بشیرا اور میں حکمران کیوں نہیں بن سکتے؟

عطاءالحق قاسمیA_U_Qasmi_converted

ایک خاصا احمق سا گن مین میرا جاننے والاہے، وہ سابق فوجی اور ایک بنک کے باہر بندوق لئے کھڑا ہوتاہے۔ ویسے تو اس کا بے وقوف ہونا اسی سے ثابت ہے کہ اس کے ہاتھ میں بندوق ہے اور وہ لوٹ مار کی بجائے بنک کی حفاظت کررہا ہے، تاہم اس کی بے وقوفی کی تفصیلی وضاحت میں آگے چل کر کروں گافی الحال اس کی حماقت کی صرف ایک مثال ملاحظہ فرمائیں کہ جب کبھی مجھے ملتا ہے کہتا ہے’’میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتائو‘‘ بندہ پوچھے تم نے آج تک خود اپنے لئے کیاکیا ہے جو اب دوسروں سے خدمت کا پوچھنے لگے ہو، میری اس گارڈسے شناسائی بہت پرانی ہے، وہ جس بنک میںگن مین ہے اس کے برابر میں واقع دکان پر میرا ادھار چلتا ہے چنانچہ اس سے آتے جاتے ملاقات ہوجاتی ہے، میں اپنی سائیکل سنگلی سے باندھ کر اس کی نظروں کے سامنے کھڑی کرکے اور اسے اس کا دھیان رکھنے کا کہہ کر دکان میں داخل ہوجاتا ہوں اور واپسی پر کچھ دیر کے لئے اس کے ساتھ گپ شپ بھی لگا لیتا ہوں۔ اس گپ شپ کے دوران میں کتنے ہی لوگوں کو دیکھتا ہوں جو بنک سے باہر نکلتے ہیں تو ان کی جیبیں نوٹوں سے بھری ہوتی ہیں۔ اسی طرح جو لوگ اے ٹی ایم سے پیسے نکلواتے ہیں میں انہیں بھی حسرت بھری نظروں سے دیکھتا رہتا ہوں لیکن میں نے ہر بار محسوس کیا کہ بشیرے کی آنکھوں میں پیسے کے لئے کوئی بھیک نہیں ہے حالانکہ اسے جو تنخواہ ملتی ہے وہ صرف چند ہزار روپے ہے۔ میں نے متعدد بار بشیرے کو’’ٹوہ‘‘ کر دیکھا کہ شاید اس کے دل کے کسی کونے میں ترقی کی کوئی خواہش چھپی بیٹھی ہو، جسے میں باہر نکالوں مگر مجھے اس کے دل کی زمین اس حوالے سے ہمیشہ بنجر نظر آئی چنانچہ میں نے ہر بار اپنے دل کی بات اپنے دل ہی میں رہنے دی اسے زبان پر نہ لایا کہ میں مفت کی بدنامی لینے والوں میں سے نہیں ہوں۔
ایک دن میں نے تہیہ کرلیا کہ باتوں باتوں میں اسے اس منصوبے کی طرف کھینچ کر ضرور لائوں گاجس پر عمل اب ضروری ہوگیا تھا کہ لوگوں کے نوٹوں سے بھرے ہوئے لفافے اور تھیلے اب مجھ سے دیکھے نہیں جاتے ہیں چنانچہ میں نے اسے کہا’’بشیرے !کبھی اخبار پڑھتے ہو‘‘ بولا ’’بنک میں اخبار آتا ہے سب پڑھتے ہیں، آخر میں جب وہ ورقہ ورقہ ہوجاتا ہے میں بھی پڑھتا ہوں‘‘۔
میں نے پوچھا’’تم نے وہ خبر پڑھی ہے کہ ایک گن مین نے اپنے ساتھی کے ساتھ مل کر بنک کے پندرہ کروڑ روپے لوٹ لئے اور واردات کے بعد بڑی آسانی سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے‘‘۔
کہنے لگا’’ہاں پڑھی ہے مگر کیسے گھٹیا لوگ تھے کہ انہیں جس بنک کی حفاظت کرنا تھی وہ اسے لوٹ کر لے گئے‘‘۔
اس پر میں نے دل میں اس احمق شخص کو خوب صلواتیں سنائیں تاہم مصلحتاً منہ سے کچھ نہ بولا، کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد میں نے ایک بار پھر بشیرے کو مخاطب کیا اور کہا ’’بشیرے !تمہیں پتہ ہے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران کئی بااثر لوگوں نے بینکوں کے اربوں روپوں کے قرضے معاف کرائے ہیں؟‘‘
بولا’’ہاں یہ بھی مجھے علم ہے ان میں اور ڈاکوئوں میں کوئی فرق نہیں‘‘
میں نےاس کے اس رویے سے بھی ہمت نہیں ہاری بلکہ میں نے سوچا کہ اشاروں کنایوں میں بات کرنے کی بجائے کھل کر بات کی جائے کہ ممکن ہے یہ بے وقوف آدمی میری بات ہی نہ سمجھ رہا ہو۔
چنانچہ میں نے کہا’’بشیرے !اگر اتنے بڑے بڑے لوگ بینک لوٹ سکتے ہیں جنہیں مزید پیسے کی ضرورت ہی نہیں تو ہم ضرورت مند یہ کام کیوں نہیں کرسکتے؟‘‘
یہ سن کر بشیرا چونکا اور بولا’’تم کہنا کیا چاہتے ہو؟‘‘
میں نے ہمت کرکے کہا’’یہی کہ بندوق تمہاری اور عقل میری، ہم دونوں مل کر یہ بنک لوٹ سکتے ہیں‘‘۔
یہ سن کر غصے سے اس کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ پیشتر اس کے کہ وہ مجھے بندوق کا باٹ مارتا میں نے اداکاری کرتے ہوئے ایک بھرپور قہقہہ لگایا اور اس کے کاندھے پر بے تکلفی سے ہاتھ مارتے ہوئے کہا’’یار بشیرے میں مذاق کررہا تھا، تم سیریس ہی ہوگئے!‘‘ اور وہ احمق یقین کر بیٹھا کہ میں واقعی اس کے ساتھ مذاق کررہا تھا۔
بس اس دن کے بعد سے یہ شخص مجھے زہر لگنے لگ گیا ہے چنانچہ میں نے اس کے ساتھ تعلق صرف چھیڑ چھاڑ یا اپنی سائیکل کی حفاظت کے لئے رکھا ہوا ہے میں اگرچہ سائیکل کو سنگلی باندھ کر دکان میں سودا لینے کے لئے جاتا ہوں مگر ایک دفعہ شاہ عالمی میں میری سائیکل سنگلی سمیت چوری ہوگئی تھی چنانچہ اس احمق بشیرے سے اپنی غرض کے لئے سفارتی تعلقات قائم رکھنا ضروری تھا۔ ایک دن میں سودا لینے دکان پر گیا تو اس وقت بنک بند ہوچکا تھا چنانچہ بشیرا باہر کھلی جگہ اینٹوں کے اوپر پتیلی رکھے چائے بنا رہا تھا۔ یہ سردیوں کی بات ہے اور اس روز یہ زوروں پر تھی، میں نے سوچا کچھ دیر آگ کے پاس بھی بیٹھتے ہیں اور مفت میں چائے کا ایک کپ بھی پیتے ہیں چنانچہ میں بشیرے کے برابر میں دھری کرسی پر بیٹھ گیا جس کا ایک بازو ٹوٹا ہوا تھا۔ میں نے اسے خوش کرنے کے لئے کہا’’بشیرے تو مجھے اتنا اچھا لگتا ہے کہ میرا بس چلے تو میں تجھے پاکستان کا حکمران بنادوں‘‘۔
یہ سن کر بشیرا واقعی خوش ہوا مگر یہ بے وقوف شخص اگلے ہی لمحے کہنے لگا ’’لیکن یار مجھے تو حکمرانی کا تجربہ ہی کوئی نہیں مجھے تو فوج میں دشمن ملک سے لڑنے کی تربیت دی گئی تھی‘‘
یہ سن کر میں نے اپنے ماتھے پر دوہتڑ مارا اور کہا’’یار بشیرے تو بڑا بھولا ہے، حکمرانی کے لئے تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی اس کے لئے بس ہاتھ میں بندوق ہونا ضروری ہے اور وہ تیرے ہاتھ میں ہے‘‘
یہ بات اگرچہ مذاق میں ہورہی تھی اور بشیرا بھی سمجھ رہا تھا کہ یہ سب کچھ محض گپ شپ ہے مگر مجھے حیرانی ہوئی کہ اس نے اس دوران ایک بہت عقل کی بات بھی کی، بولا ’’ویسے بھی یار اب پاکستان پر حکومت کرنا کون سا کوئی آسان کام رہ گیا ہے دشمن نے ہمیں اندر اور باہر دونوں طرف سے گھیر لیا ہے، مجھے تو حیرت ان لوگوں پر ہے جو اب بھی حکومت میں آنے کے خواب دیکھ رہے ہیں‘‘۔
میں نےکہا’’پگلے بات تمہاری ٹھیک ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ اگر حکومت تمہارے حوالے کردی جائے تو تم سب حالات ٹھیک کردو گے کیونکہ تم چائے بہت اچھی بناتے ہو‘‘
اس پر بشیرا کھلکھلا کر ہنسا اور کہنے لگا’’تم بہت مخولئے ہو تم نے میری حکومت چلانے کی اہلیت کا کیا ثبوت تلاش کیا۔ ویسے جو لوگ حکومت پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں وہ اسی طرح کے دلائل پیش کرتے ہیں‘‘۔میں اس روز خاصے خوشگوار موڈ میں تھا چنانچہ میں چاہتا تھا کہ ہنسی مذاق کی یہ گفتگو اسی طرح چلتی رہے، سو میں نے اس بے معنی سی گفتگو کو طول دینے کے لئے اسے مخاطب کیا اور کہا’’تمہارا خیال ہے کہ تمہارے حکمران بننے سے لوگوں کے مسائل میں مزید اضافہ ہوجائے گا اور وہ بلبلا اٹھیں گے تو میری جان یقین جانو، کچھ نہیں ہوگا تم صرف لوگوں کے جذبات بھڑکانے والی تقریر کرنا سیکھ لو اور اس کے بعد دو چار تقریروں کے بعد آگے بڑھ کر حکومت ہتھیا لو!
میرا خیال تھا کہ اب وہ بھی یہ مذاق ختم کرنے کے لئے میرے ہاتھ پر ہاتھ مارے گا اور کہے گا’’چلو تم کہتے ہو تو تمہاری خاطر یہ کوڑا گھٹ بھرلیتا ہوں، لائو کدھر ہے حکمرانی مگر اس کی بجائے اس نے مجھے مخاطب کیا اور پوچھا’’تم جو مجھے حاکم بنانے پر تلے ہوئے ہو،آخر تم خود کیوں نہیں بن جاتے؟‘‘ میں نے محسوس کیا اب یہ مذاق مزید طول پکڑ جائے گا، ویسے بھی میں نے آگ تاپ لی تھی اور چائے پی چکا تھا چنانچہ میں نے جان چھڑانے کے لئے کہا’’بشیرے سچی بات پوچھو تو دل میرا بھی یہی چاہتا ہے کہ میں پاکستان کا حکمران بنوں،مگر کیا کروں،میری مجبوری یہ ہے کہ تمہاری طرح مجھے بھی تقریر کرنا نہیں آتی،کوشش کرکے تھوڑی بہت تو کر ہی کرسکتا ہوں مگر سچی بات یہ ہے کہ محض تقریر کافی نہیں، حکومت کا تختہ الٹنے کیلئے کمر پر ایک’’دست شفقت‘‘کی ضرورت بھی ہوتی ہے اور میں فی الحال اس سے محروم ہوں‘‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *