جسکے نیچے اسکا نام اور پارٹی عہدہ درج ہوتا جو اعلی قیادت تک اسکی حاضری لگوانے کا سبب بنتے۔فیصل مسجد میں بہت بڑا جلسہ ہوتا ۔جس سے ن لیگ کے روح رواں نواز شریف اور جنرل ضاء کے صاحبزادے اعجا زلحق کا روح پرور خطاب ہوتا جس میں وہ جنرل ضاء الحق کے ادھورے مشن کے دعوے اور وعدے کرتے۔شیخ رشید وغیرہ کے بھی چابلوسی پر مبنی چکنے خطابات سامعین کی سماعتوں میں رس گھولتے۔۔۔وقت کا پہیہ چلتا رہا۔۔ مرد مومن مرد حق کا نعرہ معدوم ہوتا گیا۔
نواز شریف ۔بے نظیر۔ نواز شریف ،مشرف ۔زرداری ۔۔۔کئی ادوار گزرتے رہے ضیا ء الحق کی برسی کا جلسہ چھوٹے سے اجتماع اور پھر محض ہلکی پھلکی فاتحہ خوانی تک محدود ہو گیا ۔۔۔اور آج پھر ایک مرتبہ نواز شریف کا دور حکومت ہے جنکی سیاسی زندگی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ضیا ء ال حق کی پیداوار ہیں لیکن اب پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہ چکا ہے قومی و بین الاقوامی حالات بدل چکے ہیں ۔ آج اشتہار میں منجانب کا نام و نشان تک نہ پا کر میں سوچ رہا تھا کہ وقت کتنا ظالم ہے۔۔تاریخ کیسا انتقام لیتی ہے۔۔ ۔منقول ہے کہ جنرل ضاء الحق امیر المومنین کہلوانا پسند کرتے تھے۔ افغانستان میں روس کے خلاف امریکی پیدا کردہ جہاد کے روح رواں تھے ۔ قومی اداروں میں امام کی پوسٹ اور سکولوں میں قاری و حفاظ کی بھرتیاں انہیں کے دور میں ہوئیں۔پی ٹی وی پر پانچ وقت کی ازان نشر ہونا اور خواتین اینکرز کا دوپٹہ اوڑھنا لازم تھا۔ پی ٹی وی پر بصیرت،فہم القرآن اور فرمان الہی جیسے پروگرام انہی کی فرمائش تھی ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کے دور حکومت میں مہنگائی کے بڑھنے کی شرح بہت کم تھی ۔ جنرل ضیا ء نے کیا اچھا کیا کیا برا کیا اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اس پر بحث نہیں۔لیکن وقت بہت ظالم ہے۔تاریخ کا سبق جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں انکی پالیسیوں کی حمایت کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔ تاریخ ہمیں بتا رہی ہے کہ مرد مومن مرد حق کے اس نعرہ کو حتمی نہیں سمجھا گیا۔۔ تاریخ نے ہمیں یہ بتایا کہ ڈکٹیٹر جیسا بھی ہو اسکے نام لیوا کم رہ جاتے ہیں۔۔ ۔۔۔ اور سبھی کو ایک نا ایک دن اس دنیا فانی سے کوچ کر جانا ہے ۔۔۔تاریخ کا سبق تلخ ہے ۔۔۔۔۔وقت بہت ظالم ہے۔۔۔۔ آج مر مومن مرد حق کی اٹھائیسویں برسی کے انعقاد کے اشتہار پر منجانب کی جگہ خالی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *