ایم کیوایم کی سیاسی خودکشی

sohail iqbal khan

حالات اورواقعات بعض اوقات،کچھ سخت،اور اہم فیصلے کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔یہ بھی حقیقی رخ ہے کہ،بعض اوقات حالات خود خراب کر کہ،اپنی لئے مشکلات کھڑی کی جاتی ہیں،ایسا ہی سب کچھ کزشتہ روز کراچی میں بھی ایم کی جانب سے دیکھنے کو ملا،ایک جانب تو صبح ایم کیو ایم رہنماوں کی ،وزیراعلی سندھ کے ساتھ ،بہترین ملاقات ہوئی،اور تمام معاملات کو پرامن،اور مل کر حل کرنے کا فیصلہ کیا گیا،لیکن دوسری جانب ،بھوک ہڑتال پر،الطاف حسین نے ایک ایسی تقریر کر دی کہ،وہاں موجود ایم کیوایم کے کارکن جوش میں آ کر،اپنے لیڈر کی کال پر،حالات خراب کرنے کی جانب چل دئے،الطاف حسین نے کہنے پر ہی،ایم کیو ایم کے کارکنوں کا،میڈیا ہاوسز پر حملہ،اور وہاں موجود عملے کو تشد د کا نشانہ بنایا گیا،ساتھ ہی ساتھ عام شہریوں کے لئے مشکلات پیدا کی گئیں ،اور گاڑیوں کو نظر آتش کر کہ،یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ،شائد ابھی بھی ایم کیو ایم ،اپنی بات منوانے کے لئے،کسی حد تک جا سکتی ہے،اور کراچی کے حالات کو تبدیل کر سکتی ہے۔ الطاف حسین کا خود یہ ہی پلان تھا،کہ حالات کو خراب کیا جائے،اور کراچی میں ایک بار پھر ایم کیو ایم کی اس دہشت کو دوبارہ زندہ کیا جائے،جو پہلے کراچی میں موجود تھی۔لیکن الطا ف حسین کا یہ پلان اب فیل ہوتا دیکھائی د ے رہا ہے۔کیونکہ اس تمام واقع کے بعد،ملٹری حکام کی جانب سے یہ ہی فیصلہ کیا گیا کہ،اب مزید مہلت نہیں دی جائے گی،اور ایم کیو ایم کے رہنماوں کو ،گرفتار کیا جائے گا۔اور ایسا ہی ہوا،رات کو ،فاروق ستار،کو پریس کانفرنس سے روک کر،گرفتار کر لیا گیا،یہاں تک کہ فاروق ستار ،کا یہ ہی اظہار تھا،کہ وہ اپنا موقف میڈیا کے سامنے رکھیں،لیکن ایسا نہیں کرنے دیا گیا۔اور ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی،فاروق ستار کی گرفتاری کے ساتھ ساتھ،ایم کیو ایم کے دیگر رہنماوں سمیت،عامر لیاقت کو بھی گرفتار کیا گیا،اور نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔اس کے بعد باری آئی،نائن زیرو کی،جہاں رات کو رینجرز کی بھاری نفری پہنچ گئی،اور نائن زیرو کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا،جہاں سے رینجرز کو ،اسلحہ بھی برآمد ہوا،جو میڈیا کے سامنے بھی پیش کیا گیا۔اس وقت ایم کیو ایم کا نائن زیرو بھی رینجرز کی طویل میں ہے،اور ساتھ ہی ساتھ ایم کے ذیلی دفاتر سمیت،ایم کیو ایم کی آفیشل ویب سائٹ بھی بند کر دی گئی ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ،ان تمام تر کاروائیوں کے بعد کیا،ایم کیو ایم کے رہنماوں کو مختصر تحقیقات کے بعد چھوڑ دیا جائے گا،کیا ایم کیو ایم کے دفاتر،نائن زیرو کو دوبارہ کام کرنے دیا جائے گا۔یہ وہ ہی سوال ہیں جو گزشتہ روز کے حالات کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔الطاف حسین کی جانب سے گزشتہ روز کی تقریر میں ،پاکستا ن مخالف نعرے لگانے ،اداروں کو گالیاں دینا،اورحالات خراب کرنے کے پیغام کے پیچھے،کچھ ایسی باتیں ہیں ،جو اس وقت الطاف حسین کو شدید ،پریشانی میں مبتلا کئے ہوئے ہیں۔
اس وقت نہ تو الطاف حسین کی تقریر کو پاکستانی ٹی وی چینلز پر نشر کیا جاتا ہے،اور نہ ہی قومی اخبارات میں کوئی خبر دی جاتی ہے۔بس ان کی تقریر کو ایم کیو ایم کے کارکن ،اور پھر ان کی ویب سائٹ پر ڈال دی جاتی ہے،جس پر ان کو شدید غصہ ہے،کہ ان کے خیالات،پیغامات کو عام لوگوں تک کیوں نہیں پہنچایا جاتا ہے۔اگرچہ ان کا پیغام ان کے کارکنوں تک پہنچ جاتا ہے،لیکن الطاف حسین کے لئے آج کل یہ بھی پریشانی ہے کہ،کارکنوں ،اور ایم کیو ایم کے ووٹرز کی تعداد دن بدن کم سے کم تر ہوتی جا رہی ہے۔جہاں پہلے الطاف حسین کی تقریر سننے کے لئے ،ہزاروں کارکن ہوا کرتے تھے،اب تین ،چار سو،کارکن موجود ہوتے ہیں۔دوسری جانب الطاف حسین کے لئے یہ بھی پریشانی ہے کہ ،اس وقت سیکورٹی ادارے،پاک فوج کے سربراہ بھی الطاف حسین کی بات سننے کو تیار نہیں ہیں،ماضی میں وہ وقت بھی تھا جب الطاف حسین کی بات کو سنا جاتا تھا،اور ساتھ ہی ساتھ وہ اہم فیصلوں میں شامل بھی ہوا کرتے تھے،اگرچہ الطاف حسین نے پاک فوج کے سربراہ کے حوالے سے بہت تعریفی بیانات بھی جاری کئے ،لیکن بات نہیں بنی،موجودہ جاری کراچی آپریشن بھی ،الطاف حسین کی بڑی پریشانیوں میں شامل ہے،جس قدر ایم کیو ایم کے مسلحہ افراد کو گرفتار کیا گیا،اورکراچی کے بہت سے علاقوں کو ،نو گو ایریا سے آزاد کرایا گیا،وہ بھی سندھ رینجرز کی بڑی کامیابی ہے۔مجھے ذاتی طور پر یہ ہی لگتا ہے کہ،اس وقت الطاف حسین شدید پریشانی میں مبتلا ہیں،تب ہی وہ کبھی پرامن ہڑتال ،احتجاج کی کال دیتے ہیں،اور کبھی کراچی میں جلاو گھیراو کی کال دے کر حالات خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔حقیقت تو یہ ہی ہے کہ،اس وقت کراچی کسی بھی احتجاجی سیاست،اور خراب حالات کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے،ہمارے سیکورٹی ادارے ،اپنی جانوں پر کھیل کر،کراچی کے حالات کو درست کر رہے ہیں،تو دوسری جانب اگر کوئی سیاسی جماعت ایسے حالات کو خراب کرے ،اس کی اجازت کبھی بھی نہیں دی جا سکتی ہے۔گزشتہ روز کے تمام حالات کو دیکھ کر،اور ایم کیو ایم کے رہنماوں کی گرفتاریوں کے بعد میرے ذہن میں یہ ہی سوالات پیدا ہو رہے ہیں،کہ کیا،اس بار ایم کیوا یم نے سیاسی خود کشی کی ہے۔کیونکہ حکومت ،اور ملٹری کی جانب سے تمام تر مہلت ملنے کے باوجود اگر حالات کو خراب کیا جائے،اور امن سے کھیلا جائے،تو پھر کوئی مہلت بھی باقی نہیں رہتی ہے۔دوسری جانب مجھے ،پاک سرزمین کے مصطفی کمال کی باتیں بھی سچ ہوتی دیکھائی دیتی ہیں،ان کا گزشتہ روز کی پریس کانفرنس میں بھی یہ ہی کہنا تھا ،کہ الطاف حسین اس وقت بھی لاشیں چاہتے ہیں،اور ان کی پریشانی دن بدن بڑھ رہی ہے،جس کی وجہ سے وہ اپنے کارکنوں کو ایسے پیغاما ت دے کر ،اشتعال دلا رہے ہیں۔میرا ایک سوال ایم کیو ایم کے رہنماوں سے بھی ہے کہ،کیا جب ایم کیو ایم کارکن اشتعال میں آئے،کیا آپ میں سے کسی نے بھی ،ان کو روکا،ان کو حالات کو خراب نہ کرنے کا کہا گیا،نہیں؟ تو اس کا یہ ہی مطلب آپ بھی ان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں،آپ بھی یہ ہی چاہتے تھے ؟ ۔
لیکن میرا سوال ایک اور بھی ہے،اب تک الطاف حسین کے خلاف پاکستان میں کتنے مقدمات درج ہو چکے،ایک مقدمہ گزشتہ روز درج کیا گیا،اس حوالے سے برطانیہ کی پولیس بھی تحقیقات کررہی ہے،اور ساتھ ہی ساتھ پاکستان میں بھی الطاف حسین کے خلاف واضح ثبوت ہیں۔لیکن آج تک کیوں نہیں حکومت کی جانب سے،برطانیہ پولیس کو یہ خط لکھا گیا کہ،ایک برطانوی شہری کیوں پاکستان میں اشتعال انگیزی پھیلا رہا ہے،کیونکہ نہیں اس کے خلاف کاروائی کی جاتی ہے،کیوں نہیں اس ثبوتوں کو سامنے رکھ کر ،کیس کو چلایا جاتا۔اب ،صرف بیانات کی حد تک کام نہیں چلے گا،اب عملی کام کرکہ ہی کراچی کے امن کو بچایا جاسکتا ہے۔کیونکہ ہمارے اولین ترجیحات میں پاکستان ہی ہونا چائیے،کسی بھی فرد کے کوئی مہلت نہیں ہونی چائیے،جو پاکستان کو برا کہے،جو پاکستان کے حالات کو خراب کرنے کا پیغام دے۔اب سوال تو یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ،ہزاروں پاکستانیوں کی برطانوی پولیس کو کالز کرنے پر،کیا برطانوی پولیس الطاف حسین کے خلاف کاروائی کرے گی۔اور دوسری بڑا سوال کہ اگر رینجرز احکام ،ایم کیو ایم کے رہنماوں کو چھوڑ بھی دیتے ہیں،تو کیا ،ان کو اس حوالے سے بیان دینے ،اور اپنا موقف دینے کی اجازت ہو گی۔یہ وہ ہی سوالات ہیں،جن کے جوابات اگلے کچھ روز میں مل جائیں گے۔میری ذاتی رائے یہ ہی ہے کہ موجودہ حالات میں ،کسی بھی سیاسی جماعت ،اور اس کے کارکنان کو کبھی بھی یہ اجازت نہیں دی جا سکتی ہے کہ وہ حالات خراب کریں،اشتعال انگیزی پھیلائیں۔جو حالات خراب کرے،اس کے خلاف ہر صورت کاروائی ہونی چائیے۔دوسری جانب رینجرز کو سلام ،جن کی بھرپور کوششوں سے،اعلی صلاحیتوں کی وجہ سے ،آج کراچی مکمل طور پر کھلا ہوا ہے،تمام حالات معمول کے مطابق ہیں۔بے شک یہ رینجرز کی اعلی کامیابی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *