برائے مہربانی کوئی اگر مگر نہیں!

عباس ناصرabbas nasir

کئی روز سے جاری دو احتجاجوں کی بلاتعطل کوریج سے تخلیق کردہ جوش، تاحالاس صورت حال کے خاتمے کا کوئی اشارہ نہیں دے رہا۔ہم صورت حال کے تفصیلی مطالعے کے قابل نہیں ہیں کیونکہ جس وقت یہاں دو بڑے مارچ جاری ہیں، اس وقت ہمیں اور بھی بہت سے معمول کے کام کرنے ہیں، بشمول ان کے، جن کا ہم نے اعلان نہیں کیا۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے یہ کہتے ہوئے احتجاج شروع کیا تھاکہ وہ انتخابی دھاندلیوں کی شفاف تحقیقات اور ان کو سزا دلوانا چاہتے ہیں جو اس عمل میں شریک ہوئے، اور انتخابی اصلاحات کو مزید بہتر بنانا چاہتے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ کوئی بھی صحیح الدماغ شخص، ان مطالبات میں کوئی خرابی نہیں دیکھتا تھابلکہ تمام جمہوری جماعتوں کو انہیں تسلیم کرنا چاہئے تھااور اصلاحات کی جانب قدم اٹھانا چاہئے تھا تاکہ اگلا انتخابی مرحلہ اتنا ہی بعید از کار ہوتا جتنا کہ شایدپاکستان سے ہندوستان میں داخلہ۔ مگر ان مطالبات کو تسلیم نہ کیا گیا۔
حکمران ن لیگ اسے ایک سیاسی مسئلے کے طور پر دیکھنے میں ناکام رہی اور اس مسئلے سے اس طرح ڈیل کرنے کی کوشش کی کہ جیسے یہ محض اور محض عدالتوں کے حل کرنے کا مسئلہ ہو۔ گویا ان کا طریقہ اس مسئلے سے جان چھڑانے یا اسے نظر انداز کرنے والا تھا۔ اسے آپ میاں صاحب کی سخت مزاجی، انا یا ضدکہہ سکتے ہیں لیکن عمران خان نے ایسے کسی رویے کا مظاہرہ نہ کیا۔
مزید وقت گزرتا گیا اور انتہائی ناراض خان نے مطالبات کی اپنی ابتدائی فہرست میں مزید غیرمناسب مطالبات شامل کرلئے۔ اب وہ چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم مستعفی ہوں۔ اسمبلیاں ختم ہوں، انتخابی اصلاحات ہوں اور پھر نئے انتخابات ہوں۔
مزید یہ کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد جو عمران کے ساتھ احتجاج رہی ہے، عمران کے نظریے کی حمایت کر چکی ہے۔ کرکٹ کے سابق کپتان کیلئے یہ لازمی ہے کہ واضح طور پربتائے کہ وہ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے کونسا طریقہ تجویز کرتا ہے، کیونکہ کم از کم آئین تو اس سب کے لئے کوئی لائحہ عمل فراہم کرتا نظر نہیں آتا، جس کی کپتان تجویز دے رہا ہے۔سوائے اس کے کہ نواز شریف اور وہ لوگ جو سندھ اور بلوچستان میں حکومت کر رہے ہیں، خان کے ساتھ متفق ہو جائیں، اور اپنی موت کے احکامات پر خود دستخط کر دیں۔
تمام جماعتیں موجودہ حالات کا حل نکالنے کیلئے ماورائے آئین اقدامات کی کھلم کھلا مخالفت کر چکی ہیں۔ حتیٰ کہ ڈاکٹر قادری، اس پورے نظام کو گرا دینے کا مطالبہ کرنے کے باوجود، ان آئینی شقوں کا حوالہ دیتے رہتے ہیں، جن پر ایک رکن اسمبلی کو پورا اترنا چاہئے اور وہ یہ بھی کہتے رہتے ہیں کہ اس وقت فوجی مداخلت کا کوئی خوف نہیں ہے۔
بلاشبہ، خود فوج نے بھی اس بات کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے کہ وہ اس گھمبیر اور آلودہ صورتحال میں داخل ہونے کا کوئی ارادہ رکھتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ فوجی قیادت حکومت کے کچھ مخصوص فیصلوں سے نا خوش ہو لیکن عہد حاضر کی آنکھ سول ملٹری تعاون ہم آہنگی ہی کو دیکھ رہی ہے۔
پس کیا آپ اس تجزیہ نگار سے بڑھ کر کسی کو مہلک قرار دے سکتے ہیں کہ جو فوج کو اس صورتحال کا احساس دلانے کی کوشش کر رہا ہو؟ دو مرکزی رہنماؤں کے متصادم اور پریشان مؤقفوں کے علاوہ، کئی دیگر سیاسی بونے بھی ہیں کہ جو اپنا راستہ کسی کی پیٹھ پر سوار ہو کر طے کرنے کی کو شش کر رہے ہیں اور از سر نو سٹار بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان میں سب سے آگے شیخ رشید ہیں۔گزشتہ تمام دور حکومت کے دوران شیخ صاحب نے فوج کو مداخلت نہ کرنے پر کوسا۔ لیکن اب وہ خود کو ان مطالبات تک محدود نہیں رکھنا چاہتے۔ شیخ صاحب کی زندگی میں راولپنڈی کے حلقے سے باہر عوامی حمایت کی کمی ہے، وہ یہ کمی عمران اور قادری کی مدد سے پوری کررہے ہیں۔جمعرات کے دوپہرکے کھانے تک اگر دونوں مارچ چند میل کے فاصلے پر تھے تو سب کو یقین تھا کہ ایسا اس لئے تھا کہ شیخ صاحب نے ان دونوں کو ملانے کی کوشش ہی نہیں کی تھی۔
اور اگر کسی نہ کسی طرح پرجوش سیاسی کارکنان کے درمیان تصادم حکومت کے عدم استحکام اور پنجاب بھر میں گلی گلی لڑائیوں میں اضافہ نہیں کرتا تومیں شرط لگاتا ہوں کہ شیخ صاحب کو مایوسی ہو گی۔
اب گجرات کے چودھریوں سے بڑھ کر کون ہو گا جو ”تیسری قوت“ کو اپنی ساکھ کی بحالی میں مدد کیلئے آتا دیکھ کر خوش ہو گا؟انہوں نے جنرل مشرف کے تحت بالکل اسی طرح پرورش پائی جس طرح ان کے سابق ”شریف“ دوستوں نے جنرل ضیاء کے تحت پائی تھی۔
بہرحال، چودھریوں نے، شیخ رشید کی طرح، کبھی فوجی حکومت یا مداخلت کے خلاف کھل کر بات کرنے کی جرأت نہیں کی کیونکہ وہ اچھی طرح طرح جانتے ہیں کہ ضیاء کی حمایت اور مشرف کی مخالفت کے نتیجہ میں شریفوں کے حاصلات اور نقصانات برابر برابر ہو چکے ہیں اور وہ جلا وطنی یا قید وبند نہیں چاہتے۔۔۔۔بہرحال، یہ ہیں چند کلیدی کردار جواس وقت احتجاجی رہنماؤں کو مشاورت/رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔
مارچوں کو مٹی سے بھرے اور بھاری بھر کم کنٹینروں سے روکنے کی کوشش کرنے کے بعد، جب حکومت نے تمام رکاوٹیں ہٹانے کا فیصلہ کیا اور مارچوں کو آزادی سے سفر کرنے کی اجازت دی تو یہ امید پیدا ہو گئی کہ کسی نہ کسی طرح یہ حکومت اور عوامی تحریک کے درمیان کسی ڈیل کا نتیجہ ہے۔امید یہ تھی کہ ایسا کوئی معاہدہ انتخابی اصلاحات پر مبنی ہو گا۔حالیہ عوامی سروے سے ظاہر ہوا تھا کہ انتخابی اصلاحات کے مطالبے پر ملک بھر میں 80فیصد سے زیادہ اتفاق پایا جاتا ہے۔
ہمیں امید تھی کہ احتجاجی جمع ہوں گے تو مقالمہ بھی شروع ہو جائے گا اورایک بار اصلاحات کے لائحہ عمل پر اتفاق اور اعلان ہو گیا تو پھر وہ اپنے پر امن احتجاج کو اس لائحہ عمل کے آغاز اور اس کی سرعت کے سبب کے طور پر استعمال کر چکنے کے بعد،فاتحانہ انداز میں منتشر ہو جائیں گے۔
درحقیقت، اس مطالبے نے اگرچہ زیادہ توجہ حاصل نہیں کی لیکن طاہرالقادری کے قریبی ذرائع کہتے ہیں کہ اگر انہیں یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ حکومت ایک مسلمان مکتب فکر کی جانب اپنے مبینہ جھکاؤ پر از سر نو غور کرے گی تو قادری شاید لچک دکھانے پر آمادگی ظاہر کریں۔
یہ سب اندازے ہیں۔ اگلے چند روز میں صورتحال میں شاید کوئی بڑی اور غیر یقینی تبدیلی آئے گی لیکن اگر احتجاج کرنے والوں کے مرکزی قائدین اپنے پر امن احتجاج کے وعدے پر قائم اور مذاکرات کے دروازے کھلے رکھتے ہیں اوران فتنہ انگیز جاسوس ایجنٹس کے مطیع نہیں بنتے تو پر امیدی فوت نہیں ہو گی۔
اس ہنگامے میں موجود کسی بھی دوسرے کھلاڑی کی نسبت ن لیگ کے پاس کھونے کیلئے سب سے زیادہ مطاع ہے۔ لہٰذا ہمیں ایک بہتر احساس کے فروغ کی امید کرنی چاہئے۔ ن لیگ کو صاف ذہن کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے کیونکہ جمہوری اقدار یہی کہتی ہیں اور اگر مگر، لیکن ویکن پر تکیہ نہیں کیا جانا چاہئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *