چشم تصور کی حیرانی

الطاف حسن قریشی38290933_1342093801.gif

میں 13؍اگست کی شام کالم لکھنے بیٹھا ہوں اور ملکی صورتِ حال لحظہ بہ لحظہ تبدیل ہو رہی ہے۔ مجھے نہیں خبر کہ اسلام آباد جو ہمارا دارالحکومت ہے ، اِس میں یومِ آزادی کس رنگ میں منایا جائے گا۔ شہر جذبوں اور ولولوں سے معمور ہو گا یا ’’بلاؤں‘‘ کے خوف سے گلیاں اور سڑکیں سنسان ہوں گی اور شہریوں کا تحفظ خندقوں اور کنٹینروں سے کیا جائے گا اور پولیس والے سینہ تانے کھڑے ہوں گے یا رینجرز شہر کا گشت کر رہے ہوں گے۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ جناب عمران خاں کو درپردہ سمجھانے کی جو کوششیں ہو رہی ہیں ، وہ کتنی کامیاب ہوں گی اور وہ ’’آزادی مارچ‘‘ کو جشنِ آزادی میں تبدیل کرنے پر آمادہ ہو گئے ہوں گے یا اِس کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد کو محاصرے میں لے چکے ہوں گے۔ میں کوئی سیاسی نجومی یا پنڈت نہیں کہ یہ مقام تو غیر معمولی ریاضت کے بعد حاصل ہوتا ہے ، البتہ علم السیاست کے ایک طالب علم کی حیثیت سے اپنی چشمِ تصور سے کام لے سکتا ہوں اور آنے والے مناظر کو ذہنی گرفت میں لانے کی ایک سنجیدہ کوشش کر سکتا ہوں۔ ’’سنجیدہ‘‘ کا لفظ میں نے بہت غوروخوض کے بعد استعمال کیا ہے ، کیونکہ مجھے اپنے چاروں طرف ’’سنجیدگی‘‘ کا فقدان محسوس ہو رہا ہے۔ ہمارے حکمران بھی عام طور پر غیرسنجیدہ نظر آتے ہیں اور ہمارے قانون ساز اُن سے بھی کہیں زیادہ غیر سنجیدہ ہیں۔ پارلیمان کے دونوں ایوان اُن کی راہ تکتے رہتے ہیں۔ مزید تشویش کی بات یہ کہ جس روز بڑے اہم ایشوز پر بحث ہونا ہوتی ہے ، اُس روز بیشتر وزرائے کرام غیر حاضر ہوتے ہیں کہ مسائل کی تمازت اُن تک پہنچ نہ جائے اور اُن کی پُر لطف اور پُرتعیش زندگی میں خلل نہ پڑ جائے۔ اُن کی اِسی بے تعلقی اور غیر سنجیدگی سے کاروبارِ مملکت ڈھیلے پڑتے جا رہے ہیں ، عوام زندگی کے جھمیلوں میں پھنس گئے ہیں اور اپنی منتخب حکومتوں سے بری طرح مایوس ہیں۔ ستاروں پر کمند ڈالنے سے پہلے وہ اُن جگنوؤں کی تلاش میں ہیں جو اُن کے غم کے اندھیروں میں تھوڑا سا اُجالا کر سکیں اور اُنہیں ننھی ننھی روشنیوں کی خوشیاںعطا کر سکیں۔
میں نے چشم تصور میں دیکھا کہ حضرتِ غالبؔ بڑے اُداس لہجے میں کہہ رہے ہیں
ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار
یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے
میں نے غور سے دیکھا ، تو اُن کے پہلو میں جناب نوازشریف بیٹھے تھے جو اِن دنوں وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز ہیں۔ اُن کو اِس منصب سے ہٹانے کے لئے انتخابات میں ووٹوں کے اعتبار سے دوسری پوزیشن پر آنے والی جماعت کے چیئرمین جناب عمران خاں پہلو بدل بدل کر بائولنگ کر رہے ہیں۔ نوازشریف اُن کی طرف سے حقیقی خطرہ محسوس کرنے کے باوجود اپنی وضع داری پر قائم رہے۔ انتخابی مہم کے دوران عمران خاں دس بارہ فٹ اونچی اسٹیج سے نیچے گرے، تو موت سے بال بال بچے، نوازشریف اُن کی عیادت کے لئے گئے اور ایک روز کے لئے اپنی انتخابی مہم بند رکھی۔ انتخابات میں نوازشریف فتح یاب ہوئے ، تو عمران خاں نے اُنہیں مبارک باد دی اور یوں رواداری کا ایک خوشگوار سلسلہ شروع ہوا۔ عمران خاں کے یاد کرنے پر وزیراعظم اُن کے گھر ملنے گئے اور یہ وعدہ کر کے آئے کہ مذاکرات کے ذریعے تمام ایشوز حل کیے جا سکتے ہیں۔ عمران خاں انتخابات میں دھاندلی کی شکایت قدرے بلند آواز میں کرنے لگے تھے ، تاہم جمہوریت کے تسلسل پر اپنے ایقان کا اظہار بھی کر رہے تھے۔ اُنہوں نے تجویز پیش کی کہ چا ر حلقوں کی دوبارہ گنتی کرالی جائے اور اگر اُن میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئیں ، تو اُن کی روشنی میں آئندہ کے لئے انتخابی نظام کے اندر اصلاحات کر لی جائیں۔ یہ ایک بڑی ہی معقول تجویز تھی ، مگر حکومت نے اِس کے بارے میں غیر سنجیدہ طرزِعمل اختیار کیا جس نے بے اعتمادی کو جنم دیا۔ آگے چل کر اُن کی طرف سے یہ مطالبہ بھی سامنے آیا کہ عدالتِ عظمیٰ کے جج صاحبان سے دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کرالی جائے ، لیکن حکمران طبقے نے سنی اَن سنی کر دی۔ سیاسی معاملات میں ٹائمنگ سب سے اہم عنصر شمار ہوتا ہے اور اب وقت ہی حکومت کے خلاف ہے۔ وزیراعظم نے تاخیر سے دھاندلی کی تحقیقات کیلئے عدالتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے اور اُنہوںنے دوبارہ عمران خاں سے ملنے اور معاملات طے کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے ، مگر عمران خاں بہت آگے نکل گئے ہیں۔ اُنہوںنے وزیراعظم سے مستعفی ہونے اور سپریم کورٹ سے ایک نگران ٹیکنو کریٹ حکومت قائم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ یہ ایک دوسری انتہا ہے جس کی آئین اور قانون میں کوئی گنجائش نہیں۔ عمران خاں نے اپنی پریس کانفرنس میں دھاندلی کے جو الزامات لگائے ہیں ، اُنکا ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اِس طرح اُن کا پورا موقف منطق اور توازن سے ہٹا ہوا نظر آتا ہے جس کے باعث اُن کی جماعت کے اندر دراڑیں پڑنا شروع ہو گئی ہیں۔
میں اپنی چشم تصور سے دیکھ رہا ہوں کہ عمران خاں اپنے جتھوں کے ہمراہ اسلام آباد کی طرف کوچ کر رہے ہیں اور اِس کے اندر داخل ہو گئے ہیں ، البتہ میں علامہ طاہر القادری اور اُن کی فوج کو دارالحکومت پر یلغار کرتے ہوئے نہیں دیکھ رہا ہوں۔ وزیر اعظم نے امیر جماعت اسلامی جناب سراج الحق کے مشورے پر عدالتی کمیشن تشکیل دینے کا اعلان بھی کر دیا ہے اور عمران خاں کو آزادی مارچ کی اجازت بھی دے دی ہے۔ یہ دونوں اقدامات قومی سطح پر سراہے جا رہے ہیں اور یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ حکومت گزشتہ ایام کے واقعات سے سبق سیکھے گی اور بروقت فیصلوں کی روایت قائم کرے گی۔ دراصل عمران خاں اور حکومت دونوں ہی کی پوزیشن کمزور ہو گئی ہے۔ عمران خاں نے جب علامہ قادری سے پیمانِ وفا باندھا ، تو سنجیدہ حلقوں میں ایک ہلچل مچ گئی کہ تحریکِ انصاف نے ایک ایسی شخصیت پر بیعت کر لی ہے جو اپنی تقریروں میں اپنے فدائین کو قتل کرنے کا لائسنس دیتی ہے۔ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ نے جوشِ خطابت میں یہ بھی کہہ دیا کہ پولیس اگر مزاحمت کرے ، تو ہمارے جتھے اُن کے گھروں میں گھس جائیں اور اُنہیں سبق سکھا دیں۔ اُن کی تقریریں ریاست کے خلاف بغاوت کے زمرے میں آتی ہیں اور حالات کے معمول پر آتے ہی اُن کے خلاف قانون کو حرکت میں آنا چاہیے۔ تحریکِ انصاف نے اُن کے اشتعال انگیز بیانات کی مذمت نہیں کی ، بلکہ اُنہیں گلے سے لگا لیا۔ اِسی طرزِ عمل نے اُس کی سیاسی حیثیت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اِسی طرح لاہور اور پورے پنجاب میںرکاوٹیں کھڑی کر دینے سے حکومت کے خلاف عوام کے اندر شدید ردِعمل پیدا ہوا ہے کہ وہ ایک ہفتے سے ایک ناقابلِ برداشت عذاب کے نرغے میں ہیں۔ حکومت نے سیاسی حکمت عملی اختیار کرنے کے بجائے طاقت کا بے رحم استعمال کیا اور سانحۂ ماڈل ٹاؤن نے اُس کی اخلاقی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
میں چشم تصور سے نوازشریف اور عمران خاں کو گلے ملتا دیکھ رہا ہوں جو ایک خواب معلوم ہوتا ہے۔ اِسی طرح یہ بھی ایک خواب معلوم ہوتا ہے کہ وزیراعظم اپنی کابینہ میں ردوبدل کر رہے ہیں اور پیپلز پارٹی ، جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی کو بھی نمائندگی دے رہے ہیں۔ مجھے یہ بھی ایک سہانا خواب معلوم ہوتا ہے کہ بیوروکریسی کا شکنجہ ٹوٹ رہا ہے۔ جناب وزیراعظم عوامی رائے کو تشکیل دینے والے اداروں اور شخصیتوں کے ساتھ مشاورت کا عمل جس قدر وسیع کرتے جائیں گے ، اُن کی حکومت اِس قدر عوام کی اُمنگوں کی آئینہ دار ہو گی ، البتہ پاکستان کی سلامتی ، امن اور خوشحالی کے لئے سول فوجی تعلقات میں ہم آہنگی بہت ضروری ہے۔ میری چشم تصور ایک عرصے بعد کوئٹہ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پاکستانی پرچم کی بہاردیکھ رہی ہے ،اسلام آباد میں حدِ نگاہ تک جشن آزادی کی ست رنگ آبشاریں بہہ رہی ہیں ، پورے ملک میں نوجوان خوشی سے رقص کناں ہیں ، کراچی میں قائداعظم کا مزار عقیدتوں اور جذبوں کا محور بن چکا ہے۔ آزادی کے نغمے اور ترانے روح میں اُترتے جا رہے ہیں اور عوام آئین ، قانون اور جمہوریت کا پرچم بلند رکھنے کا عزم کر رہے ہیں۔ میں ہنگاموں کے اندر سے خیر اُبھرتا ہوا دیکھ رہا ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *