کوریا کے لوگ شادی سے کیوں گھبراتے ہیں؟حیرت انگیز تحقیق

korian

ایسا لگتا ہے کہ کوریا میں اس سال کم شادیاں اور کم بچوں کی پیدائش ہو گی۔ یہ ایک ایسا اقدام ہو گا جس سے ملک کی اکانومی پر قابل توجہ اثر دیکھنے میں ملے گا۔ اعداد و شمار کے مطابق 2016 کے پہلے پانچ ماہ میں ہونے والی شادیاں اور بچوں کی پیدائش کی اوسط پچھلے 16 سال کے سب کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ یہ اعدادو شمار گورنمنٹ کو پیش آنے والے چیلینج کو سامنے لاتے ہیں جو گرتی ہوئی پیدائش کی سطح کو اوپر لانے کے لیے پچھلی دہائی میں 80ٹرلین وان یعنی 72 ملین ڈالر کے خرچ کا باعث بن چکے ہیں۔ وزیر اعظم ہوانگ کیو اہن نے اس ماہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک میں ایسی مشکلات کا سامنا ہے جو ملک کی طویل المدتی اکنامک گروتھ کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔

بہت سے جوان کورین شہری یہ سمجھتے ہیں کہ شادی کرنا اور بچے پیدا کرنے کے لیے ان کے مالی حالات مناسب نہیں ہیں۔ اس میں جو سب سے بڑی رکاوٹ انہیں نظر آتی ہے وہ رہائشی اخراجات ہیں۔ ریکارڈ حد تک کم شرح سود جو اکنامک گروتھ کو بڑھانے کے لیے مقرر کی گئی تھی اب پراپرٹی کی قیمت میں حد درجہ اضافہ کا باعث بن چکی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بے روزگاری کی شرح بھی 9.2فیصد تک پہنچ چکی ہے  جو پچھلے 15 سے 29 سالوں کے مقابلہ میں دوگنا ہے۔

" اس سے قبل کی پالیسی یہ تھی کہ عورتوں کی شادیاں کروائی جائیں تا کہ زیادہ بچے پیدا کیے جا سکیں  لیکن اب جو مسئلہ درپیش ہے وہ یہ ہے کہ بے روزگار کی وجہ سے بہت سے نوجوان شادی اور خاندانی زندگی کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے۔ "یُو جِن سنگ جو کوریا اکنامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ریسرچ فیلو ہیں نے بتایا۔ "جوانوں کی بے روزگاری کا مسئلہ شادی کی عمر بڑھانے کا سبب بن رہا ہے جس عمر میں لوگ شادی کر کے یہ فیصلہ کرتے ہیں انہیں کتنے بچے چاہییں۔ اس شادی کی عمر میں اضافے کے بعد بچوں کی پیدائش کی اوسط متاثر ہو رہی ہے۔ "

عورتوں کا بھی خیال ہے کہ ساؤتھ کوریا کے کارپوریٹ کلچر نے کام کرنے والی ماؤوں کے لیے مسائل پیدا کر دیے ہیں جس کی وجہ سے بہت سی عورتیں شادی  اور بچے پیدا کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہیں۔ اعداد و شمار کا یہ سلسلہ ریورس کرنا اب ترجیحی بنیادوں پر زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔ اگلے سال ملک کو دو ناپسندیدہ سنگ میل عبور کرنے ہوں گے۔ ورک فورس کم ہونا شروع ہو جائے گی اور 65 سال سے زیادہ عمر کے لوگ 14 سال سے کم عمر لوگوں سے تعداد میں زیادہ ہو جائیں گے۔ ہنڈائی ریسیرچ انسٹیٹیوٹ کے اندازے کے مطابق اگر حکومت نے بروقت کاروائی نہ کی تو اکانومی کا پوٹینشن گروتھ ریٹ 2026 سے 2030 تک 2 فیصد گِر جائے گا۔ اعداد وشمار میں کمی پہلے سے ہی طے شدہ  معلوم ہوتی ہے۔حکومت کے سرکاری اعداد کے مطابق  2030 تک 20 سے 30 سال کی عمر کی عورتیں جو 2010 میں 7.3 ملین تھیں کم ہو کر 5.5 ملین رہ جائیں گی۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *