حکومت کیخلاف احتجاج

Haq Nawaz Jillani

کیا ڈاکٹرطاہر القادری کی عوامی تحریک کا احتجاج‘ سو شہروں میں بے معنی رہا؟ کیا اس احتجاج کا مقصد حکومت کو گرانا یا حکومت کے خلاف سازش ہے؟کیا عوامی تحریک کے مطالبات بے جا اور بے معنی ہے؟ کیا ماڈل ٹاؤن لاہور میں14 شہید ہونے والوں کی ذمہ داری پنجاب حکو مت پر نہیں آتی؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ جان بوجھ کر یہ آپریشن کرایا گیا تھا؟کیا شہید ہونے والوں کی کوئی مالی امداد کی گئی ہے؟ بدقسمتی سے ان سب سوالوں کا جواب نفی میں ملتا ہے جبکہ حکومت کو اپنی گوتاہی نظر ہی نہیں آتی اور ہر مسئلے کے پیچھے حکومت کے خلاف سازش قرار دیتے ہیں اور اس سازش کی ٹوپی عسکری اداروں کے سرڈالی جاتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ عسکری قیادت حکومت سے دور رہ رہی ہے تاکہ نام نہاد جمہوریت چلتی رہے،فوجی قیادت بھی یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ مارشل لاء مسئلہ کا حل نہیں ہے۔جمہوری حکومت کیسی بھی ہواس کو چلنا چاہیے تاکہ عوام کوحقیقی معنوں میں ان سیاست دانوں کے روپ نظر آئے جوعوام کے نام پر حکومت کرتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ بدترین نااہلیوں اور بیڈ گورننس کے باوجود پیپلز پارٹی کی حکومت کو پانچ سال پورے کرنے دیے گئے اوربعدازاں الیکشن میں ان کو بہت زیادہ ناکامی ملی ۔ یہ الگ بات ہے کہ موجود نون لیگ حکومت نے ان کے ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں۔بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ پیپلز پارٹی میں جمہوری سوچ ہونے کی وجہ سے مسائل پراحتجاج کرنے والوں کی کم ازکم شنوائی ہوتی تھی ، یہی ڈاکٹر طاہر القادری کا دھرنا اسلام آباد میں ان کے دور حکومت کے آخری دنوں میں ہوا جس کو پیپلز پارٹی حکومت نے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر تیسرے دن ہی مذ اکرات کے ذریعے ختم کیا اور ان کو ایک کاغذ کا ٹکڑا ہاتھ میں دھما دیا۔مزے کی بات یہ ہے کہ اس وقت بھی ہمارے جمہوریت پسند اور اپنے ذات میں ڈکٹیٹرحضرات قادری صاحب کے احتجاج کو حکومت کے خلاف فوج کی سازش قرار دے رہے تھے۔میڈیا میں بھی ان کے خلاف پروپیگنڈا کیا جارہاتھا جس طرح آج حکومت کے خلاف احتجاج کو فوج کی حکومت کے خلاف سازش اور خراب تعلقات کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔حکومت اور فوج کے درمیان تعلقات خراب ہونے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ فوج حکومت کا خاتمہ احتجاج کے ذریعے کرنا چاہتی ہے۔حکومت اور فوج کے درمیان خراب تعلقات کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ حکومت ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا نہیں کررہی ہے۔ایک طرف بھارت اور افغانستان کی طرف سے شدت پسندوں اور دہشت گردوں کی سپورٹ ہورہی ہے جس کی وجہ سے بے گناہ لوگ مرتے ہیں تودوسری جانب حکومت ملک کے اند ر پا ناما لیکس کا مسئلہ ہو یا عوامی تحریک کے شہداء کا، جس پر مجبور ہوکر طاہر القادری نے احتجاج شروع کیا اور حکومت سے قاتلوں کا حساب ما نگ رہے ہیں لیکن حکومت حساب دینے کے بجائے اس کو سازش قرار دے رہے ہیں۔ یہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ ماڈل ٹاؤن میں قتل عام کے بعد وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے کہا تھا کہ اگر مجھے قصوار ٹھہرایا جائے تو میں ایک منٹ میں کرسی چھوڑ دوں گا۔ خدا کی لاٹھی‘ کہتے ہیں کہ بے آواز ہوتی ہے جو کمیشن خود حکومت نے بنایا تھا جس میں قادری صاحب کا کوئی بندہ بھی حاضر نہیں ہوا تھا ، پنجاب حکومت اور وزیراعلیٰ کو ہی قصوروار ٹھہرادیا ، اس رپورٹ کو منظر عام پر نہیں لانے دیا گیا لیکن وزیراعلیٰ اور اس کی حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی ، وزیراعلیٰ شہباز شریف نہ خود مستعفی ہوئے اور نہ ہی کسی اورکو سزا دی گئی جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہیں کہ ایک طرف نون لیگ کی و فاقی حکو مت پاناما لیکس پر احتساب اور تفتیش کیلئے تیار نہیں تو دوسری طرف نون لیگ کی پنجاب حکومت نے ماڈل ٹاؤن سانحے کو حادثہ قرار دے کر خاموش ہوئی جس کی وجہ سے عوامی تحریک اور پی ٹی آئی کے کارکنوں سمیت عام آدمی بھی ان کے احتجاج میں شریک ہو رہاہے کہ حکومت معا ملات کو حل نہیں کررہی ہے۔ آج تو نون لیگ کی حکومت ہے ، وفاق اور پنجاب میں بھی سیاہ و سفید کے مالک ہے ، کوئی بھی احتجاج کے سوا ان کے خلاف کچھ نہیں کر سکتا ، اس احتجاج کو روکنے کیلئے بھی حکومت تمام وسائل بروئے کار لاتی ہے لیکن اس کے باوجود احتجاج ہوتا ہے ، دوسرا آج حکومت اپنے پاور کے زور پر جوابدہ نہ ہو لیکن کل جبکہ کسی آور کی حکومت آئے گی تو میاں برادران ان ایشوز سے بچ پائے گی ؟ ان کا حساب ان کو دینا ہوگا ، مجھے محسوس ہورہاہے کہ شاید میاں برادران کا پا کستان میں حکومت کا یہ آخری موقع ہے اس کے بعد یہ لوگ بھی دبئی اور لندن میں مکمل طور پر شفٹ ہوجائیں گے۔ ابھی تو صرف سال میں پانچ، چھ مہینے ملک سے باہر بچوں کیساتھ عید وغیرہ میں بھی گزارتے ہیں لیکن ان کا اقتدار کا سورج غروب ہونے کو ہیں جس طرح ساڑھے تین سال گزر گئے اس طرح باقی عرصہ بھی گزر جائے گا لیکن ان کو اپنے اعمال اور طرز حکمرانی کا جائز ہ ضرور لینا چاہیے تاکہ ان کو معلوم ہو سکیں کی خیبر سے کراچی تک سب جگہوں پر احتجاج ہورہاہے لیکن اس احتجاج پر غور اور دادرسی کرنے کے بجائے حکومت اس کو فوج کی سازش قرار دے رہے ہیں۔بہتر حکومت وہ ہوتی ہے جہاں عوام کی دادرسی ہو ، جہاں احتجاج کرنے والوں کے مطالبات پر غور اور ان پر عمل ہوتا ہو لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ملک بھر میں حکومت کے خلاف احتجاج ہوتا ہے لیکن حکومت ٹس سے مس ہونے کیلئے تیار نہیں اور اس کو سازش قرار دیکر عوام کو بے وقوف بناتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *