دل پُکارے ۔۔۔

ali raza ahmed

چوہے کبھی دوسرے جانوروں کی طرح لڑ لڑ کر نہیں مرتے یہی وجہ ہے کہ ان کی آبادی دنوں میں بڑھتی جاتی ہے بلکہ وہ تو مزاق میں بھی ایک دوسرے پر فقرہ چست نہیں کرتے کیونکہ ان کے بڑے انہیں بچپن ہی سے سمجھایا کرتے ہیں کہ اوہ چوہو !’’ انسانوں کی طرح رہا کرو‘‘اس لئے انسانوں کے لئے تیار کی جانے والی ادویات کے تجربات ’’ان ‘‘ پر باآسانی کر دیے جاتے ہیں مگر شاید وہ انسانوں کی طرح ایک دوسرے پر ایسے فقرے بھی نہیں کستے ہوں گے ’’ یہ وہ بھٹی ہے جس کی چالو بھٹی ہے‘‘ اور دوسرا اس کے جواب میں کہے کہ’’ یہ وہ رانا ہے جس کا سارا تھانہ ہے‘‘
واشنگٹن میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق نر چوہے اپنی مادہ کو بلانے کے لئے، بجائے صیغہ واحد حاضر کے استعمال کے، گانا گاتے ہیں ۔برصغیر میں بننے والی فلموں میں گانے آمیزش کا خیال پتا نہیں ہدایات کار کو کس بل میں گھس کر آیالیکن دور حاضر کے سائنسدانوں کے مطابق چوہے اپنی چوہیا کو اپنے پاس بلانے کے لئے بے ہنگم اور پینڈو پکار کی بجائے موسیقی سے مامور سریں لگاتے ہیں ماہرین نے ان آوازوں اور گیتوں کا موازنہ ان پرندوں سے کیا ہے جو ایک رِدہم اور ترتیب میں تھے اس پچ کو جب سلو موشن میں چلایا گیا تو وہ ایک مکمل گیت کی صورت سامنے آیا۔ ذرائع کے مطابق چوہا جب جوانی میں اپنا قدم رکھتا ہے تو وہ کاغذ کترتے کترتے ،کان کترنا بھی شروع کردیتا ہے لیکن کسی سپائسی ناول کے قریب بھی نہیں جاتا۔ اگر مادہ دسترس سے کافی دور ہو تو اونچے سروں والا گانا شروع کردیا جاتاہے۔ہو سکتا ہے گیتوں کی ایک کیسٹ سنانے کے بعد بوڑھا چوہا اپنی چوہیا سے مایوس ہو کرتین چار مندے بھی اسی ’’لے ‘‘میں سنا دے مگر ان سائنسدانوں کی صحت پر کیا فرق پڑتا ہے انہیں کیا معلوم یہ گالی تھی، گنتی تھی یا گانا... ہیرونما چوہے اپنی ہیروئن کومترنم آواز میںیہ گانا بھی سناتے ہوں گے ’’ آ جا آجا رے تجھ کو میرا پیار پکارے‘‘اور چوہا ذرا ادبی سوچ رکھتا ہو تواس کا اندازیقیناًمختلف ہو تا ہوگا اور وہ’’ دل پکارے آ رہے آ رہے آرہے ‘‘ کی دھیمی لے لگاتاہو گا...کسی ماہر نے اپنی تحقیق میں یہ واضع نہیں کیا کہ کیا مادہ بھی اپنے مادھو کو بلانے کے لئے کسی قسم کے گیت کا سہارا لیتی ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ نَرکسی دوسری جگہ قسمت آزما رہا ہو تو وہ یقیناًدوسری آواز پر کان دھرنے کا نہیں، مگر مادہ کبھی ایسا گانا نہیں گائے گی کہ لوٹ کے آ ... لوٹ کے آ ’’آلوٹ کے آجا میرے Rat تجھے میرے گیت بلاتے ہیں‘‘
ہو سکتا ہے کہ کوئی چوہیا یہ بڑ مارے اور سریلے انداز میں کہے کہ میرے والابڑی بھاری آواز میں گاتا ہے لگتا ہے کہ کوئی پہلوان ریاض کر رہا ہے۔پوش علاقے کی چوہیا کسی چوہے کو دیکھ کر ملہار میں کہتی ہو گی تمہارا miceبڑا نائس ہے !!! یہاں ایک بات اہم ہے کہ اگر کسی چوہے کا گلا بیٹھا ہو تو وہ آرام سے بیٹھنے کو ہی ترجیح دیتا ہو گا کیونکہ اپنی جگہ کسی دوسرے کلاکار سے مدد لیتے ہی اسے سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔یہ مخلوق اپنے کام کوانجام تک پہچانے کے لئے اچھی سے اچھی دھنیں بناتی ہو گی تاکہ رقیب کا منہ بنا رہے چنانچہ بپی لہری قسم کے چوہوں کی ان کے ہاں بڑی قدر ہو گی اورموسیقی بھی ہر دفعہ نئی بنائی جاتی ہوگی ورنہ اس کے چربے سے کوئی دوسرا فائدہ اٹھا جاتا ہو گا۔اگر بغور دیکھا جائے تو چوہے ایک ہی تھیلی اور تھان کے چٹے بٹے نظر آتے ہیں اور ان سب میں سے وہ اپنا کیسے تلاش کرتے ہیں اس مسئلے کا حل کسی سائنسدان کے پاس ہی ہو گا۔اگران کے گانے والی بات صحیح ہے تو چوہوں کے یقیناًڈسکو بینڈ بھی ہوں گے اورڈی جے بھی۔ڈیوڈ ملی بینڈ کے گھر میں پلے چوہے تمام چوہوں کے سرخیل قرار پاتے ہوں گے۔اگر اس کے گھر کا کوئی گوریلا نماگلوکار چوہا b technocRat بننے کی کوشش کرے تو بات اوپر کے تیور سروں تک جاتی ہو گی۔لندن میں ایک آدمی سٹور میں داخل ہوا اور اس نے ربڑ کا ایک چوہا خریدا اور گھر کو روانہ ہوا راستے میں جگہ جگہ سے دوسرے چوہے بھی اس کے کورس میں شامل ہوتے گئے اس نے ان سب کو دریا میں ڈبو دیا اور جلدی سے واپس جا کر سٹور والے سے دوبارہ گویا ہوا’’کیا آپ کے پاس کوئی ربڑ کا نریندرمودی بھی ہے؟‘‘کلاسیکی موسیقی کے لئے استاد کی ضرورت ہوتی ہے اورپاپ میوزک کے لئے’’ کوچ‘‘ کی۔ا گر چوہیا کی سماعت کمزور ہو تو چوہا گا گا کر لازمی گلے سے ہاتھ دھو بیٹھے گاپھر اسے گا کر نہیں بلکہ ہاتھ دھو کر ریہرسل کرنا ہو تا ہو گا۔ ہو سکتا ہے اچھی تان لگانے کے لئے وہ اپنے کسی استاد کی خدمات بھی لیتے ہوں جو اپنے پلے سے مزیدلمبی تان لگا کر انہیں دیتا ہواور انہیں ان کی اداسی سے چھٹکارہ دلانے کی کوشش کرتا ہو۔زیادہ سریلاچوہا اپنی مادہ اور میوزک سے یکساں محبت کرتا پایا جاتا ہو گا اور کئی دفعہ رنگے ہاتھوں پکڑا بھی جاتا ہو گا۔ان کے اپنے ہسپتال اور میڈیکل Rat اور ایک رنگا رنگ دنیا ہو گی جہاں ان کے ’’ریٹری‘‘ جمخانہ اور میوزک کلب بھی ہوتے ہوں گے اور ان کی بھلائی کے لئے NGOsبھی جہاں یہ ’’جیون کے دن چھوٹے سہی ہم بھی بڑی دُم والے‘‘ ... کل کی ہمیں فرصت کہاں سوچیں جو ہم متوالے‘‘ اور ’’سوموار کو ہم ملے منگل وار کو نین‘‘ کے نغمے بکھیرتے ہوں گے ۔پھر تھک ہار کر وہ کش لگانے کے لئے ایسی دوکان کا رخ کرتے ہوں گے جہاں لکھا ہوتا ہے’’ سیگ Rat‘‘ بلی سے ڈرنے والا چوہا’’ کیٹی پیری‘‘ کا گانا سنتے ہی بھاگتا ہوگااور اپنے دفاع کے لئے ایسے پہلوان یا ’’Ratler‘‘ کی خدمات حاصل کرتا ہوگاجو اپنے ہی hitسانگ سے بلی کو زخمی کر دے۔ کچی آبادی کے چوہوں کا کانوں میں رس گھولنے کا انداز یقیناًمختلف ہو گا ویسے جہاں یہ ہوں یہ اپنے ’’ ماہیوں اورٹپوں‘‘ سے ہر علاقے کو کچی آبادی بنا سکتے ہیں ۔ان میں سے کوئی بڑا فنکار اپنی بل کو بانسری کے ڈیزائین کی طرح مزین کرتا ہو گا اور دوسوراخ رکھنے والا بلی سے زیادہ چالاک دکھائی دیتا ہو گا مگر دوسری طرف کام چور چوہے کا بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے کے علاوہ کوئی مطالبہ نہیں ہوتا ہو گا۔ برصغیر میں جب ٹاکیز فلمیں بننا شروع ہوئیں تو اس میں موجود بنگلہ فنکاروں نے گانا فلمانے کی روایت ڈالی کیونکہ اس زمانے میں بھی ان کے کانوں میں یہ بات پڑی ہو گی کہ جانور بھی اپنے اردگرد کے حالات کے مطابق گنگنا کراپنی مادہ کو وائس میسیج میں بھی تان لگاتے ہوں گے۔ایک بڑے کلاکار کے شاگرد نے استاد سے کہا کہ آج کل ریاض نہیں ہو رہا لہذا اسے دَم کیا جائے چنانچہ انہوں مغلائی ’’رِدہم ‘‘ میں ایسا دَم کیا کہ آناً فاناًریاض شروع ہو گیاحتی کہ وہیں شاگرد کے ناک میں دم بھی کر دیا گیا... چوہوں کے ایک ایسے ہی میوزک کنسرنٹ کے لئے بھرتی کا مختصر اشتہار یوں دیا گیا ۔’’صرف 36 انچ قد کے’’ ماڈ Rat‘‘ چوہے ہی اہل ہوں گے۔ کمپیوٹر اور UPSکترنے کا تجربہ رکھنے والوں کو فوقیت اور صوفے میں رہائش دی جائے گی نیز لمبے دانت، دُم اور دماغ والوں کو اٖضافی سہولتیں دی جائیں گی... نوٹ :زیادہ سریلوں کو چوبیس گھنٹے کچن میں ڈیوٹی اوردہی میں چھلانگ لگاکر چھینٹ سے چھینٹ بجانے کا موقع بھی دیا جائے گا‘‘ ۔ ایک میوزک روم میں لکھا تھا:یہاں پر گلے میں جان کے لالے ڈال کر گھومنے کی اجازت نہیں۔ گلہری بھی انہیں کا خاندان ہے لیکن قدرت نے اسے اچھا لباس پہنا رکھا ہے اور گلا بھی اچھا دے رکھا ہے۔ When cat is away Mice will play ضرب المثل کے مصداق چوہے خوشی میں جتنا مرضی اچھل کود کر سیٹیاں بجا رہے ہوں مگر بلی کو دیکھ کر ان سٹی گم ہو جاتی ہے...سائنسدانوں کو چاہیے کہ ایک ایسا سونگ ٹریپ تیار کرے جو چوہوں کو پکڑ نے میں مدد گار ہو سکے !!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *